The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 18 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دیر کوہستان اور اخون سالاک: ایک تاریخ ساز داستان ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

دیر کوہستان اور اخون سالاک: ایک تاریخ ساز داستان ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

دیر کوہستان اور اخون سالاک: ایک تاریخ ساز داستان ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

دیر کوہستان اور اخون سالاک: ایک تاریخ ساز داستان ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

دیر کوہستان، جہاں فلک بوس پہاڑ برف کی چادر اوڑھے کھڑے ہیں اور وادیاں صدیوں پرانی کہانیاں اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہیں، ایک ایسا خطہ ہے جس نے وقت کی گردش میں کئی تہذیبوں کو اْبھرتے اور مٹتے دیکھا۔ یہاں کی فطرت، اس کے باشندوں کی زندگی کا محور تھی۔ مقامی رسوم، لوک کہانیاں، اور اجتماعی طرزِ حیات ایک ایسی تہذیب کی نمائندگی کرتے تھے جو کتابی مذاہب سے دُور، مگر اپنی روحانی اساس میں گہری جڑیں رکھتی تھی۔ انہی پہاڑوں میں راج میر نامی ایک رہنما اُبھرا، جو نہ صرف اپنے قبیلے کا محافظ تھا بلکہ ایک ایسے روحانی تصور کا نمائندہ بھی تھا جو کائناتی عناصر کے احترام پر مبنی تھا۔

راج میر کی قیادت میں قائم اس تہذیب کی بنیاد ایک غیر ابراہیمی مذہب پر تھی، جس میں فطرت اور اس کے مظاہر یعنی سورج، چاند، دریا، درخت، پہاڑوغیرہ مقدس مانے جاتے تھے۔ عبادت کا مرکز نہ کوئی معبد تھا، نہ کوئی صحیفہ، بلکہ اجتماعی تجربہ، بزرگوں کی دانائی، اور فطری ہم آہنگی ہی ان کی روحانی شناخت تھی۔ اُن کے تہوار موسمی گردشوں سے جڑے ہوتے، جن میں شکرگزاری، فصل کی برکت اور حیاتیاتی توازن کے لیے دعائیں کی جاتیں۔ دیوی دیوتاؤں کی موجودگی کو محض اساطیری تصور نہیں بلکہ زندہ روایت کے طور پر مانا جاتا تھا، جو ہر نسل کو اپنے ماضی سے جوڑتی تھی۔

سترہویں صدی کے وسط میں اس تہذیبی سکون کو اُس وقت چیلنج کا سامنا ہوا جب ایک صوفی بزرگ، شیخ محمد اکبر شاہ المعروف اخون سالاک، اپنے مریدوں کے ہمراہ اس علاقے میں وارد ہوئے۔ اُن کا ظہور محض ایک تبلیغی شخصیت کے طور پر نہیں ہوا بلکہ وہ ایک ہمہ گیر روحانی و نظریاتی تحریک کے سالار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اُن کی آمد نے دیر کوہستان کے قبائلی و مذہبی ڈھانچے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اُن کا مشن صرف دعوتِ دین نہیں بلکہ ایک نیا روحانی اور سماجی نظام قائم کرنا تھا، جو توحید پر مبنی ہو اور شرک، بت پرستی اور مقامی دیوی دیوتاؤں کی پوجا کے خلاف ہو۔

اخون سالاک کی قیادت میں سنہ 1646ء میں ایک منظم، تربیت یافتہ اور مسلح قافلہ دیر کوہستان میں داخل ہوا۔ اُن کا ہدف وہ قبائل تھے جو نسل در نسل اپنے دیسی مذہبی نظام، جسے’’دادری‘‘ یا ’’داردی‘‘ کہا جاتا تھا، پر عمل پیرا تھے۔ یہ نظام کسی پیغمبر یا آسمانی کتاب پر مبنی نہ تھا، بلکہ فطری تجربات، علامتی رسومات اور زبانی روایات پر مشتمل تھا۔ شاری آیان، بسنو آیان، اور سی داگ جیسے تہوار ان کی روحانی زندگی کے ستون تھے، جو فصلوں کی کٹائی، جانوروں کی افزائش اور موسموں کے تغیر سے وابستہ تھے۔ اس تہذیب میں فرد کی زندگی اجتماعی روایت کے تابع تھی، جس میں روحانیت، معیشت، ثقافت اور سیاست الگ الگ نہ تھیں۔

