اسلام اور موسیقی – تحریر : قاضی سلامت اللہ
یہ بحث ایک تعلیمی ادارے میں منعقدہ یوم آزادی کی تقریب میں بچوں کی طرف سے دول دمامہ کے ساتھ ملی نغمہ گانے کی ویڈیو شئیر کرنے بنیاد پر شروع ہوئی۔ اس پر کچھ لوگوں نے ہنگامہ برپا کردیا۔ ہنگامہ اٹھانے والے بیشتر جہلاء تھے البتہ چند ایک علمائے کہلانے والے لوگ بھی ان میں شامل ہوگئے۔ اس باب میں ا ن حضرات کے دلائل پڑھ کر سخت افسوس اور حیرانی ہوئی کہ ہمارے مدارس سے پاسداران ِ دینِ متین کی جو کھیپ تیار ہو کر نکلتی ہے ، اس کا اپنا فہم دین کس قدر عجیب ہے۔ان میں سے ہر ایک کی رائے مختصر تبصرہ کے ساتھ پیش خدمت ہے، آپ بھی پڑھ لیں اور تھوڑا سا آنسو بہائیں ! قارئین سے اتنی گزارش ہے کہ ہر تبصرے کو متعلقہ اعتراض کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ آخر میں ہم نے اپنے فہم کے مطابق مختصرا موسیقی سے متعلق اسلامی تعلیمات بیان کرنے کی کوشش کی ہے، مسئلہ ختلافی ہے اس لیے ہم اپنی رائے کو حتمی اور قطعی نہیں سمجھتے۔
تمہید کے بعد موضوع کی طرف آتے ہیں، ایک صاحب نے اعتراض اٹھاتے ہوئے لکھا :
“اگر یہ جائز بھی ہے تب بھی احتراز برتنا ضروری ہے۔”
یہ ایک ایسی جاہلانہ بات ہے کہ کسی عالم کہلانے والے شخص سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔ جو چیز شرعی اعتبار سے جائز ہو، اسے محترز رہنا ، خدا جانے تقویٰ کی کونسی قسم ہے؟ ایک واقعہ کی بنیاد پر آپ ﷺ نے آئندہ شہد سے احتراز برتنے کا فیصلہ فرمایا، تو اللہ تعالی ٰ نے اس فیصلے سے رجوع کا حکم صادر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: “اے نبی جس چیز کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے ، اسے اپنے لیے کیوں حرام کرلیتے ہو” کسی چیز کے اصلا جائز ہونے کے باوجود اس سے محترز رہنا معلوم نہیں کونسی دینداری ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے صاحب نے فرمایا :
“اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے موقع پر بچیاں جو دف بجا رہی تھیں، وہ موجودہ زمانے میں استعمال ہونے والے دف جیسا ہی تھا؟”
یہ ایسا نادر استدلال ہے کہ اس پر نوحہ کرنے اور سر نوچنے کو دل کرتا ہے۔ دف چاہے اُس زمان کا ہو یا اِس زمان کا، اگر اس میں کوئی قباحت ہے ، تو وہ اس کی آواز یا موسیقیت ہونی چاہیے نہ کہ ہیئت۔ مگر ہمارے دور کے نوخیز مفتی صاحبان کی فقاہت کا یہ عالم ہے کہ جذبات کی رو میں بہہ کر علت کے بجائے مدار حکم ہیئت پر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور صاحب فرماتے ہیں :
“(دف کے ساتھ ملی نغمہ گانے کا ) معاملہ معاشرہ کے کسی عام (مذہبی) فرد کے سامنے بھی پیش کرو، وہ بھی اس سے نفرت ہی کا اظہار کرے گا۔”
سبحان اللہ! کیا ہی زبردست استدلال ہےاور کیا ہی شاندار فقیہانہ موقف ہے۔ یعنی اب ہم اشیاء کی حلت و حرمت کا فیصلہ کتاب و سنت کے بجائے معاشرے کے عام افراد کی آراء ،پسند و ناپسند کے معیارات اور رجحانات کو دیکھ کر کیا کریں گے۔
اقبا ل نے شاید ایسی ہی کسی فقاہت کے بارے میں فرمایا تھا:
ہمی مکتب و ہمی ملا
کارِ طفلان تمام خواہد شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور مفتی فرمانے لگے کہ :
“حضورﷺ کے استقبال کے لیے بچیوں کے دف بجانے کے عمل کو ، دف کے جواز کے لیے دلیل کے طورپر پیش کرنا غلط ہے، کیونکہ اس کا حکم حضور ﷺ نے نہیں دیا تھا۔ ”
