وزیراعلیٰ نے عید الاضحیٰ کے انتظامات کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو بیس نکات پر مشتمل باضابطہ ہدایت نامہ جاری کردی، سیاحتی مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں پر ٹریفک مینجمنٹ کے خصوصی اقدامات کی ہدایت
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر عید الاضحٰی کے انتظامات کے لئے ضروری احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی سیکرٹریٹ پشاور کی طرف سے متعلقہ محکموں، پولیس، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو بیس نکات پر مشتمل باضابطہ ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو عیدالاضحٰی سے قبل سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح ہدایت کی گئی ہے کہ عید گاہوں، مساجد اور امام بارگاہوں میں عید کی نماز کے لئے سکیورٹی پلانز ترتیب دیے جائیں، کوئی بھی انتظامی افسر متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی پیشگی اجازت کے بغیر ڈیوٹی اسٹیشن نہیں چھوڑے گا۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنرز، اور ڈویژنل کمشنرز چیف سیکرٹری کی اجازت کے بغیر ڈیوٹی اسٹیشنز نہیں چھوڑیں گے۔ بامر مجبوری ڈیوٹی اسٹیشنز چھوڑنے والے افسران کی جگہ پر متبادل افسران تعینات کئے جائیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت کی گئی ہے کہ قربانی کے جانوروں کی منڈیوں اور خریدو فروخت کے دیگر مقامات کی لازمی مانیٹرنگ کرے اور ان مقامات میں جانوروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لئے ویکسینیشن اور اسپرے یقینی بنایا جائے۔ ہدایت نامہ میں عید کی چھٹیوں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی کڑی نگرانی کرنے جبکہ مقررہ کرایوں سے زیادہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح ون وہیلنگ اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواری کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کے لیے ٹریفک پولیس کے خصوصی دستے تعینات کرنے، عید گاہوں اور بازاروں میں خصوصی صفائی مہم کا اہتمام یقینی بنانے، قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے کے لئے خصوصی پلانز ترتیب دینے اور آلائشیں اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے پلانز کے بارے میں مقامی آبادی کو آگاہ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ مزید برآں ہدایت کی گئی ہے کہ عید کی خریداری کے لئے خواتین کے رش والے بازاروں میں فیمل پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں اور ان بازاروں میں خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ سیاحتی مقامات اور ان مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں پر ٹریفک مینجمنٹ کے خصوصی اقدامات کئے جائیں، اس مقصد کے لئے ٹریفک پولیس اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں کی خصوصی ڈیوٹیاں لگائی جائیں۔ متعلقہ حکام کو دریاوں اور ڈیموں پر مروجہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ لائف جیکیٹ کے بغیر کشتی رانی کی ہر گز اجازت نہ دی جائے۔
اسی طرح کشتیوں میں استعداد سے زیادہ سواری بٹھانے اور تیز بہاو والے پانی میں نہانے پر پابندی عائد کی جائے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ پر رکھاجائے۔ عید کے دوران بند سڑکوں کو کھولنے کے لئے محکمہ مواصلات اور اربن ڈیوٹی اتھارٹییز کو بھی الرٹ رہنے جبکہ تمام ٹورسٹ فیسیلیٹیشن سنٹرز اور ہیلپ لائنز ہمہ وقت کھلے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح تفریحی پارکوں پر خصوصی دھیان دینے، تفریحی پارکوں میں نصب جھولوں میں اورلوڈنگ کی ممانعت جاری کرنے اور تمام کیبل کار مالکان سے فٹنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ مزید ہدایت کی گئی ہے کہ تمام مراکز صحت کو ہمہ وقت کھلا رکھا جائے اور ان میں بنیادی ایمرجنسی سہولیات ، ادویات اور عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم پمپس خصوصا سیاحتی مقامات کے پیٹرول پمپس میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، عید کے اجتماعات والی جگہوں کیلئے ٹریفک اور صفائی کے انتظامات کا پیشگی بندوبست کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں جیلوں، ہسپتالوں اور یتیم خانوں کے دورے کریں، تمام ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں کنٹرول رومز قائم کئے جائیں اور عوام کی آگہی کے لئے ان کے رابطہ نمبر مشتہر کئے جائیں۔
