وزیراعلی کا تمام دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری عمارتوں کے احاطوں میں پھلدار پودے لگانا لازمی قرار دینے کی ہدایت، ہاوسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن سے متعلق پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا انوائرمنٹ پروٹیکشن کونسل کا تیسرا اجلاس منگل کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور کونسل کے دیگر اراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں کونسل کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور اہم ہدایات جاری کی گئیں۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر تمام سرکاری گھروں، دفاتر، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری عمارتوں کے احاطوں میں پھلدار پودے لازمی قرار دینے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ آنے والی شجرکاری مہم کے دوران سرکاری عمارتوں کے احاطوں اور سڑکوں کے اطراف پھلدار پودے لازمی لگائے جائیں اور اس سلسلے میں تمام حکام کو تحریری ہدایت نامہ جاری کیا جائے۔علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پھلدار درخت لگانے کا عمل معدوم ہوتا جا رہا ہے اسے فروع دینے کی ضرورت ہے، پھلدار درختوں کی موجودگی انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندوں کی بقا کے لئے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ زراعت کو پھلدار پودے لگانے کے لئے خصوصی ذمہ داری دی جائے،
مزید برآں نوجوان نسل میں پھلدار درخت لگانے کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ کے لئے کونسل کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے میں موجود اینٹ کے بھٹوں کو زگ زیک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے 15 دنوں کے اندر مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے انوائرمنٹ پروٹیکشن کونسل کے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے بعض فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر اور حائل رکاوٹوں سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جن محکموں کو کونسل کی جانب سے جو جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں ان ذمہ داریوں کو ایک مہینے میں پورا کر کے کونسل کے اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس میں صوبے میں بغیر این او سی اور منظوری کے قائم پرانی ہاوسنگ سوسائٹیز کو ریگولر کرنے کے فیصلے پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ہاوسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن سے متعلق پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان ہاوسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن سے متعلق 15 دنوں میں واضح پیشرفت یقینی بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں میڈیکل ویسٹ منیجمنٹ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ اجلاس میں بی ٹی ایس ٹاورز اور منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی ریگولیشن کے لیے گائیڈ لائنز کی منظوری دی گئ۔ اسی طرح ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے والے 32 مختلف شعبوں کی ریگولیشن کے لیے گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں کونسل کے لئے ٹیکنیکل کمیٹی، لیگل کمیٹی اور کلائمیٹ چینج کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے جو دن بدن سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، اس مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے بروقت اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، تمام متعلقہ محکمے اور ادارے مل کر اس سلسلے میں ایک جامع اور مربوط حکمت کے تحت اقدامات اٹھائیں۔