چترال بونی روڈ کی تعمیررواں سال اکتوبر کے اخر تک مکمل ہوگی، تاہم بونی مستوج شندور روڈ اگلے سال مکمل کیا جائے گا، چیرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن برگیڈئیر (ر) مظفر خالد رانجھا
بونی(ایس این پیر زادہ)چترال میں جاری این ایچ اے روڈ پراجیکٹس سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تقرر شدہ معائنہ کمیشن ٹیم نے چیرمین برگیڈئیر (ر) مظفر خالد رانجھا کی قیادت میں اپر چترال کا دورہ کیا، دورے کا مقصد چترال شندور روڈ پر جاری کام کا معائنہ اور پیش رفت سے علاقے کے عوام کو آگاہ کرنا تھا، ٹیم کے ساتھ متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے سربراہان اور پراجیکٹ کنٹریکٹر بھی موجود تھے، بونی پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال حسیب الرحمان اور علاقے کے عمائدین نے استقبال کیا، چیرمین معائنہ کمیشن نے چترال شندور روڈ اور لواری اپروچ روڈ سے متعلق حاضرین کو تفصیل سے بریفننگ دی،
انہوں بتایا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی طرف سے اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کے لیے سخت ہدایات ہیں جنکی بنیاد پر ہر حال میں اس منصوبے کو بونی تک اس سال اکتوبر تک مکمل کیا جائے گا، جی ایم این ایچ اے چترال پراجیکٹ تنویر اسحاق نے بتایا کہ لواری اپروچ روڈ کے لیے 48 کروڑ روپے جاری ہوچکے ہیں اور موقع پر کام کا آغاز ہوگیا ہے،جبکہ چترال بونی شندور روڈ منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے چترال سے بونی تک کام شروع ہو چکا ہے اور لوئر چترال کی حدود تک زمین مالکان کو ادائیگی کے لیے ایک ارب روپے ڈی سی لوئر چترال کو فراہم کیے گئے ہیں، پروجیکٹ ڈائریکٹر چترال شندور روڈ اسد راحت نے بتایا کہ چترال شندور روڈ پر مختلف مقامات پر سڑک اور دریا کنارے پروٹیکشن وال تعمیر کیے جائیں گے جس سے سڑک اور دریا کے کنارے واقع زمینات کو بھی تحفظ ملے گی، خاص کر ریشن کے مقام پر پروٹیکشن وال کی تعمیر سے عوام کو پہلے سے دریا برد شدہ زمینات کو دوبارہ آباد کرنے کا موقع ملے گا، ایکسین ایریگیشن نے بتایا کہ ریشن کے مقام پر دریا کا رخ موڑنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 35 کروڑ روپے جاری ہوچکے ہیں اور جلد کام کا آغاز کیا جائے گا،
وفاقی حکومت کے پراجیکٹ بونی بزند روڈ منصوبے میں تاخیر کے خلاف عوامی شکایت پر چیرمین معائنہ کمیشن نے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کی سرزنش کی اور معاملے کی انکوائری کرانے کا اعلان جو منصوبے کی شفافیت اور کام میں تاخیر کی وجوہات کو معلوم کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔ چیرمین معائنہ کمیشن نے وزیراعظم پاکستان طرف سے اعلان کردہ 200 بیڈ ہسپتال کو اپر چترال میں تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور ضمن میں صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والے پیش رفت سے شرکا کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر اپر چترال کے عوام کی طرف سے سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین، سابق صوبائی وزیر سلیم خان، سابق ایم پی اے سید احمد خان ،تحصیل چیرمین مستوج سردار حکیم اور جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن پرنس سلطان الملک نے چترال شندور روڈ کی تعمیر کے حوالے سے سفارشات کے ساتھ معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔


