لاہور آلودگی سے خوبصورتی تک ۔ میری بات/روہیل اکبر
لاہور زندہ دلوں کا شہر کبھی باغوں کا شہر بھی تھا اس شہر کی خوبصورتی اور بہاریں دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے سیاح آتے تھے خاص کر بسنت کا تہوار تو ایسا رنگین اور دلفریب ہوتا تھا جس کے لیے گھروں کی چھتیں بک کروائی جاتی تھی اور پھر غیر ملکی مہمانوں سمیت پورے ملک سے آئے ہوئے لوگ دل ہوا بو کاٹا جیسے گانوں کے ساتھ بسنت کو خوب انجوائے کرتے پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے دھاتی ڈور سے معصوم شہریوں کی گردنیں کاٹنا شروع کردی جسکے بعد مجبورا حکومت نے اس خوبسورت تہوار کو بین کردیا رہی بات باغوں کی انہیں بھی ہم نے اجاڑدیا رنگوں بھرا شہرگردو غبار اور دھوئیں کی لپیٹ میں ایسا آیا کہ ہم لاہور کے باسی دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر آگئے مسلم لیگ کی موجودہ حکومت نے راجہ جہانگیر انور کو سیکریٹری ماحولیات بنا دیا جسکے بعد لاہورکی فضائی رنگینیاں بحال ہونا شروع ہوگئی اور آج ہم صاف ستھرے ماحول میں سانس لے رہے ہیں رہی
بات باغوں کی اب وہاں بھی راجہ صاحب کے آنے سے پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیں لاہور کو گل گلزار اور کھیلوں کے پارکوں میں رنگ بھرنا پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA)کی ذمہ داری ہے لیکن اس محکمہ کی وجہ سے لاہور کے پارک کوڑا دان بن گئے گرین بلٹس ختم ہو گئی اورپھر شہر میں پھولوں کی رنگینیاں بھی ختم ہو گئی لیکن جب سے راجہ منصور کو ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA) بنایا گیا تب سے شہر میں پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیں راجہ منصور کمال کے انسان ہیں کام کرنا تو جانتے ہی ہیں ساتھ میں کام کروانا بھی خوب جانتے ہیں اسی لیے لاہور میں پی ایچ اے کا کام اب نظر آنا شروع ہو چکا ہے پارکوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے کنارے پر بھی پھولوں کے رنگ نظر آتے ہیں کیونکہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA) کا بنیادی کام ہی شہر کو سرسبز و شاداب بنانا، ماحول کو بہتر بنانا اور عوامی تفریحی مقامات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ لاہور کے عوامی پارکس، گرین بیلٹس، کھیل کے میدانوں اور دیگر کھلی تفریحی جگہوں کی دیکھ بھال اور انہیں بہتر بناناہے اس میں نئے پارکس بنانا اور موجودہ پارکس کو اپ گریڈ کرنا شہر میں درخت لگانا، پھولوں اور پودوں کی کاشت کرنا اور باغبانی کو فروغ دیکرشہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا بھی شامل ہے
پی ایچ اے ہی سڑکوں کے اطراف، چوراہوں اور اہم مقامات کو خوبصورت بناکر اس میں لائٹنگ، پھولوں کے انتظامات اور پودوں سے مختلف اشکال کو بنانے سمیت شہر میں بل بورڈز اور دیگر آؤٹ ڈور اشتہارات کی تنصیب اور ان کے ضوابط کو کنٹرول کرتا ہے پی ایچ اے کی ہی ذمہ داری ہے کہ مختلف ثقافتی تہواروں، باغبانی کے پروگرامز، پھولوں کی نمائشوں اور دیگر عوامی تقریبات کا انعقاد کروانا تاکہ شہریوں کو تفریح اور تفریح کے مواقع میسر آ سکیں قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا بھی پی ایچ اے کی ہی ذمہ داری ہے جو ماحول کے لیے ضروری ہیں اس میں سموگ کے خاتمے اور ماحول کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ شامل ہے پی ایچ اے کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مختلف پارکس میں کھیلوں کی سہولیات فراہم کرے تاکہ کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے اور ہسپتالوں کا رش کم ہو سکے لیکن بدقسمتی سے پی ایچ نے کھیل کے میدان تو کیا آباد کرنا تھے الٹا جن پارکس میں بچے فٹ بال،والی بال،یا کوئی بھی کھیل کھیل سکیں وہاں پر بچوں کو ایک فٹ بال لانے کی بھی اجازت نہیں
