خیبرپختونخوا میں جامعات کی رینکنگ کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے صوبے کی نجی و سرکاری جامعات کی رینکنگ کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو بین الاقوامی اور قومی معیار کے مطابق رینکنگ کا مربوط نظام وضع کرے گی۔محکمہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، تشکیل دی گئی رینکنگ کمیٹی جامعات سے متعلقہ ڈیٹا اکٹھا کرے گی، اس کی جانچ پڑتال اور تجزیہ کرے گی، اور اس بنیاد پر صوبے کی تمام سرکاری و نجی جامعات کی رینکنگ مرتب کر کے رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کرے گی۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز، مینا خان آفریدی نے اس اقدام کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتربنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جامعات کی رینکنگ سے نہ صرف مقابلے کا رجحان فروغ پائے گا بلکہ تحقیق، تدریس، فیکلٹی اور انتظامی ڈھانچے میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعات کی رینکنگ کا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اوربین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگا، جس سے خیبرپختونخوا کی جامعات قومی و بین الاقوامی سطح پر بہتر شناخت حاصل کر سکیں گی۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور جامعات کے چانسلر علی امین گنڈاپور نے انہیں اعلیٰ تعلیم میں دیرپا اور مثبت اصلاحات لانے کا ٹاسک سونپا ہے، اور محکمہ اعلیٰ تعلیم اس ذمہ داری کو سنجیدگی اور دیانت داری سے نبھا رہا ہے
ہراسمنٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی میں مؤثر کارروائی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایک اور مؤثر اور فیصلہ کن قدم اُٹھایا گیا ہے۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) پشاور میں پیش آنے والے ایک ہراسمنٹ کیس کو مکمل شفافیت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں نمٹا دیا گیا ہے۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے اس حوالے سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری پیغام میں KMU انتظامیہ کو شاباش دی اور واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت یا چشم پوشی کی گنجائش نہیں۔انہوں نے لکھا کہ 18 مئی 2025 کو وائس چانسلر KMU کو امتحانی ہال میں ہراسمنٹ کے واقعے کی شکایت موصول ہوئی۔ 19 تا 23 مئی کے دوران یونیورسٹی کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی نے مکمل غیرجانبداری اور شفافیت کے ساتھ تحقیقات مکمل کیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ 26 مئی کو 17 سالہ سروس کے حامل گریڈ 18 افسر کو جرم ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ جبکہ مرکزی ملزم طالب علم کو جامعہ سے مستقل طور پر خارج کرتے ہوئے مستقبل میں کسی بھی تعلیمی پروگرام میں داخلے سے بھی محروم کر دیا گیا۔ دیگر ملوث طلبہ کو ضوابط کے مطابق معمولی سزائیں دی گئیں۔ مینا خان آفریدی نے KMU کی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کرتے ہوئے جامعہ کے وقار اور طلبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں تمام تعلیمی اداروں کو ہراسمنٹ سے پاک بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
