اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی کاروائی، رشوت لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر رنگے ہاتھوں گرفتار، ایک ایک کرپٹ اہلکار کو انجام تک پہنچاؤں گا ،مشیرصحت
پشاور(نماندہ چترال ٹائمز) اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے رشوت لیتے ہوئے محکمہ صحت کے ایک سینیئر افسر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کو محکمہ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر انٹرنل آڈٹ کے خلاف رشوت لینے کی شکایت موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آڈٹ اعتراضات ختم کرنے کے لیے بیس لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی نے شکایت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ جس پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن صدیق انجم کی قیادت میں کامیاب سٹنگ آپریشن کیا گیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر انٹرنل آڈٹ محکمہ صحت، ظاہر شاہ کو دس لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔مبینہ طور پر ملزم ظاہر شاہ سیکشن آفیسر جنرل محکمہ صحت کے آفس میں رشوت کی رقم وصول کر رہا تھا۔ اینٹی کرپشن کی ٹیم نے ملزم ظاہر شاہ سے رشوت کی رقم برآمد کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کے اسپیشل انوسٹیگیشن وِنگ کے حوالے کر دیا ہے۔
محکمہ صحت میں اینٹی کرپشن کی کاروائی پر مشیر صحت احتشام علی کا خیر مقدم: ایک ایک کرپٹ اہلکار کو انجام تک پہنچاؤں گا”
پشاور(نماندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت میں محکمہ خزانہ کے لوکل فنڈ آڈٹ کے ایک سنیئر آفیسر کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے پر مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی بروقت اور مؤثر کاروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صحت کو کرپشن سے پاک کرنے کا عمل پوری شدت سے جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ آفیسر ایک دوسرے محکمے سے انٹرنل آڈٹ کے لیے آیا تھا، جسے فوری طور پر اپنے محکمے کے حوالے کیا جائے گا۔ مشیر صحت نے مزید کہا کہ اس کاروائی کی معلومات محکمہ صحت کے اندرونی ذرائع نے فراہم کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ کے اندر ایماندار افراد بھی کرپشن کے خلاف متحرک ہیں۔احتشام علی نے کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن سے امید ہے کہ وہ اس آفیسر سے جڑے پورے نیٹ ورک کو جلد از جلد بے نقاب کرے گا۔ ہم انشاء اللہ ایک ایک کرپٹ اہلکار کو محکمہ صحت سے اُکھاڑ کر انجام تک پہنچائیں گے۔”انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت میں پہلے ہی کیمرے نصب کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ دفاتر میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کرنے والوں کے لیے محکمہ صحت میں کوئی جگہ نہیں، چاہے وہ آفیسر ہو یا اہلکار۔مشیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اینٹی کرپشن ہر ہفتے کم از کم ایک دن لازمی طور پر سرکاری دفاتر کا دورہ کرے تاکہ کسی کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا موقع نہ مل سکے۔انہوں نے اعلان کیا کہ محکمہ صحت خود بھی اس واقعے کی اندرونی انکوائری کرے گا، اور جو کوئی بھی اس میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر ضرورت پڑی تو نیب سے بھی کارروائی کی درخواست کی جائے گی۔“مشیر صحت نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا ایک ایک پیسہ امانت ہے، مراکز صحت کا آڈٹ ہر صورت کیا جائے گا۔ بانی پی ٹی آئی کی اولین ترجیح بھی یہی رہی ہے کہ عوام کے پیسوں کا شفاف استعمال اور احتساب یقینی بنایا جائے۔”
