زہر – وہ بھی کتابیں! مگر کیسے؟ – تحریر: اعجاز احمد ۔ ریلیجس ٹیچر اسلامک سینٹر
کازو سٹی جاپان۔
بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں کہ “کتابوں سے دل لگائیں وہ بہترین دوست ہوتی ہیں”۔
انسانی سوسائٹی میں معیاری اور باعزت زندگی گزارنے کیلئے حالات کے مطابق خود کو ہمہ وقت تیار رکھنا نہایت ضروری ہے وگرنہ وقت کی بدلتی ہوئی تیز ہوائیں آپکو اڑاکر کہیں گمنام ویرانے میں پھینک ڈالیں گی۔
اس تمہید کے بعد آئیے اصل Topic کی طرف۔ امریکہ میں مقیم ایک خاتون کی Donate کردہ کتابوں کو لیکر چترال میں حسبِ سابق social media میں مرچ مصالحوں سے بھر پور بحث چل رہی ہے۔ اور ہماری ناقص رائے میں یہ دونوں فریقین افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ انصاف کی عینک لگاکر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ نہ تو کتابیں فی نفسہ مکمل زہریلی ہوا کرتی ہیں اور نہ مکمل آب حیات۔
پہلی بات!
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا ایمان اور عقیدہ اتنا تو مضبوط ہونا چاہیے کہ راہ چلتا ہر بندہ اور لکھی ہوئی ہر چیز آپکے ایمان کی دیوار میں شگاف نہ ڈال سکے۔ اگر ہمارے ایمان کا قلعہ اتنا بھی اپنا defend نہیں کرسکتا تو سب سے پہلے اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئیے نہ کہ لکھی ہوئی چیز پر گولہ باری
دوسری بات-
ہماری سوسائٹی میں علماء کی مثال عوام الناس کیلئے ایک شفیق اور مہربان ماں جیسی ہوتی ہے (اگر بدقسمتی سے نہیں ہے تو ہونی چاہیئے) جس طرح ماں اپنی اولاد کو ہر طرح کی ضرر رساں چیزوں سے محفوظ رکھنے میں مگن رہتی ہے اور بچے کو سلاتے ہوئے بستر کو جھاڑ کر صاف کرتی ہے اسی طرح علماء کرام کو بھی کرنا تو یہ چاہیئے تھا کہ Donate شدہ کتابوں تک عوام الناس کی رسائی سے پہلے ہی خود انکا نہایت باریک بینی اور اصلاحی نظر سے گہرا مطالعہ کرلیتے اور ان تمام باتوں کو point out کرلیتے جو ہمارے دین، کلچر اور روایات سے میل نہیں کھاتیں۔ اس کے بعد عوام الناس کی awareness کیلئے بذریعہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا انہیں مفید باتیں لینے اور مضر باتوں کو ignore کردینے کی تلقین کرتے۔ اس کے بغیر صرف اس خاطر کتابوں کو”زہر ہلاہل” قرار دینا کہ چونکہ یہ مغرب سے آئی ہیں____مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کل اغیار اور اہل مغرب ہم سے زیادہ ہمارے دین کے وضع کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ اور یہ بات صرف دعویٰ نہیں ہے بلکہ روز کا مشاہدہ ہے۔ آپ حیران ہوں گے یہ سن کر یہاں جاپان میں لوگوں کی روٹین یہ ہے کہ صبح کی آذان سے بھی پہلے اٹھ جاتے ہیں اور ورزش کرنے پارکوں کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ تاکہ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ دن بھر کی ذمہ داریاں جانفشانی سے انجام دیں۔ پھر دن کا قیلولہ ( تھوڑی دیر کے لئے آرام) یہ لوگ فرض کی طرح کرتے ہیں۔ اور رات کا حال یہ ہے کہ عشاء سے پہلے پہلے یہ لوگ سوجاتے ہیں۔ (غیر مسلم ہونے کی وجہ سے نماز سے محروم ہیں۔یہ وضاحت اسلئے تاکہ کوئی میرا بھائی ارےےے بے نمااااز کا اعتراض نہ ٹھوک دے) اب آپ جواب دیں کہ یہ تعلیمات کس کی ہیں؟ اسلام کی نہیں ہیں؟ یقیناً اسلام کی ہیں۔ اسی طرح جھوٹ، دھوکہ فراڈ ملاوٹ وعدہ خلافی وغیرہ سے مکمل دور زندگی گزارتے ہیں۔
اس کا واقعہ بھی پڑھتے جائیے۔ ہماری کمپنی کے ہیڈ نے جسے جاپانی زبان میں “ساچو” کہا جاتا ہے خود مجھے بتایا کہ ایک جاپانی ریسٹورنٹ میں ایک جوڑے نے کھانا کھایا۔ کچھ دیر بعد انہیں تھوڑی سی الٹی آئی۔ وہ ہسپتال گئے اور مذکورہ ریسٹورنٹ میں کھانے کا بتایا۔ فوڈ اتھارٹی والوں نے لیبارٹری میں جب کھانا چیک کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کھانا اگرچہ فریزر میں رکھا گیا تھا لیکن اس پر 24 گھنٹے گزر گئے تھے۔ صرف اس پاداش میں ریسٹورنٹ کو سیل کردیا گیا اور ریسٹورنٹ کا اونر (ساچو) عرصہ 8 سالوں سے جیل میں بند ہے۔ دوسری طرف ہمارے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حال آپ خود ہی جانتے ہیں۔🥲 دین اسلام صرف نماز کا نام نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ کتابوں کا صرف تعلق مغرب سے ہونے پر انہیں زہر ہلاہل قرار دینا چنداں مناسب نہیں۔
اسلئے گزارش ہے کہ کتابوں کو ہاتھوں میں لیجئے مطالعہ کیجئے positive چیزیں سینے سے لگا لیجئے اور nagative باتوں کو ignore کردیجئے
مذکورہ بالا گذارشات سے اختلاف رکھنے کا بھی بھر پور حق حاصل ہے، اپنی رائے کا اظہار کیجئے لیکن اخلاق اور سلیقے سے معطر زبان کا انتخاب کیجئے