چترال میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر یوم استحصال منایاگیا، ریلی اور احتجاجی مظاہرے
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے مظاہرہ کرتے ہوئے یوم استحصال منایا گیا جس میں غاصب بھارت کی جانب سے 2019ء میں بھارتی آئین سے دفعہ 370کوختم کرکے اس کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس سلسلے میں ایک ریلی ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام سیکرٹریٹ روڈ میں اسسٹنٹ کمشنر آفس سے نکالا گیا جس میں سرکاری حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جس کی قیادت ایڈیشنل اے سی چترال محمد عیسیٰ خان اور ٹرینی اے اے سی اسدا للہ نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے غاصب انڈیا کے خلاف اور کشمیری بھائیوں کی حمایت میں نعرہ بازی کی جوکہ شاہی قلعہ کے گیٹ پر احتتام پذیر ہوئی۔
جماعت اسلامی لویر چترال کے پارٹی قائد حافظ نعیم الرحمن کی کال پر اتالیق پل میں جلسہ عام منعقد کیا جس سے صوبائی نائب امیر مغفرت شاہ، ضلعی امیر وجیہہ الدین اور دوسرے رہنما مولانا جمشید احمد، مولانا عبدالرحمن گوجر، شجاع الحق بیگ، ضیاء الرحمن، فضل ربی جان اور دوسروں نے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی آئنی حیثیت تبدیل کرنے اور اسے بھارت کا حصہ بنانے پر بھارتی سرکار کو خبر دار کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ایک ایسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیری مسلمانوں کی جذبہ حریت اور حق خود ارادیت کے حصول کے لئے ان کے عزم مصمم میں کمی آنے کی بجائے اس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کشمیر کا سودا کرنے پر سابق حکمران عمران خان کوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اب وہ مکافات عمل کے تحت کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی کی سزا کاٹ رہے ہیں کیونکہ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ جس نے کشمیرکاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، وہ دنیا کے سامنے سامان عبرت بن گئے ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکمرانوں اور مقتدرطبقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بھی نوشتہ دیوار پڑھ لے اور کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ بازی کا سوچ اپنے ذہن سے بھی نکال پھینک دے۔ مقررین نے کہاکہ جماعت اسلامی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی بھی طور پر تنہا نہیں چھوڑے گی۔


