قاری فیض اللہ چترالی انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کیلئے برطانیہ روانہ
کراچی (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کی ممتاز مذہبی و سماجی شخصیت قاری فیض اللہ چترالی وفد کے ہمراہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کیلئے برطانیہ روانہ ہو گئے۔ وفد میں اقرا روضۃ الاطفال کے بانی مولانا مفتی خالد محمود، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر منظور احمد میئو راجپوت ایڈووکیٹ سمیت دیگر شامل ہیں۔ یہ وفد براستہ بحرین لندن پہنچے گا اور بعد ازاں کانفرنس میں شرکت کیلئے برمنگھم روانہ ہوگا۔
قاری فیض اللہ چترالی 1998 سے اس عالمی کانفرنس میں باقاعدگی سے شرکت کرتے آ رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران انہوں نے اس پلیٹ فارم پر برصغیر پاک و ہند کے نامور علماء، مشائخ اور روحانی شخصیات کی صحبت، رفاقت اور خدمت کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان میں ہندوستان سے شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے فرزند اور جمعیت علمائے ہند کے سابق صدر مولانا اسعد مدنیؒ، مولانا عبدالعلیم فاروقی لکھنویؒ، جمعیت علمائے ہند (الف) کے صدر مولانا ارشد مدنی، پاکستان سے شہیدِ اسلام مولانا یوسف لدھیانویؒ، خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، حضرت سید نفیس شاہ الحسینیؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ، مولانا ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ، مولانا سعید احمد جلالپوری شہیدؒ، مولانا عبدالمجید کہروڑ پکاؒ، مجا ہد اعظم مولانا اکرم طوفانی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرؒ اور شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔
قاری فیض اللہ چترالی نے برمنگھم ختم نبوت کانفرنس کے حوالے سے سب سے زیادہ اسفار جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے سابق رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرؒ کی معیت میں کیے۔ قاری صاحب ان کے ہمسفر، خادم اور معاون کے طور پر ہمیشہ ان کے ساتھ رہے اور ان کی عاجزی و انکسار کے شاہد اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے رہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام برطانیہ کے شہر برمنگھم میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا آغاز اُس وقت ہوا جب 1984 میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر احمد پاکستان سے فرار ہو کر لندن پہنچا اور وہاں اپنا مرکز قائم کیا۔
چناب نگر (چنیوٹ) سے قادیانیوں نے اپنا مرکز لندن منتقل کیا تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی ان کا تعاقب کرنے کیلئے برطانیہ کا رخ کیا اور امام اہلسنت حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ اور حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی سرپرستی میں وسطی لندن میں ایک گرجا گھر کو خرید کر مرکز قائم کیا اور برمنگھم میں سالانہ کانفرنس کا سلسلہ شروع کیا، جو آج ایک عالمی دینی اجتماع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ لندن میں دفتر کی خریداری کا سارا کام مولانا مفتی احمد الرحمن کے برادر کبیر مولانا عبید الرحمن نے انجام دیا۔ وہ 1960 میں یو کے گئے تھے۔ جہاں انہوں نے شیفیلڈ میں پہلی مسجد تعمیر کی اور اس کے بعد یوکے میں جمعیت علماء اور عالمی مجلس کی تنظیمیں بھی انہی کی کوششوں سے قائم ہوئیں۔
رواں سال 27 جولائی 2025 کو برمنگھم کی مرکزی مسجد (180 بیلگریو مڈل وے، ہائی گیٹ) میں چالیسویں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس میں برطانیہ، یورپ اور برصغیر کے ممتاز علماء، مشائخ اور دینی شخصیات شرکت کریں گی۔ ہزاروں کی تعداد میں عام مسلمان بھی اس روحانی اجتماع میں شریک ہوں گے۔
قاری فیض اللہ چترالی اس بار بھی پاکستان کے جید علماء کے ایک موقر وفد کے ہمراہ اس عظیم الشان کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ اپنے قیام کے دوران وہ پاک و ہند اور یورپ کے علمی و دینی حلقوں سے تبادلہ خیال اور ملاقاتیں بھی کریں گے۔
