چترال اورکراچی میں دانش سکولز کی تعمیر کیلئے زمین کا انتخاب ہوچکا، فزیبلٹی اور دیگر اقدمات پر کام تیزی سے جاری ہے، وزیراعظم کو بریفنگ، وزیر اعظم کی دانش اسکول کے اساتذہ کو بہترین پیکیج فراہم کرنیکی ہدایت
اسلام آباد( نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت کی فراہمی کو اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں دانش سکولز کے قیام سے ہزاروں بچے مستفید ہوں گے،معاشی طور پر کمزور طبقے کے بچوں کی خدمت کا جو خواب دیکھاوہ شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔ پی ایم افس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے ان خیالات کا اظہار اپنی زیر صدارت ملک بھر میں دانش سکولز اور اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کی تعمیر بارے پیش رفت کے حوالے سے منگل کو ہونے والے جائزہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، خالد مقبول صدیقی، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام کے علاوہ چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹریز و نمائندوں نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دانش سکولز اور دانش یونیورسٹی کی تعمیر میں ڈیجیٹل اور جدید کلاس رومز پر زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بطور خادم پاکستان قوم کے بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔وزیراعظم نے دانش سکولز میں اساتذہ کو بہترین پیکیج فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور سٹاف کی بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دانش سکولز کی تعمیر کے حوالے سے کام تیز کرنے اوردانش سکولز یونیورسٹی میں عالمی معیار کے جدید علوم کی تعلیم پر توجہ مرکوزکرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب میں دانش سکولز کی صورت میں جو پودا لگایا تھا وہ تناور درخت بن چکا ہے،غریب و متوسط طبقے کے سینکڑوں طلبہ دانش سکولز سے فارغ التحصیل ہوکر دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کو لوہا منوا رہے ہیں،دانش سکولز سے معاشی طور پر کمزور طبقے کے بچوں کی خدمت کا جو خواب دیکھا اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل سے وہ شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے،پورے ملک میں دانش سکولز کے قیام سے ہزاروں بچے مستفید ہو ں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر طبقے کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم و تربیت کے یکساں مواقع کی فراہمی کیلئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کری اسلام آباد میں دانش سکول کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے جو رواں برس کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا، گلگت بلتستان میں سلطان آباد، گانچھے اور استور میں دانش سکولز کی تعمیر پر بھی کام تیزی سے جاری ہے جو آئندہ برس مکمل ہو گا، آزاد کشمیر میں باغ اور بھمبر میں دانش سکولز پر کام شروع ہوچکا ہے جبکہ شاردہ نیلم میں دانش سکول کا پی سی ون منظور ہوچکا ہے جس کا تعمیری کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں سبی، موسٰی خیل، ڑوب، قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ بگٹی میں دانش سکولز کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے جبکہ حب میں دانش سکول کی تعمیر کی فزیبلٹی پر کام جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چترال، کراچی اور ٹنڈو محمد خان میں دانش سکولز کی تعمیر کیلئے زمین کا انتخاب ہوچکا جبکہ ان کی فزیبلٹی اور دیگر اقدمات پر کام تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس کو ایبٹ آباد اور وزیرستان میں دانش سکولز کی تعمیر کی تجاویز اور راجن پور میں یونیورسٹی کے حوالے سے پیش رفت بارے بھی آگاہ کیا گیا۔دانش سکولز یونیورسٹی کے حوالے سے پیش رفت بارے اجلاس کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی ٹیکنو فزیبلٹی پر کام تیزی سے جاری ہے جو رواں ماہ کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا، ماسٹرپلان، ڈیزائن اور تعمیر کیلئے 12 بین الاقوامی فرمز میں سے 7 درکار معیار پر پورا اتری ہیں اور پرکیورمنٹ کمیٹی اس کو حتمی شکل دے رہی ہے، عالمی معیار کے ڈگری پروگرامز، داخلوں کی تفصیلات اور الائیڈ سہولیات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ دانش سکولز یونیورسٹی میں عمارتوں کو سادہ جبکہ کلاس رومز میں جدید سافٹ ویئر، ڈیجیٹل ایکویپمنٹ، جدید لیبز اور عصر حاضر کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو مرکزی اہمیت دی جائے۔

ثناء اللّٰہ مستی خیل نے پارلیمنٹیرینز، گریڈ 22 کے افسران کی مراعات و تنخواہوں کی تفصیلات مانگ لیں
اسلام آباد(سی ایم لنکس)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) اجلاس میں رکن ثناء اللّٰہ مستی خیل نے ارکان پارلیمنٹ اور گریڈ 22 کے افسران کی مراعات اور تنخواہوں کی تفصیلات مانگ لیں۔ثناء اللّٰہ مستی خیل نے اجلاس کے دوران کہا کہ جرنیلوں اور سپریم کورٹ کے ججز کو حاصل مراعات اور تنخواہوں کا پیکج بھی بتایا جائے، ہمیشہ کے لیے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔اس موقع پر چیئرمین پی اے سی اور دیگر ارکان ان کا مطالبہ سن کر مسکرا دیے۔ثناء اللّٰہ مستی خیل نے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ ڈائریکشن دیں، کیا آپ بھی ڈرتے ہیں؟ اس سے پتہ چل جائے گا کہ سیاستدان یا دوسرے کتنے کرپٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ یہ مطالبہ کرنے پر کوئی بھی نتیجہ بھگتنے کو تیار ہیں۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ انہوں نے توشہ خانہ کا ریکارڈ منگوایا تھا لیکن صرف ارکان پارلیمنٹ کا مہیا کیا گیا، دوسروں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ تحفے سیدھے گھروں کو لے جاتے ہیں، لہٰذا میں نے اسے بھی پبلک نہیں کیا۔