اخون سالاک کی تحریک ایک ایسے تصورِ دین پر مبنی تھی جس میں فطرت کی پرستش کو توحید کے منافی تصور کیا جاتا تھا۔ اُن کی دعوت اور عسکری قوت نے مقامی قبائل کو سخت آزمائش میں ڈال دیا۔ راج میر کا قبیلہ جس کے پاس نہ تربیت یافتہ لشکر تھا، نہ جدید اسلحہ، اس شدید دباؤ کا سامنا نہ کر سکا۔ لکڑی کے ہتھیار، پتھروں کی غلیلیں اور کلہاڑے اُن کی مزاحمت کا واحد سہارا تھے۔ یوں وہ اپنے آبا کی سرزمین چھوڑ کر شمال کی طرف، خزان کوٹ کی پہاڑی پناہ گاہوں میں جا بسے۔ یہاں اُنہوں نے اپنی تہذیبی بقا کی آخری کوشش کی، مگر یہ عارضی پناہ بھی جلد ختم ہو گئی۔

اخون سالاک اپنے مریدِ خاص میاں عثمان کے ہمراہ خزان کوٹ تک پہنچے اور یہاں بھی اسلام کی دعوت دی۔ اب کے بار قبائل کے پاس نہ راہِ فرار باقی تھی، نہ عسکری وسائل۔ بتوٹ کے میدان میں ایک فیصلہ کن معرکہ ہوا جس میں راج میر کے لوگوں نے اپنی روحانی و تہذیبی شناخت کی آخری جنگ لڑی۔ مگر عسکری ناتوانی کے باعث وہ شکست سے دوچار ہوئے۔ زندہ بچ جانے والوں کو اخون سالاک کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ایک بار پھر اْنہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی۔ اس بار اکثریت نے اسلام قبول کر لیا، اور یوں ایک قدیم تہذیب کا اختتام عمل میں آیا۔

یہ تبدیلی محض مذہب کی تبدیلی نہ تھی، بلکہ ایک مکمل سماجی، لسانی اور تہذیبی انقلاب تھا۔ اخون سالاک نے نومسلم قبائل کو ہدایت دی کہ وہ پہاڑوں سے اْتر کر دریاؤں کے کنارے نئی بستیاں آباد کریں، جہاں ایک نیا دینی و سماجی نظام قائم کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں ’’گاوری‘‘ زبان متروک ہو گئی، قدیم تہوار موقوف، عبادت گاہیں ویران ہو گئیں، اور فطرت پر مبنی ایک روحانی دْنیا تاریخ کے پردے میں دفن ہو گئی۔ اس نئی شناخت نے دیر کوہستان کو اِسلامی تہذیب میں ضم کر دیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ مقامی ورثہ بھی ماند پڑتا چلا گیا۔

اخون سالاک کی تحریک کو اگر صرف دعوتِ دین کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے ہمہ جہت سماجی اثرات نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک منظم سماجی انجینئرنگ کا عمل تھا، جس نے زبان، روحانیت، بود و باش اور اجتماعی رویوں کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اِس تبدیلی کے نتیجے میں ایک یکساں مذہبی و معاشرتی ڈھانچہ تو قائم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی ایک ہزار سالہ مقامی تہذیب بھی دفن ہو گئی۔ تاہم، ہر تہذیب کچھ نہ کچھ اپنے پیچھے ضرور چھوڑ جاتی ہے۔

آج بھی دیر کوہستان کی دور افتادہ بستیوں میں راج میر کا نام کبھی کبھار کسی لوک کہانی، کسی گمنام قبر یا کسی پرانے گیت میں سنائی دے جاتا ہے۔ یہ سب اس گمشدہ روحانی دُنیا کی آخری بازگشتیں ہیں، جو کبھی فطرت سے ہم آہنگ، مقامی دانش پر مبنی اور ایک خودمختار تہذیبی شناخت کی حامل تھی۔