داد بیداد ۔ عالمی اقوام کا اخلا قی معیار۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
اکیسویں صدی میں جن قوموں کے پا س جدید صنعتوں میں ترقی کی طا قت ہے سائنس اور ٹیکنا لو جی میں نئے تجر بات اور اخترا عات کی جو قوت اور صلا حیت ہے اس کا صرف دس فیصد (10%) انسا نیت کی فلا ح کے لئے کام آتا ہے باقی 90فیصد انسا نیت کی تبا ہی اور بر بادی کے لئے استعمال میں لا یا جا رہا ہے بعض لو گ غیر مسلم اقوام کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ سڑک پر فاختہ، کبو تر یا گلہری نظر آئے تو وہ گاڑی روک لیتے ہیں اور بے زبان پر ندے یا بے زبان جا نور کی جا ن بچاتے ہیں، کتنے رحم دل لو گ ہیں مگر یہی لو گ جو سڑک پر کسی بے زبان کی جا ن بچاتے ہوئے رحم دل نظر آتے ہیں وہ انسان کی جا ن لیتے ہوئے زما نہ قدیم کے آدم خور قبائل سے کئی گنا زیا دہ سفاک، بے رحم اور سنگدل ہونے کا ثبوت دیتے ہیں کسی ہسپتال پر بمباری کر کے 600بیماروں کو خون میں نہلا تے وقت بے رحم نظر آتے ہیں
کسی سکول پر میزائیل ما رکر 400بچوں کو چشم زدن میں قتل کر کے آدم خور معلوم ہو تے ہیں ایک امریکی صنعتکار کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بچوں کو بیمار یوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اربوں ڈالر خر چ کر رہے ہیں اسی صنعت کار نے فلسطینی بچوں کے قتل عام کے لئے اتنے ہی ڈالر اسرائیل کے وزارت دفاع کو عطیہ کر دیا ہے اخلا قی پستی کی حد یہ ہے کہ وہ اس پر فخر بھی کر تا ہے ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ہم ایک بلی کی جا ن بچا نے پر ڈرائیور کو شا باش دیتے ہیں حا لا نکہ وہی ڈرائیور پچھلے سٹاپ پر 4بچوں کو کچل کر آیا ہوا ہے، ہمیں بچی ہوئی بلی نظر آتی ہے مرے ہوئے چار بچے نظر نہیں آتے اسی ذہنیت کا مظا ہرہ مغر بی ذرائع ابلا غ، اقوام متحدہ، سلا متی کونسل، بر طانوی ایوان نمائیندگان اور امریکی کانگریس کی طرف سے ایران اسرائیل کشید گی پر کیا جا رہا ہے امریکہ، بر طانیہ، اقوام متحدہ اور ان کے اتحا دی مل کر تل ابیب پر ایرانی میزائیل حملوں کی مذمت کر تے ہیں
لیکن غزہ پر اسرائیلی حملوں کو درست قرار دیتے ہیں ایران کے خلا ف اسرائیل کی کھلی جا رحیت کی پر زور حما یت کر تے ہیں تیری زلف میں آئی تو حسن کہلا ئی جو سیا ہی میرے نا مہ اعمال میں تھی مسلما نوں کے خلا ف امریکہ اور نیٹو مما لک کی جنگ لمبی تاریخ رکھتی ہے امریکہ نے 1974میں پا کستان پر پا بند یاں لگا کر مطا لبہ کیا کہ سائنسی تجر بہ گا ہ کو بند کر و ایسا نہ کیا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا اسی طرح 1989ء میں ایران پر پا بند یوں میں مزید سختی لا کر مطا لبہ کیا کہ سائنسی تجر بہ گاہ بند کر وورنہ ہم تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دینگے اُس وقت امریکہ چاہتا تھا کہ ایشیائے