The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 1 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

فیلڈ مارشل کیا ہے۔  تحریر: مقصود علی خان چترالی

Chitral Times

فیلڈ مارشل کیا ہے۔  تحریر: مقصود علی خان چترالی

فیلڈ مارشل کیا ہے۔  تحریر: مقصود علی خان چترالی

فیلڈ مارشل کیا ہے۔  تحریر: مقصود علی خان چترالی

دنیا کی عسکری تاریخ میں کچھ عہدے ایسے ہوتے ہیں جو صرف طاقت، قابلیت اور قیادت کی اعلیٰ ترین علامت نہیں ہوتے، بلکہ ان کے ساتھ تاریخ، عزت اور عظمت جُڑی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک اہم ترین فوجی عہدہ “فیلڈ مارشل” کا ہے۔

“فیلڈ مارشل” ایک اعلیٰ ترین فوجی رینک ہے جو کسی ملک کی بری فوج میں غیرمعمولی خدمات، عسکری قیادت اور قومی دفاع میں بے مثال کردار ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ ایک اعزازی رینک ہوتا ہے، جو عمومی طور پر جنگی مہارت اور غیرمعمولی حکمتِ عملی کی بنیاد پر عطا کیا جاتا ہے۔ یہ رینک کسی فعال کمان کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ایک علامتی اور تاحیات اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل کا رینک سب سے پہلے 18ویں صدی میں برطانیہ نے متعارف کروایا۔ برطانوی بادشاہ کنگ جارج دوم نے 1736ء میں یہ رینک جان ولیس نامی جنرل کو عطا کیا، جس کا مقصد اسے دیگر جنرلوں سے ممتاز کرنا اور اس کی جنگی خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔
اس کے بعد یہ رینک کئی دیگر یورپی ممالک میں رائج ہوا، جن میں جرمنی، فرانس، روس اور آسٹریا شامل ہیں۔ ہر ملک نے اپنے مخصوص معیارات اور خدمات کی بنیاد پر اس اعزاز کو دینے کی روایات اپنائیں۔

بھارت نے اب تک صرف دو افراد کو فیلڈ مارشل کا رینک دیا ہے:

. فیلڈ مارشل سم مانک شاؤ
انہیں 1973ء میں فیلڈ مارشل بنایا گیا۔ وہ بھارت کے 1971ء کی جنگ کے ہیرو مانے جاتے ہیں جس میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا۔ ان کی قیادت میں بھارتی فوج نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ ان کے زیرِ کمان بھارتی افواج نے ایک بڑی جنگی کامیابی حاصل کی، جسے بھارت کی عسکری تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔

فیلڈ مارشل کے ایم کریاپّا بھارت کے پہلے آرمی چیف تھے۔ انہیں 1986ء میں فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا گیا۔ وہ بھارتی فوج کو تقسیم کے بعد ازسرنو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باعث اس اعزاز کے مستحق قرار پائے۔

پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک شخص کو فیلڈ مارشل کا رینک دیا گیا، اور وہ تھےفیلڈ مارشل محمد ایوب خان
ایوب خان پاکستان کے پہلے مقامی کمانڈر انچیف تھے، 1951ء میں اس عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کی فوج کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1958ء میں ملک میں مارشل لا نافذ کر کے انہوں نے سیاسی اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا اور 1969ء تک پاکستان کے صدر رہے۔1965 کی جنگ کے بعد انھون نے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کہنا شروع کیا۔جس کی وجہ سے ان پر تنقید بھی ہوتی رہی ۔کہ یہ عہدہ خود ساختہ ہے۔

فیلڈ مارشل بننے کے فوائد و مراعات
فیلڈ مارشل کا رینک حاصل کرنے والے افراد کو تاحیات خصوصی مراعات حاصل ہوتی ہیں، جن میں:
مکمل فوجی اعزازات کے ساتھ سرکاری تقاریب میں شرکت

تاحیات تنخواہ اور پنشن پیکج
خصوصی رہائش، سیکیورٹی اور پروٹوکول
عسکری و سیاسی مشاورت کے مواقع
ملکی سلامتی پر پالیسی سازی میں غیر رسمی کردار۔

ہفتہ قبل کراچی کی مشہور ومعروف درسگاہ جامعتہ الرشید کے مہتمم ،الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبد الرحیم حضرت استاد صاحب نے معروف صحافی جاوید چوہدری سے باتین کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ حافظ سید عاصم منیر نے انڈیا کے خلاف جنگ میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے نہ صرف انڈیا کے رافیل طیارے گرائے،بلکہ ان کا ائربیس بھی تباہ کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔لھذا ان کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا جائے۔۔جب قومی چینل پر یہ مطالبہ منظر عام پر آیا۔تو حکومتی عہدیداروں نے اس پر غور فکر شروع کی

اور آج وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا۔
اللہ کرے جنرل سید حافظ عاصم منیر اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کو ہمیشہ اسی طرح ناقابل تسخیر بنائے۔
حق بہ حق دار رسید۔

تحریر۔۔
مقصود علی خان چترالی دروش شاہنگار۔