تریچ میر ٹریکنگ کا آغاز 13 جولائی سے ہوگا، تریچ میر سمٹ سے چترال کی سیاحت کو کافی فروغ ملے گا،حبیب عارف ڈی جی کلچراینڈٹورازم اتھارٹی
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز)خیبرپختونخوا کی بلند ترین چوٹی تریچ میر بیس کیمپ تک ٹریکنگ کا پہلا گروپ 13 جولائی سے چترال سے روانہ ہوگا۔ صوبائی حکومت صوبہ میں ایڈونچر سیاحت کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھارہی ہے۔ تریچ میر سمٹ سے چترال کی سیاحت کو کافی فروغ ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹرجنرل خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی حبیب اللہ عارف نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی کے کانفرنس ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ٹورازم اتھارٹی حبیب اللہ عارف کا کہنا تھا کہ ہندوکش پہاڑی سلسلہ کی بلند ترین چوٹی کو مارکیٹ کرنے کیلئے اپنے لوگوں کو دعوت دی اور اس میں 500 سے زائد مرد جبکہ 100 سے زائد خواتین ٹریکرز نے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایات پر صوبہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے نہ صرف مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کررہے ہیں۔ اٹلی کے پروفیسر پنیلی کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کردیئے ہیں۔ اب جلد ہی چترال میں ایڈونچر ٹریننگ سکول کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جس میں صوبے کے مردو خواتین کو مذکورہ ٹریننگ دی جائے گی۔ تریچ میر بیس کیمپ کیلئے دوسرا گروپ جولائی کے آخری ہفتے جبکہ تیسرا گروپ اگست کے پہلے ہفتے میں ٹریکنگ کیلئے روانہ ہوگا۔ ٹریچ میر سمٹ میں مقامی پورٹرز کا شامل کیا گیا ہے جس کا براہ راست فائدہ مقامی کمیونٹی کو ہوگا۔ صوبائی حکومت نے سال 2025-26 کیلئے رائلٹی فیس کی معافی کابھی اعلان کیا ہے جو کہ 2500ڈالر سے لیکر4ہزار ڈالر تک ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت کے اس اقدام سے چترال اور خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کی معیشت کو مستقبل میں فائدہ ہوگا۔