کو چک میں اسرائیل اور بھا رت کے سوا کسی بھی ملک کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجا زت نہ دی جا ئے کسی مسلمان ملک کی مجا ل نہیں ہو نی چاہئیے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو کر دفاعی صلا حیت حا صل کر ے 50سال پہلے امریکی حکومت کا مشن یہ تھا کہ 1920تک عظیم تر اسرائیل کا قیام عمل میں لا یا جا ئے جس کی سرحدیں مشرق میں بھارت کی سرحد کے ساتھ ملے ہوئے ہوں،
اس عظیم تر ملک کا نقشہ پرو فیسر چوسو ڈوسکی (Prf. Chussodvosky) نے 1991ء میں شائع کیا تھا اس نقشے میں اردن، مصر، شام، عراق، یمن، بحرین، کویت سعودی عرب، متحدہ عرب اما رات، ایران، افغا نستان اور پا کستان کے نا م اور جھنڈے نہیں دکھا ئے گئے ہیں اسرائیل کے بعد بھا رت کا نا م آتا ہے یہ نقشہ کتاب میں بھی ہے انٹر نیٹ کے ذخیرہ میں بھی نظر آتا ہے پا کستان اور ایران کو سائنسی تجر بہ گاہ بنا نے سے اسی لئے روکا جا رہا تھا 1980ء سے 1988ء تک امریکہ نے عراق کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایران کے خلاف طویل جنگ لڑی مگر بری طرح نا کام ہواحا لیہ جنگ ایران کے خلاف امریکہ کی دوسری لڑائی ہے جو اسرائیل کے کندھے پر بندوق رکھ کر لڑی جا رہی ہے ہمارے مہربان مولانا محمد امین زار چترالی اس بات پر تعجب اور حیرت کا اظہار کر تے ہیں کہ سائنس کی محیر العقول ترقی کو انسا نی ہلا کت کے سامان تیار کرنے پر کیوں لگا یا جا رہا ہے؟
یہ ایٹمی ہتھیار، یہ ایٹمی وار ہیڈ، یہ میزائیل یہ راکٹ اور یہ جنگی جہا ز جتنی قیمت پر آتے ہیں اس سے کم لا گت پر مہلک امراض کے علا ج کے لئے ہسپتال قائم کئے جا سکتے ہیں انا ج اور پھلوں کی پیداوار میں اضا فے کے لئے لیبارٹریاں قائم کی جا سکتی ہیں سائنسی ترقی کے اس نا ہنجار دور میں کینسر اور ایڈز جیسی اٹھا رہ بیماریاں ایسی ہیں جن کو لا علا ج قرار دیا گیا ہے گر دے اور جگر کی چار بیما ریوں کا علا ج دریافت نہیں ہوا مگر سائنس اور ٹیکنا لو جی ان سب کو چھوڑ کر انسا نی ہلا کت کے سامان تیار کر نے پر لگی ہوئی ہے
میں نے مولانا صاحب کو ایک مغر بی دانشور کا یہ قول یا د دلا یا کہ انسان نے ہوا میں پرندے کی طرح اڑ نا اور سمندر میں مچھلی کی طرح تیر نا سیکھا مگر زمین پر انسان بن کر رہنا نہیں سیکھا، یہی تما م ہلا کتوں کی جڑ ہے زمینی حقا ئق کی رو سے سائنس اور ٹیکنا لو جی ایک کاروبار ہے اس کا روبار میں ہلا کت کے سامان فروخت کرنے پر زیا دہ منا فع آتا ہے انسا نی فلا ح و بہبود کے اسباب فروخت کرنے پر اتنا منا فع نہیں ملتا، جنگ ایک نفع بخش تجا رت ہے اور امریکی معیشت میں 70فیصد آمدن جنگ سے حا صل کیا جا تا ہے عالمی طاقتوں کا کوئی اخلاقی معیا نہیں پوری دنیا کو جمہو ریت کا در س دیتے ہیں سلا متی کونسل میں 14ووٹوں کے مقا بلے میں ویٹو والا ایک ووٹ جیت جا تا ہے یہ ان کا سٹینڈرڈ ہے۔
