کالاش وادیوں کے قدرتی وسائل پر غیر منصفانہ قبضہ ناقابل قبول ہے، چلغوزہ کے ذخایر پر محکمہ جنگلات کا سرکاری کنٹرول اور ٹینڈر سسٹم کالاش حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔ لوک رحمت
چترال (فتح اللہ) سماجی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن لوک رحمت نے کالاش وادیوں میں چلغوزہ کے ذخائر پر محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے سرکاری کنٹرول اور ٹینڈر سسٹم کو مقامی برادری کے معاشی اور ثقافتی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دیگر چلغوزہ پیدا کرنے والے علاقوں میں ایسا کوئی سرکاری کنٹرول موجود نہیں، پھر کالاش وادیوں کو الگ کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ یہ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 25 کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے Indigenous Peoples کے اعلامیے سے بھی متصادم ہے۔
لوک رحمت نے کہا کہ قانون پر عمل کرنے والے افراد سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ قانون توڑنے والے محفوظ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کالاش وادیوں کے قدرتی وسائل پر مقامی خود مختاری فوری طور پر بحال کی جائے، اس مقصد کے لیے مشترکہ مینجمنٹ ماڈل نافذ کیا جائے، آئینی مشاورت اور عالمی معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، اور چلغوزہ کی پیداوار و آمدنی کا شفاف ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف چلغوزہ کا معاملہ نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے، کیونکہ یہ وادی کالاش کے عوام کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن ہے جس سے وہ اپنے روزمرہ کے معاملات چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں کوئی اور نمایاں قدرتی وسیلہ موجود نہیں جس سے خاطر خواہ آمدنی حاصل ہو سکے۔ اگر یہ وسائل چھین لیے گئے تو علاقے میں کو بدترین معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑے گا، لوگ شدید مشکلات کا شکار ہوں گے اور اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ حکومت ان سے ان کا بنیادی معاشی سہارا چھیننے جا رہی ہے۔

