دریائے چترال کے دونوں کناروں پر تجاوزات کے خلاف اپریشن ناگزیر، دونوں اطراف کے انسانی بستیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ عوامی حلقے
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) لویر چترال کے عوام نے دریائے چترال کے دونوں کناروں اور اس کے معاون ندیوں چترال گول، موڑین گول اور دنین گول اور دیگر پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کیا ہے جس سے اس کے دونوں اطراف کی انسانی بستیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ریور پروٹیکشن آرڈیننس 2002 کے تحت دریا کی مرکزی لائن سے 200 فٹ کے اندر عمارت کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے لیکن اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس سے پانی کے قدرتی بہاؤ کا راستہ تنگ ہو گیا ہے اور سیلاب کی لہریں ہر طرف پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن ایریا میں دریا کے کناروں اور اس کی معاون ندیوں پر ہونے والی بے ہنگم تجاوزات کو دیکھ کر ہر متمول شخص سردیوں کے موسم میں بغیر کسی خوف کے دریا کے بیچوں بیچ تعمیراتی منصوبے شروع کر دیتا ہے اور یوں ہرسال ان غیر قانونی عمارتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ بیت الخلا سے سیوریج کے پانی کو خارج کرنے اور ٹھوس فضلہ کو براہ راست دریائے چترال اور قصبے کے آس پاس اس کی معاون ندیوں میں ٹھکانے لگانے کا رواج بھی عام ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ تجاوزات والے علاقوں پر بنائے گئے بڑے پلازوں میں سے بہت کم میں سیپٹک ٹینک اور pits موجود ہیں جو آرڈیننس کی دفعہ (3) کے تحت ممنوع ہیں۔
ایریگیشن ڈویژن چترال کے ایگزیکٹو انجینئر سہیل خان نے کہا کہ دریاؤں اور ندی نالوں سے تجاوزات ہٹانے کا کام بنیادی طور پر اسسٹنٹ کمشنر کی ذمہ داری ہے جو کسی دریا یا ندی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کا پابند ہے کہ وہ تجاوزات کی نشاندہی کرے۔
اسسٹنٹ کمشنر چترال آفتاب منیر نے کہا کہ بہت جلد تجاوزات ہٹانے کا آپریشن کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مختلف امور اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

