لیکشن بی بی اور ان کی کتابیں – تحریر: صوفی محمد اسلم
لیکشن بی بی چترال کے ایک دُور افتادہ علاقے بمبوریت کی بیٹی ہیں، جو اس وقت یورپ میں مقیم ہیں۔ جب بھی انہیں سوشل میڈیا پر دیکھا، ہمیشہ چترال کے باسیوں کے لیے محبت بھرے خیالات اور پُرخلوص گفتگو کرتے پایا۔ خصوصاً نوجوانوں کی تعلیم و ترقی کے حوالے سے وہ ہمیشہ پُرجوش اور سرگرم نظر آتی ہیں۔ وہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی منفی رجحانات کی حوصلہ شکنی اور مثبت اقدار کے فروغ کی تلقین کرتی رہتی ہیں۔ ان کے الفاظ اور کردار سے چترال کے ساتھ والہانہ محبت جھلکتی ہے۔
کتابیں صرف کاغذ کے اوراق کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ علم، سوچ، تاریخ، تجربے اور جذبات کا خزانہ ہوتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کے خیالات کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ لیکشن بی بی نے چترال کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے بڑی تعداد میں کتابیں عطیہ کی ہیں۔ بلاشبہ یہ کتابیں یورپ کے معروف اور معیاری مصنفین کی تحریر کردہ ہوں گی، جو علمی دولت کا درجہ رکھتی ہیں، اور ان سے وہی نوجوان بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے جو انگریزی زبان اور اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہیں۔
اب ایک سوال اکثر ذہنوں میں اُبھرتا ہے: جب آج کے دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے ہر علم تک رسائی ممکن ہے، تو ان کتابوں کی کیا ضرورت ہے؟ اور کیا غیر ملکی کتابیں ہمارے معاشرے پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں؟
پہلی بات یہ کہ لیکشن بی بی، بحیثیت چترالی بیٹی، اپنے علاقے اور لوگوں سے گہری محبت رکھتی ہیں۔ ہمیں ان کے خلوص اور فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ وہ سات سمندر پار رہ کر بھی چترال کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہیں۔ میری ذاتی رائے ہے کہ وہ جو بھی کتب ارسال کر رہی ہیں، وہ یقینا مستند، معیاری اور قابلِ اعتماد مصنفین کی ہوں گی۔ وہ ہرگز ایسا مواد اپنے نوجوانوں کے ہاتھ میں نہیں دیں گی جو غیر سنجیدہ یا گمراہ کن ہو۔
یہ کتابیں غالباً کسی ادارے یا تعلیم یافتہ ٹیم کی نگرانی میں رکھی جائیں گی، جہاں ان تک رسائی ایک منظم طریقے سے ممکن ہوگی۔ لائبریری کا اصول بھی یہی ہوتا ہے کہ کتابوں کی رسائی قارئین کی عمر، سمجھ اور تعلیمی سطح کے مطابق دی جائے۔ چترال کے موجودہ تعلیمی معیار کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ انگریزی کتابیں ڈگری ہولڈرز یا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے موزوں ہوں گی، جو باشعور اور بالغ النظر ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کا نوجوان صرف کتابوں تک محدود نہیں رہا۔ انٹرنیٹ کے ذریعے وہ کہیں زیادہ حساس اور پیچیدہ معلومات تک رسائی رکھتا ہے، حتیٰ کہ “ڈارک ویب” تک بھی۔ ایسے میں کتابوں سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
معاشرے کبھی بھی کتابوں سے خراب نہیں ہوتے۔ جو قومیں کتابوں سے رشتہ جوڑتی ہیں، وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ کتابیں انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہیں، سوچ کو وسعت دیتی ہیں اور اُسے بہتر شہری بننے میں مدد دیتی ہیں۔
لیکشن بی بی کی جانب سے چترال کے نوجوانوں کے لیے کتب کا یہ عطیہ ایک قیمتی فکری سرمایہ ہے، جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ یہ کتب غیر ملکی ہیں، لیکن علم نہ تو قوم کا پابند ہے اور نہ سرحدوں کا۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کی درست رہنمائی کریں تو یہ کتابیں چترال میں ایک فکری انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔
