چترا کے گورنمنٹ کالجز میں فرسٹ ایئر کے داخلے ٹیسٹ کی بنیاد پر دیے جائیں تاکہ اہل طالبات کو ان کا حق مل سکے۔ اشمل بی بی، فروا خان
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال ٹاؤن اور مضافاتی دیہات کی طالبات نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیر تعلیم، چیف سیکریٹری، سیکریٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ کالجز میں فرسٹ ایئر کے داخلے ٹیسٹ کی بنیاد پر دیے جائیں تاکہ اہل طالبات کو ان کا حق مل سکے۔ طالبات اشمل بی بی، فروا خان، ماہم رحمن، مشال اور دیگر نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ موجودہ سسٹم میں بعض طالبات نقل اور دیگر غیر شفاف ذرائع سے زیادہ نمبر حاصل کر کے مخصوص نشستوں پر قبضہ کر لیتی ہیں، جبکہ اصل محنتی اور قابل طالبات معمولی نمبروں کی فرق سے داخلے سے محروم رہ جاتی ہیں۔
طالبات نے نشاندہی کی کہ چترال ٹاؤن اور اس کے گردونواح میں تقریباً ایک لاکھ آبادی کے لیے صرف ایک ہی گرلز کالج موجود ہے۔ محدود نشستوں کی وجہ سے ٹاؤن اور یونین کونسل چترال کی کئی مستحق طالبات کو داخلہ نہیں ملتا، اور باہر سے آنے والی طالبات تمام نشستیں بھر لیتی ہیں۔طالبات کے مطابق بہت سی بچیاں صرف اس وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جاتی ہیں کہ ان کے میٹرک کے نمبر نسبتاً کم ہوتے ہیں، مگر قابلیت موجود ہوتی ہے۔ داخلے نہ ملنے سے وہ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں، جو ان کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔طالبات کا کہنا تھا کہ موجودہ اوپن میرٹ کا نظام قابل مگر کم نمبر لینے والی طالبات کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلہ ہو تو ہر طالبہ کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا موقع ملے گا، اور میرٹ بھی شفاف ہو گا۔
طالبات نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ چترال کی خصوصی جغرافیائی و تعلیمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے داخلے کے نظام میں پالیسی سطح پر ترمیم کی جائے اور ٹیسٹ بیسڈ سسٹم رائج کیا جائے۔اسی حوالے سے ہم نے جب پرنسپل گرلز کالج سے رابطہ کیاتواُن کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام کالجز میں داخلے کیلئے ایک یکسان نظام رائج ہے اور تمام کالجز ایک ہی سینٹریلائزڈ پالیسی کے تحت داخلے دیتے ہیں،انھوں نے کہاکہ اسٹوڈنٹس آن لائن اپلائی کرتے ہیں اور میرٹ لسٹ بھی آن لائن کمپیوٹرائز ڈ بنتی ہے جس میں کسی بھی پرنسپل یا اہلکار کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا لہذا ہم ایک کالج میں اپنی مرضی کا کوئی بھی طریقہ کار یا پالیسی نہیں اپنا سکتے ۔
