حوروں کا مہمان – تحریر؛ ظہیر الدین
رات کا ایک بجہ۔ وہ چمن میں میز پر کھانا لگارہے ہیں اور پانچ مہمان ساتھ کرسیوں پر بیٹھے انہیں پیار بھری نظروں سے تک رہے ہیں جو ا پنی زبان حال سے بتارہے ہیں کہ دن بھر کے بھوکے اور تھکے ماندے ہیں۔ پھر میں دیکھتا ہوں، مہمان اسی کورس کا کھانا کھارہے ہیں جو شام کے وقت ہم نے کھایا تھا۔ کمرے میں ساتھ سوئے دوست کی خراٹوں نے میری نیند حرام کردی تھی اورمیں اپنی چارپائی پر لیٹے لیٹے یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ میزبان ایک ٹرے میں پانچ کپ چائے بھی میز پر رکھ دیتا ہے اور میزبان پھر کارپٹ کا ایک بڑا سا ٹکڑا گھاس پہ بچھادیتا ہے اور اس پر فوم کا بستر لگادیتا ہے۔ اجنبی مہمان احساس تشکر کے منوں بھاری بوجھ تلے بستر پر دراز ہوتے ہیں اور میزبان انہیں اللہ حافظ کہہ کر برتن میز سے اٹھادیتا ہے۔
چشم فلک نے مہمان نوازی کا یہ مظاہرہ ا ور کہیں شائد دیکھا ہوگا مگرمیرے لئے عمر بھر یاد رہنے اور رکھنے والی بات تھی۔ گزشتہ دنوں صبح سویرے نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب فیس بک پر ایک جانکاہ خبر پر نظر پڑی تو چشم تصور میں کیا دیکھتا ہوں کہ یہ میزبان جنت کے حوروں کے پاس ناشتہ کرنے پہنچ گئے ہیں جسے حور ان الفاظ سے آؤ بھگت کررہے ہیں کہ اے مر د دلاویز! تمہاری مہمان نوازی کا باب آج ختم ہوگیا، آؤ اب ہمارا مہمان بنو، مہمان نوازی کا اصل مزہ ہم تمہیں چکھا دیں گے۔ وہ پر لگی ہوئی سفید چترالی ٹوپی سر پہ سجائے ایک سفید رنگ کے دسترخوان کے سامنے براجمان ہیں۔
امیر اللہ خان یفتالی کی میزبانی سے فیض یاب ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ بات اسی کی ہورہی ہے جوہمہ جہت شخصیت تھے مگر مہمان نوازی ان میں سب سے ا ہم وصف تھا جسے شائد یہ اپنے والد گرامی بابائے لاسپورگل ولی خان یفتالی سے ورثے میں حاصل کیا تھا۔ یہ ایک مشکل اور ہنگامی رات تھی کیونکہ جشن شندور سے واپس آتے ہوئے ہر چین کے نالے میں گلیشیرکاسیلاب آنے سے پیدل کے لئے بھی بند ہوگیا تھا اور سینکڑوں گاڑیاں ہر چین گاؤں میں پھس گئے تھے۔ جس طرح چترال کا قدیم شاعر مرزا سیار کا دعویٰ تھاکہ ریشن کی سرخی مائل مٹی نے یہ سرخ رنگت ان کے محبوب کی ہونٹوں سے مستعار لی ہے اسی طرح میرا بھی ایمان اس بات پر ہے کہ اس دن ہرچین میں ہر خاص وعام نے امیر اللہ یفتالی سے مہمان نوازی مستعار لی تھی جوایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مہمانوں کو اپنے آنکھوں کی پلکوں کے نیچے جگہ دے رہے تھے۔
اس شام یفتالی کے گھر میں اس شام ہم چالیس سے ذیادہ مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ اتنی تعداد میں مہمانوں کی آمد پر ان کے خوب صورت چہرہ اور ہرچین جنالی سے وسیع پیشانی پر کوئی پریشانی یاتھکاوٹ کا اثر دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ میری دانست کے مطابق وہ ہرچین گول کاممنوں نظر آرہا تھا جس کے سیلاب نے انہیں اس تعداد میں مہمانوں کی میزبانی کاموقع دیا تھا اوروہ یقینا ایک ایک لمحے کو انجوائے کررہا تھا۔ صبح ناشتے پر معلوم ہوا کہ رات ایک بجے کے وہ خوش قسمت مہمان سوات کے رہنے والے تھے جن کی گاڑی سورلاسپور میں خراب ہوگئی تھی جسے وہ ٹھیک کرکے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے ہر چین گاؤں پہنچے تو گھر کے سامنے سڑک پر کھڑے یفتالی کے’ہتھے’چڑھ گئے۔اس دن میں مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ‘چترال داستان’کے ایک ایک لفظ کی صداقت کی گواہی دے رہا تھا جس نے والی لاسپور کی مہمان نوازی کے بارے میں لکھا ہے اور گھر پہنچ کر شیلف سے یہ کتاب نکال کر دوبارہ پڑ ھ لیا اور دوبارہ تصدیق کرلی۔
یفتالی صاحب اپنی مہمان نوازی کی طرح خوش لباسی میں بھی نام رکھتے۔ جب بھی چترال شہر آتے تو ان کے بن ٹھن کے ساتھ ان کی وجیہہ اور دل موہ لینے والی شخصیت دیکھ کر رک کر انہیں دیکھنے کو دل چاہتا اور اجنبی راہ گیر بھی اپنی نظریں نہ بچا پاتے اور کھوار گانے کا مصرعہ “ژانیر و پوشاؤ گونیانئے نانو ژان نان غیروم، نوژان تہ لوڑاؤ گونیان “عملی تفسیربن کرسامنے آتی جس میں ایک ماں اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے کہتی ہے کہ ترے جاننے والے تجھے ملنے اوراجنبی تمہاری ایک جھلک دیکھنے آتے ہیں۔ امیر اللہ یفتالی رات کے اس پہر بھی اسی لباس میں ملبوس تھے، پر لگی ہوئی سفید چترالی ٹوپی، کپڑوں پر استری کے تہہ ابھی تازہ نظر آرہے تھے اور پاؤں میں چپل کی بجائے بلیک شوز جن پرپالش چمک رہی تھی اور میں ان کی مسحور کن شخصیت پر سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں پہنچ گیا تھا۔
ایک ماہ پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں جب ان کی مزاج پرسی کے لئے گئے تو عادت سے مجبور یفتالی نے پاس موجود بیٹے کو تعجب کی نظروں سے دیکھنے لگے کہ میرے مہمانوں کے لئے پینے کی کوئی چیز کیوں نہیں آئی حالانکہ ان کے پاس آئے بمشکل دومنٹ کا وقت ہی گزر گیا تھا۔ ہسپتال میں بھی خو ش لباسی اورمرض کی شدت کے باوجود وہی خندہ پیشانی اوردلفریب مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ہوئے تھے اور جب میں ان سے رخصت لے رہے تھا تو انجانے طور پر سوچ رہا تھا کہ اب جی بھر دیکھ لو اور ان کی میزبانی کا مزا لے لو کہ پھر قیامت سے پہلے پھر کبھی نہیں ملنا ہے۔
