کے پی: سینیٹ کی خالی نشستوں پر پولنگ 21 جولائی کو ہوگی، ای سی پی، ۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی خالی نشستوں پر 21 جولائی کو پولنگ کروانے کا اعلان کر دیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کی 11 خالی نشستوں کے لیے 16 امیدوار میدان میں ہیں۔جنرل نشست کیلیے جے یو آئی (ف) کے عطاء الحق، پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود اور مسلم لیگ (ن) سے نیاز احمد جنرل نشست کے لیے امیدوار ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق جنرل نشست کے لیے آزاد امیداروں میں مراد سعید، اعظم سواتی، نور الحق قادری، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی اور محمد وقاص آزاد، دلاور خان، فیضالرحمان اور عرفان سلیم شامل ہیں۔شفقت ایاز، خرم ذیشان، اظہر قاضی اور آصف رفیق بھی آزاد امیدواروں میں شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خواتین کی 2 نشستوں کے لیے 4 خواتین امیدوار مدمقابل ہیں جن میں پیپلز پارٹی سے روبینہ خالد اور روبینہ ناز امیدوار ہیں جبکہ عائشہ بانو اور مہوش علی آزاد امیدوار ہیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ اور عالم کی 2 نشستوں کے لیے 6 امیدوار ہیں۔جے یو آئی (ف) سے دلاور خان امیدوار ہیں جبکہ خالد مسعود، ارشاد حسین، اعظم سواتی، نور الحق قادری اور وقاص احمد قاضی آزاد امیدوار ہیں۔
الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین اور مسلم لیگ (ن) کے وکیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے دلائل شروع کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ (ن) لیگ کے کامیاب اْمیدواروں کے نوٹیفکیشن مرحلہ وار جاری کیے گئے۔ کامیاب امیدوار نوٹیفکیشن کے بعد 3 دن میں کسی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے۔ پارٹی پوزیشن کے بعد سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے وکیل نے کہا کہ کیس چیلنج ہوچکا ہے، کیا اس کا اثر صرف کے پی پر ہوگا یا پورے پاکستان پر ہوگا؟چیف الیکشن کمشنر نے جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کیا کہ آپ بیٹھ جائیں، جس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میرے کیس پر کچھ اعتراضات ہیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔
انہوں نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا یہ کیس صرف خیبرپختونخوا کی حد تک سنا جائے گا؟لیگی وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہائی کورٹ کے شارٹ آرڈر کا تفصیلی فیصلہ بھی آچکا ہے، جس امیدوار کی بات ہو رہی ہے ان کا 22 فروری کو الیکشن کمیشن سے نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ الیکشن کمیشن قوانین کے مطابق 3 روز میں پارٹی شمولیت جمع کرانا ہوتی ہے۔ طارق اعوان نے 2 روز میں پارٹی کی شمولیت جمع کرائی۔ اقلیت کی نشست پر طارق اعوان کا ووٹ شمار کیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا کہ 21 روز میں ایوان کا اجلاس بلایا جانا چاہیے، 22 فروری کو اگر نوٹیفکیشن ملا تو 3 روز کا ٹائم تھا، طارق اعوان کا 4 مارچ کو ووٹ شمار ہوتا ہے۔ ویسے طارق اعوان کا ووٹ شمار نہیں کیا جاتا۔ اگر میرے امیدوار کو ہی 22 فروری کو نوٹیفائی کیا گیا، تو امیدوار کے پاس 3 دن تو اس روز سے شمار ہوتے ہیں، میرے امیدوار کو کیسے حق رائے دہی سے محروم کیا جاسکتا ہے؟
انہوں نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ جب جے یو آئی اور ہماری سیٹیں برابر ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے برابر نہیں ہوسکتیں؟ ہماری 8 اور جے یو آئی کی 10 سیٹیں کیسے ہوسکتی ہیں؟ 9،9 نشستیں دونوں جماعتوں کو ملنی چاہیے تھیں۔ قانون کے مطابق برابر ہونے پر ٹاس ہوسکتا ہے۔ ہم نشستیں برابر ہونے پر ٹاس کرنے کی استدعا کرتے ہیں۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 22 فروری کو اگر نوٹیفائی کیا گیا تو اس سے قبل کی مخصوص نشستیں کیا واپس ہوسکتی ہیں؟ ایک سیٹ کی خاطر کیا پورے ملک کی مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشنز واپس ہوسکتے ہیں؟ 16 فروری تک اگر طارق اعوان کا نوٹیفکیشن ہوجاتا تو وہ بھی شامل ہوتے، لیکن ایک سیٹ کی خاطر پورے ملک میں مخصوص نشستوں کا معاملہ دوبارہ کھڑا ہوجائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ جو مسلم لیگ (ن) نے طے کیا آج وہ اس کے برعکس کررہے ہیں، اگر طارق اعوان کو شامل کیا جاتا ہے تو نیا قانونی مسئلہ کھڑا ہوجائے گا، یہ رولز کی خلاف ورزی ہوگی اگر طارق اعوان کو 9 روز کے بعد بھی شامل کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ پشاور ہائی کورٹ میں کیا آپ موجود تھے؟، جس پر وکیل جے یو آئی نے بتایا کہ نہیں سر، ہمیں پشاور ہائی کورٹ میں پارٹی نہیں بنایا گیا تھا۔پیپلزپارٹی کے وکیل نیئربخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ اور جے یو آئی کا موقف تھا کہ 7،7 سیٹیں برابر ہیں، ہمارا معاملہ مختلف ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہماری 4 نشستیں ہیں، پہلے ان دونوں جماعتوں کا معاملہ حل ہو جائے، ہمارا ہوجائے گا۔پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جنرل نشستوں کے بعد ہی مخصوص نشستیں ملنی ہیں، جتنی جنرل نشستیں ہوں گی اتنی ہی مخصوص نشستیں ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ سب سے اہم مسئلہ کٹ آف تاریخ کا ہے، قانون میں ایسا نہیں کہ اس تاریخ تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ کرنا لازم ہے، اگرضمنی انتخابات کو بھی دیکھنے کا کہا جائے تو مخصوص نشستوں والا معاملہ مزید گھمبیر ہوجائے گا۔ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ ضمنی انتخابات میں کسی جماعت کی سیٹیں کم ہو جائیں تو کیا مخصوص نشستیں کم ہوسکتی ہیں؟، جس پر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے وکیل نے بتایا کہ نہیں، مخصوص نشستیں واپس نہیں لی جاسکتیں۔انہوں نے تحفظات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تحفظات ہیں کہ ہمارے 2 نمائندوں کو ایک شمار کیا گیا ہے، نوٹیفکیشنز کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو ہماری 2 مخصوص نشستیں بنتی ہیں۔الیکشن کمیشن نے تمام دلائل سننے کے بعد مخصوص نشستوں کی تقسیم کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔واضح رہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔یہ درخواست پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکریٹری علی اصغر نے دائر کی جس میں کہا گیا کہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہیں۔
