54 سال بعد یوٹیلٹی اسٹورز ختم، وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی
اسلام آباد (نمائندہ چترال ٹائمز ) ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز ختم ہو گئے وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو ختم کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد 54 سال بعد ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کا حتمی طور خاتمہ ہو گیا۔وفاقی کابینہ کے اس منظوری کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے تمام ملازمین بھی فارغ ہوں گے۔اس سے قبل یوٹیلٹی اسٹورز گزشتہ ماہ 31 جولائی کو بند کر دیے گئے تھے اور وزارت صنعت وپیداوار نے یوٹیلٹی اسٹورز بند کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا تھا۔یوٹیلیٹی اسٹورز وزیراعظم شہباز شریف اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد بند کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن 1971 میں قائم کی گئی تھی۔ جس کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کو اشیا خورو نوش کی قیمتوں میں ریلیف دینا تھا۔ابتدا میں ملک میں صرف 20 اسٹور کھولے گئے تھے، جو اسٹاف ویلفیئر آرگنائزیشن نامی تنظیم سے حاصل کیے گئے تھے۔ تاہم نصف صدی کے دوران ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گئے۔ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں چار ہزار سے زائد یوٹیلٹی اسٹورز قائم تھے اور مجموعی طور پر 17 ہزار ملازمین کام کر رہے تھے۔
………………..
وزیراعظم ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر برہم، سمری واپس کر دی
اسلام آباد (سی ایم لنکس) وزیراعظم شہباز شریف نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سمری واپس کر دی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے تعین کے لیے سمری وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی، جس پر وہ برہم ہو گئے۔وزیراعظم نے موجودہ حالات میں دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور دواؤں کی نئی قیمتوں کے تعین کے لیے منظوری کے لیے پیش کی گئی سمری بغیر دستخط کیے واپس کر دی۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سینیٹ میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا اور بتایا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں من مانی کرتے ہوئے ہوشربا اضافہ کر رہی ہیں۔دوسری جانب ادویات کی قیمتوں میں ہر ماہ خودساختہ اضافے کا انکشاف سامنے آیا ہے اور حکومت کی جانب سے میڈیسن کی قیمتیں ڈی کنٹرول کرنے کے بعد ادویات بنانے والی کمپنیوں نے من مانی قیمتوں کا تعین شروع کردیا ہے، جس کے باعث ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔دواؤں کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
