بونی بزند روڈ میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے سی اینڈ ڈبلیو افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں: ٹی ٹی آر ایف
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) تورکھو تریچ روڈ فورم(ٹی ۔ٹی۔آر۔ایف) نے بونی بزند روڈ میں پیشگی ادائیگیوں اور کرپش کی تحقیقات کے لیے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی تین رکنی انکوائری کمیٹی کو مسترد کر دیا ہے۔
پیر کو جاری بیان میں ٹی ٹی آر نے کہا کہ ہم اس حوالے سے اپنا دیرینہ موقف دہراتے ہیں کہ اگر انکوائری یا تحقیقات کرنی ہے تو وہ عدلیہ کی نگرانی میں کی جائے۔
ٹی ٹی آر ایف کا کہنا تھا کہ تورکھو تریچ یو سی کے لوگ گذشتہ ڈیڑھ سال سے اس ایشو پر سڑکوں پر ہیں اور اس دوران محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ٹس سے مس نہیں ہوا۔
’بونی بزند روڈ کے حوالے سے سب سے زیادہ مجرمانہ کردار سی اینڈ ڈبلیو کا ہے، بطور ایگزیکیوٹنگ ایجنسی سی اینڈ ڈبلیو کی اس سڑک پر کام کی بروقت اور معیاری تکمیل کی ذمہ داری تھی جس کے لیے سی اینڈ ڈبلیو کے محکمے کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے پالا جاتا ہے۔ 28 کلومیٹر کی سڑک جس کی ابتدائی لاگت 26 کروڑ تھی اس پر ایک ارب 22 کروڑ کے قریب پیسے خرچ ہوگئے ہیں اور مکمل طور پر چھ کلومیٹر سڑک بھی پکی نہیں ہوئی ہے۔ اس پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور اس کے ایکسین کا کڑا احتساب ہونا چاہیے نہ کہ سی اینڈ ڈبلیو ہی کے افسران سے اس معاملے کی انکوائرئ کرائی جائے۔
ٹی ٹی آر ایف کا کہنا تھا کہ ہمار اول دن سے موقف ہے کہ جو پیشکی پیمنٹ ٹھیکیدار کو غیر قانونی ہوئی ہے اس کے اگینسٹ ورک پلان کے مطابق ان سے معیاری اور جلدی کام کریا جائے۔
اگر اس معاملے کی تحقیقات یا انکوائی کرنی ہے تو وہ صرف اور صرف عدلیہ کی سربراہی میں ہی شفاف انکوائری ہوسکتی ہے اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہوگا وہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، اس کے ایکسین، ایس ڈی او اور ان کے سرپرستوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
ٹی ٹی آر ایف نے نشاندہی کی کہ یہ تورکھو روڈ پر کام میں تاخیر کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جس میں الگی سماعت پر عدالت نے سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو، چیف انجینیئر سی اینڈ ڈبلیو، ایکسین اور ایس ڈی او ذاتی حیثیت میں ریکارڈ سمیت طلب کیا ہے۔ اور تاریخ پیشی 24 جون 2025 مقرر ھے
ٹی ٹی آر ایف اس انکوائری کو شفافیت اور احستاب کے بجائے معاملے کو کارپٹ کے نیچے دینے اور مٹی ڈالنے کی ایک کوشش سمجھتی ہے۔
ٹی ٹی آر ایف کا کہنا ہے کہ اس سڑک پر جو چند کلومیٹر سڑک پکی ہوئی ہے وہ بھی نامکمل ہے کیونکہ دونوں طرف چار چار فٹ سیمنٹ کے شولڈر، سائیڈوں پر نکاسی آب کے لیے نالے اور کئی جگہوں ہر ریٹیننک وال نہیں بنائے گئے ہیں۔
ابھی تک وائیڈننگ کا کام بھی مکمل نہیں ہوا ہے اور بعض جگہوں پر سڑک کی پی سی ون کے لے آؤٹ کے مطابق 32 یا 28 چوڑی ہونے کے بجائے صرف 17 فٹ، 20 فٹ یا اس سے بھی کم ہے۔ کلوٹس کا کام تقریبا پورا کا پورا باقی ہے اس لیے غضب کرپشن کی عجب کہانی پر مٹی ڈالنے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