حیرت ہوتی ہے کہ دین کا علم رکھنے والا کوئی شخص یہ بات کیسے کر سکتا ہے؟ “حدیث” کے مفہوم جو چیزیں شامل ہیں ، ان میں ایک “تقریر” بھی ہے۔ یعنی وہ امور جو حضورﷺ کے سامنے دہرائے گئے مگر آپ ﷺ نے ان سے منع نہیں فرمایا۔ اس صاحب کے کہنےکا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ عمل شرعی طور پر درست تو نہیں تھا، مگر حضور ﷺ نے کسی نہ کسی طرح انگیز فرمایا۔ اب اس فقاہت پر بندہ نوحہ نہ کرے تو کیا کرے؟ غالب نے کیا خوب کہا ہے:
حیراں ہوں دل کو رؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہوں تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صاحب، جو اسلام سے بڑھ کر اسلام کی فکر کرنے کی غلطی میں مبتلا رہتے ہیں، فرماتے ہیں کہ :
“اس عمل سے اسلام کی بدنامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔”
یعنی ان کے نزدیک چھوٹے بچوں کا دف کے ساتھ ملی نغمہ گانے سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے۔ انھیں اب کون سمجھائے کہ مدارس میں آئے روز پیش آنے والے مذموم اعمال جو اب میڈیا کی بھی زینت بن رہے ہیں، دف بجانے کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ قبیح اور زیادہ شنیع ہوتے ہیں، مگران پر اسلام کی بدنامی کا رونا روتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا گیا۔ اگر اسلام بدنام ہوتا تو واقعہ کربلا میں خانوادہ رسول کے قتل عام سے ہوتا، حرہ کے اندوہناک اور المناک واقعہ اور دیگر بے شمار ناخوشگوار واقعات سے ہوتا، چھوٹوں بچوں کے دف بجانے سے کوئی اسلام بدنام نہیں ہوتا۔ یہ فسانہ محض واقعے کو شنیع باور کرانے کے لیے تراشا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور صاحب احتیاط کے پہلو کے پیش نظر فرماتے ہیں کہ ” یہ کام (دف بجانا)اگر جائز بھی ہے ، آخر نہ کرنے میں حرج کیا تھا”؟
اس کے جواب میں ، میں اپنے اس دوست سے پوچھتا ہوں کہ ایک جائز کام کے نہ کرنے میں اگر کوئی حرج نہیں تو کرنے میں حرج کیوں ہے؟ آخر ہم آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ ہم لوگوں کو جائز کام کرنے سے منع کرنا شروع کردیں؟ یہ کونسا دین ہے، جو ہم لوگوں کو پڑھانے لگے ہیں ؟
ہمارے علماء کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہر حال میں حق اور سچ بیان کرنے اور اللہ کی بے لاگ شریعت لوگوں تک پہنچانے کے بجائے انھیں معاشرے کے جاہل مذہبیوں کے اذواق کی زیادہ فکر لاحق رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرہ کے جاہلانہ رسوم کے خاتمہ کے لیے خود آپ ﷺ کی ذات کوعملی تقدم کا حکم فرمایا ہے۔ ان میں کچھ امور ایسے بھی تھے ، جن میں منافقین اور دشمنوں کو بتنگڑ بنانے اور اعتراضات اٹھانے کے قوی مواقع میسر آنے والےتھے۔ مگر اللہ کی شریعت بے لاگ ہوتی ہے، اور اللہ تعالی ٰ اپنے دین کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی ذرہ پروا نہیں فرماتے۔ حضرت زینب بن جحش سے نکاح کا معاملہ ایسی ہی نوعیت کا مسئلہ تھا۔ حضورﷺ کی خواہش تھی کہ کسی طرح حضرت زید اور حضرت زینب رضی اللہ عنھما کے مابین جدائی نہ ہوتاکہ لوگوں کے اعتراضات اور چی میگوئیوں سے بچا جاسکے، مگر اللہ تعالیٰ کو اپنا دین اور اپنے اصول زیادہ عزیز ہوتے ہیں، اس لیے وہ کام ہو کر رہا، جس کے ذریعے ایک غلط رواج کا انسداد مطلوب تھا۔ تو ہم کیوں ایک مباح امر کو لوگوں کے اعتراض کے خوف سے حرمت کے درجے تک پہنچائیں؟ یہ ہرگز دین کی کوئی خدمت نہیں بلکہ حلال و حرام کے باب میں ایک جسارت ہے، جو کسی مومن کو زیبا نہیں ۔
