’’بانیانِ پاکستان کی بے قدری: ایک قومی المیہ‘‘ -تحریر: نجیم شاہ
کہتے ہیں قومیں یادداشت کے سہارے جیتی ہیں، لیکن ہم وہ بدنصیب لوگ ہیں جنہیں نہ اپنی تاریخ یاد رہتی ہے، نہ اپنے محسن۔ ہم وہ کج فہم معاشرہ ہیں جو اپنے بانیوں کو بینرز سے حذف کر کے اپنی اصل شناخت مٹا رہا ہے۔ یومِ آزادی آیا، ہر سال کی طرح آیا، لیکن اِس بار ایک عجیب سا خالی پن محسوس ہوا، جیسے روح ہو مگر بدن کے بغیر۔ اخبارات کھولے، اشتہارات دیکھے، رنگ برنگے جھنڈے، ثقافتی رقص، خوشنما چہرے، سب کچھ تھا … سوائے اُس شخص کے جس نے یہ دن ممکن بنایا۔ محمد علی جناحؒ، بابائے قوم، ایک بھی تصویر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سادہ سی غلطی تھی یا بدنیتی؟
اصل المیہ یہ ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ یومِ تکبیر پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی اسی بے رحمی سے نظر انداز کیا گیا۔ اب 14 اگست پر قائداعظمؒ اور اقبالؒ دونوں کو اشتہارات سے بیدخل کر دیا گیا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک تسلسل ہے۔ تاریخ سے دانستہ فرار، فکری انحراف، نظریاتی بددیانتی۔ گویا یہ ’’موجودہ پاکستان‘‘ وہ ہے جس میں نہ جناح کی جگہ ہے، نہ اقبال کی، نہ قربانیوں کی، نہ نظریئے کی۔ بس رہ گئے ہیں اقتدار کے موجودہ چہرے، جن کی تصویریں لگا کر سمجھا جاتا ہے کہ بیانیہ بھی بدل جائے گا۔
یہ سب کچھ دیکھ کر دل کرتا ہے کہ کسی اُونچی عمارت پر چڑھ کر چیخوں کہ یہ ملک تمہاری اشتہاری تصویروں سے نہیں چلے گا۔ یہ جناح کی امانت ہے۔ اِس کی بنیاد میں خون ہے، قربانی ہے، ایک وژن ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ایک سچ ہے جو تمہارے جعلی پروپیگنڈے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ جناح وہ شخص تھا جس نے ایک قوم کو بیدار کیا، ایک خواب کو تعبیر دی، اور آج اُس کا ذکر بھی ’’غیر ضروری‘‘ سمجھا جا رہا ہے؟
کبھی سوچا ہے کہ اگر یہ سوچ نئی نسل کے ذہن میں بیٹھ گئی کہ قائد تو بس ایک پرانا باب تھا، اور اصل اہمیت صرف ان لوگوں کی ہے جو آج کرسیوں پر براجمان ہیں، تو کیا ہوگا؟ یہ تاریخ سے بدترین خیانت ہے۔ یہ وہ اخلاقی زوال ہے جو کسی بھی ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ آج کا نوجوان جب یومِ آزادی کا اشتہار دیکھتا ہے اور قائد کا چہرہ غائب پاتا ہے، تو وہ کس سمت سوچتا ہے؟ یہی کہ شاید قائد کا کردار متنازع ہو گیا؟ یہی کہ شاید اُنکی قربانی بس ایک پرانی کہانی تھی؟ خدا کے بندو! نظریہ کوئی پوسٹر نہیں ہوتا کہ اُتار دو اور نیا لگا دو۔
ریاست اگر سمجھتی ہے کہ اشتہارات کی پالش سے قوم کا شعور بدل جائے گا، تو یہ نری خام خیالی ہے۔ قوموں کے شعور اشتہارات سے نہیں، تاریخ سے بنتے ہیں۔ جناح اور اقبال نہ تمہارے اشتہاروں کے محتاج ہیں، نہ تمہاری تقریروں کے۔ وہ اِس مٹی میں رچے بسے ہیں۔ وہ ان گلیوں میں سانس لیتے ہیں، ان دعاؤں میں شامل ہیں جو ہر ماں اپنے بچے کے لیے مانگتی ہے۔ قائد کو اشتہار سے نکال کر اگر تم سمجھتے ہو کہ تم قوم کی آنکھوں سے بھی اُنہیں نکال دو گے، تو یہ تمہاری عقل کی آخری حد ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھو کہ جب ریاست اپنے بانیوں کو، اپنے فکری رہنماؤں کو پسِ پشت ڈال دے، تو عوام کا رشتہ ریاست سے کمزور ہو جاتا ہے۔ اشتہاروں سے بھری ریاستیں تاریخ میں کئی گزری ہیں، لیکن وہی باقی رہیں جنہوں نے اپنے اُصولوں، اپنے بانیوں اور اپنی فکری بنیادوں کو مقدم رکھا۔ تمہاری مصلحتیں وقتی ہو سکتی ہیں، تمہارے چہرے عارضی ہو سکتے ہیں، لیکن جناح کا چہرہ مستقل ہے، نظریہ مستقل ہے، تاریخ مستقل ہے۔
لہٰذا عرض ہے کہ اشتہارات کے اس فریب سے باہر نکلو۔ یہ قوم جعلی چمک سے نہیں، اصل کرداروں سے جڑی ہے۔ قائداعظمؒ اور اقبالؒ جیسے کرداروں کو اشتہاروں سے غائب کر کے تم صرف اپنے ہی قد کو چھوٹا کر رہے ہو۔ تاریخ کو نظر انداز کر کے تاریخ میں عزت نہیں کمائی جا سکتی۔ اور جس قوم نے اپنے محسنوں کو فراموش کر دیا، وہ پھر خود فراموشی کا شکار ہو جاتی ہے۔