گلی محلوں میں بچے کھیل نہیں سکتے میدان ہے نہیں جو ہیں وہ قابضین کے پاس ہیں تو ایسے میں ہماری نوجوانی کی حدود میں قدم رکھنے والی نسل کہاں جائے شائد انہی حالات کو دیکھتے ہوئے لاہور کی پہچان اور خوبصورت انسان بلال یاسین نے راجہ منصور کو پی ایچ اے کا ڈی جی تعینات کردیا جسکے بعد لاہور ایک بار پھر سے باغوں اور بہاروں کا شہر بننا شروع ہوگیا ہے ایسا لگتا ہے کہ راجہ صاحب کے آتے ہی پی ایچ اے میں بھی جان آگئی جس نے لاہور کی اہم شاہراہوں اور گرین بیلٹس پر بوگن ویلیا بیلوں کی شجرکاری کا آغازکردیا ہے تاکہ شہر کی خوبصورتی پائیدار انداز میں برقرار رہے اور ”گرین لاہور” نامی منصوبہ سے شہریوں کو مفت پودے فراہم کیے جائیں گے پی ایچ اے کے مالی مفت پودے لگانے اور ان کی دیکھ بھال میں مددبھی کریں گے پی ایچ اے نے شہریوں کے لیے آن لائن گلدستے فراہم کرنے کی سروس بھی شروع کردی ہے تاکہ لوگ واٹس ایپ پر آرڈر کر کے اپنے گھر پر گلدستے منگوا سکیں
پی ایچ اے نے ملازمین کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل حاضری کے نظام، پی ایچ اے پارکس کی جیو میپنگ اور ریونیو مینجمنٹ اور مانیٹرنگ سسٹم جیسے آئی ٹی اقدامات پر بھی کام شروع کردیا ہے تاکہ بہتر حکمرانی اور عوامی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ شہر کے پلوں اور سب ویز کو سرسبز بنانے کا کام بھی تیزی سے اپنے اختتام کی طرف ہے اورشاہدرہ ریلوے اسٹیشن سے رائیونڈ تک ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف ماحول دوست پارکس بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے کیونکہ راجہ منصور کا مقصد لاہور کو مزید سرسبز، صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور تفریحی سہولیات میسر آ سکیں اور لاہور ایک بار پھرپھولوں کی خوشبو اور رنگینیوں سے جگمگا اٹھے لاہور تو اپنے نام سے ہی تاریخی اہمیت اور قدرتی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے اب بھی لاہور میں کئی تاریخی اور جدید باغات موجود ہیں جو نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ شہریوں اور سیاحوں کے لیے تفریحی اور پرسکون ماحول بھی فراہم کرتے ہیں
ان میں شالامار باغ (Shalamar Bagh) جو مغل شہنشاہ شاہجہاں نے 1641 عیسوی میں بنوایا تھا یہ مغل طرز تعمیر اور باغبانی کا ایک شاندار نمونہ ہے جویونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔باغِ جناح (Jinnah Garden / Lawrence Garden)یہ لاہور کے سب سے بڑے اور خوبصورت باغات میں سے ایک ہے جس میں ایک لائبریری، مسجد اور پودوں کی نرسری بھی موجود ہے۔گلشن اقبال پارک (Gulshan-e-Iqbal Park) یہ ایک بڑا اور مشہور پارک ہے جہاں بچوں کے لیے جھولے اور تفریحی سرگرمیاں دستیاب ہیں۔ گریٹر اقبال پارک (Greater Iqbal Park) مینارِ پاکستان کے گرد بنایا گیا یہ ایک وسیع پارک ہے جس میں لاہور کی تاریخ اور ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ریس کورس پارک (Race Course Park / Jillani Park) یہ بھی لاہور کے بڑے پارکوں میں سے ایک ہے جہاں لوگ صبح کی سیر اور تفریح کے لیے آتے ہیں امید ہے کہ راجہ منصور کے آنے سے پارکوں میں کھیلوں کی سرگرمیاں بھی ہونگی اور شہر کی رنگینیاں بھی بحال ہونگی۔
