سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں انقلابی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں: مشیرسیاحت و ثقافت زاہد چن زیب
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت، زاہد چن زیب کی قیادت میں سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں نمایاں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ان منصوبوں کے لیے کثیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جس پرزاہد چن زیب نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاحت اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 120 ملین روپے کی لاگت سے کمیونٹی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی، جبکہ صوبے کے قیمتی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے نشتر ہال کے بنیادی ڈھانچے پر 75 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں ڈیم سائٹس پر تفریحی سہولیات کی فراہمی کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے تین ڈیمز پر جلد ہی کام کا آغاز ہو جائے گا۔ سیاحوں کی سہولت کے لیے 9 مقامات پر خدمات کی فراہمی کے لیے 450 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
صوبے کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے 6 آبشاروں کے قریب بیٹھنے کی جگہوں، واش رومز اور ٹک شاپس کی تعمیر کے لیے 300 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں پکنک سپاٹ منصوبوں کے لیے 288 ملین روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ مشاورت، فزیبلٹی اور ماسٹر پلاننگ کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔کاغان، ناران، کالام اور ٹھنڈیانی جیسے معروف سیاحتی مقامات پر واش رومز اور پبلک سینیٹیشن انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ایکو ٹورازم کو فروغ دینے اور سیاحتی مقامات پر کوڑا کرکٹ کے انتظام کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت 500 ملین روپے کا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔
ٹھنڈیانی میں سیاحتی ترقی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں 30 مئی 2025 کو اظہار دلچسپی (EOI) کا آغاز ہوا تھا اور اب RFP جاری کیے جا چکے ہیں۔ امید ہے کہ ستمبر تک ایک سرمایہ کار وہاں ایک ITG (Integrated Tourism Zone) تیار کرے گا۔ گنول میں بھی کام جاری ہے۔ PPP کے تحت ہنڈ صوابی میں ایک پارک، گبین جبہ ناران میں کیمپنگ ولیج، اور خیشگی میں واٹر پارک کی تعمیر تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کاغان میں ایڈونچر پارک، چارسدہ میں سردریاب کے قریب ایک ریزورٹ، اور پشاور میں مامو خٹکے کے مقام پر ایک تھیم پارک بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔حکومت ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے بھی پرعزم ہے۔ ان اضلاع میں آثار قدیمہ کے مقامات کے تحفظ کے لیے 150 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیاحت کے شعبے میں نئے ریزورٹس کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں، اور ضم اضلاع میں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں جلد ہی کیمپنگ پوڈز بھی نصب کیے جائیں گے۔ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کو سیاحت کے شعبے میں شامل کرنے کے لیے فیسٹیولز کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے لیے 426 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، UNDP کے ذریعے ضم اضلاع میں کیمپنگ پوڈز نصب کیے جائیں گے، جس کے لیے 1.5 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان تمام منصوبوں کا مقصد خیبر پختونخوا میں سیاحت اور ثقافت کو فروغ دینا، مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور صوبے کو ایک پرکشش اور مستحکم سیاحتی مقام بنانا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 26-2025 کے سالانہ بجٹ میں کھیل اور امور نوجوانان کے شعبے کو ترجیح دیکر اس کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے،
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 26-2025 کے سالانہ بجٹ میں کھیل اور امور نوجوانان کے شعبے کو ترجیح دیکر اس کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔اس شعبے کیلئے گذشتہ بجٹ 8.9 ارب روپے تھا جسے آئندہ سال کیلئے 30 فیصد بڑھا کر 11.6 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ حکومت نے نوجوان طبقے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے شروع کردہ فلیگ شپ منصوبے احساس نوجوان پروگرام کیلئے 1.5 بلین روپے مختص کئے ہیں۔بجٹ میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی کیلئے 800 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس طرح فٹسال گراؤنڈز کے قیام کیلئے 316.8 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبہ بھر میں کھیلوں کے سہولیات کی ترقی،سٹینڈرڈائزیشن اور اپگریڈیشن کیلئے 11 ملین روپے مختص کئے ہیں۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں یوتھ ڈویلپمنٹ پیکج کیلئے 315 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال کے بجٹ میں ضلع بونیر میں ایک بین الاقوامی معیار کے کثیر المقاصد انڈور جمنازیم کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کیلئے کھیلوں اور صحت مند جسمانی سرگرمیوں کی جدید سہولیات فراہم کی جاسکیں۔اسی طرح خیبر پختونخوا کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین کیلئے انڈور کھیلوں کے سہولیات کے قیام کا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ معاشرے میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کھیل اورامور نوجوانان کو ترجیحات میں شامل کرنا صوبائی حکومت کا ایک اہم قدم ہے جو وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخرجہان کی کوششوں سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور اس کیلئے خطیر رقوم مختص کرنا اس عزم کا ثبوت ہے۔