یہ تھا، واقعہ پر علمائے کرام کے اظہار خیالات پر تبصرہ ، اب آتے ہیں مسئلے کی شرعی پہلو کی طرف ، کہ آیا اس باب میں اسلامی تعلیمات سے کیا روشنی ملتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ گانے اور آلات موسیقی کی ممانعت سے متعلق روایتیں موجود ہیں، مگر ان سب کے بارے میں محدثین اور فقہا نے کلام کیا ہے۔ قاضی ابوبکر ابن عربیؒ نے اپنی کتاب “الاحکام ” میں لکھا ہے کہ موسیقی کی حرمت سے متعلق کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔ یہی امام غزالی ؒ اور ابن نحویؒ کی بھی ہے۔ امام ابن حز م کا کہنا ہے کہ اس باب میں کچھ بھی صحیح نہیں ہے اور جو کچھ ہے سب موضوع ہے۔ خدا کی قسم اگر ایک صحیح حدیث بھی ثقہ راویوں کے ذریعہ اللہ کے رسول سے مروی ہوتی تو اسے مان لینے میں ہمیں ذرہ برابر بھی تامل نہ ہوتا۔ (کتاب المحلی جلد 9، ص 59)
اب آتے ہیں جواز کے دلائل کی طرف، اس باب میں سب سے مضبوط روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا والی حدیث ہے،فرماتی ہیں : ایک عورت کی انصار کے ایک شخص سے شادی ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اے عائشہ ! ان کے ساتھ لہو (تفریح طبع) کا کوئی سامان نہیں ہے؟ کیونکہ انصار لہو کو پسند کرتے ہیں۔” (صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5162)
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : حضرت عائشہ نے اپنی ایک قرابت دار انصاریہ کی شادی کردی۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو فرمایا: دلہن کو تم نے روانہ کردیا، لوگوں نے کہا جی ہاں! فرمایا: اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو نہیں بھیجا جو گائے؟ عرض کیا نہیں، فرمایا: انصار کو گانے کا شوق ہے اس لیے اگر تم اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو بھیج دیتے جو یہ گاتی،”ہم تمھارے پاس آئے ، ہم تمھارے پاس آئے ، اللہ ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی۔” تو اچھا ہوتا۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح، مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر 15209)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے تو دو لڑکیاں ایام ِ منیٰ میں گانا گا رہی تھیں اور نبی ﷺ کپڑا اوڑھے لیٹ گئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے انھیں ڈانٹاتو نبی ﷺ نے اپنے چہرہ سے کپڑا ہٹا لیا اور فرمایا: “ابوبکر انھیں چھوڑ دو ، کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔” ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم، السنن الکبریٰ ، مسند احمد بن حنبل) اس باب میں دلائل اور بھی ہیں، مگر طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ دلائل موسیقی کی پر قسم کی نفی کرنے والوں کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔ جس موسیقی کا ہمارے ملک میں رواج ہے اس کی ابتدا در اصل اسلام میں جائز موسیقی کی انتہا ہے۔
