وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا صوبے میں جاری سماجی تحفظ کے منصوبوں زمونگ کور اور پناہ گاہوں کو مستقل اور پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لئے ان اداروں کے آپریشنل اخراجات کو ریگولر بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے صوبے میں جاری سماجی تحفظ کے منصوبوں زمونگ کور اور پناہ گاہوں کو مستقل اور پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لئے ان اداروں کے آپریشنل اخراجات کو ریگولر بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سال کے بجٹ میں ان فلاحی سرگرمیوں کے تمام اخراجات کو ریگولر بجٹ میں شامل کیا جائے کیونکہ گرانٹ ان ایڈ کے ذریعے ایسی فلاحی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں چلانا ممکن نہیں۔ یہ فیصلہ انہوں نے زمونگ اور پناہ گاہوں کے معاملات سے متعلق منعقد ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی کابینہ اراکین سید قاسم علی شاہ، مزمل اسلم کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع میں زمونگ کور کے مزید مراکز قائم کرنے جبکہ پشاور میں بچیوں کے لئے زمونگ کور کا الگ مرکز قائم کرنے بھی فیصلہ کیا گیا یے۔ مزید برآں، آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز میں بھی زمونگ کور مراکز کے منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا یے۔
اجلاس میں ڈی آئی خان میں کرائے کی عمارت میں قائم زمونگ کور مرکز کے لئے مستقل عمارت کا بندوبست کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ اس کے علاو ہ اجلاس میں زمونگ کور مراکز کے لئے مستقل عملہ بھرتی کرنے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں قائم پناہ گاہوں کو اپگریڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان پناہ گاہوں میں کمی و خامیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور آنے والے بجٹ میں ان پناہ گاہوں کو اسٹیٹ آف دی آرٹ طرز پر اپگریڈ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے پناہ گاہوں کے عملے کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
اس سال گندم کی خریداری میں 10 ارب روپے کی بچت کی، آئی ایم ایف نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔وزیراعلیٰ
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے جب ہم نے اقتدار سنبھالا اس وقت صوبائی حکومت کے خزانے میں صرف پندرہ دنوں کی تنخواہ کے پیسے موجود تھے اور ہم نے بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے ایک سال کے دوران بجٹ میں 169 ارب روپے کا سرپلس دیا ہے، ہم نے بغیر کسی نئے ٹیکس کے صوبائی حکومت کے آمدن میں 55 ارب روپے کا اضافہ کیا جبکہ گزشتہ حکومت کے دور کے 72 ارب روپے کے بقایاجات بھی اداکئے۔ وہ جمعہ کے روز اسلام آباد میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کے شراکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کےلئے مختص رقم جاری کرنے کے علاوہ مزید 30 ارب روپے اضافی جاری کر رہی ہے جبکہ صوبے کے ترقیاتی پروگرام کا تھرو فارورڈ ساڑھے 13 سال سے کم کرکے ساڑھے چار سال پر لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کے نتیجے میں خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا لیکن ہم نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایسی پالیسی بنائی ہے جس کے تحت صرف ایسے منصوبے شروع کئے جائیں گے جو اپنے مقررہ مدت میں مکمل ہوسکیں تاکہ عوام کے پیسے کا ضیاع نہ ہو۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو صوبے پر 752 ارب روپے کا قرضہ تھا،اس ایک سالہ کے دوران ہم نے ایک روپیہ بھی قرضہ نہیں لیا بلکہ 50 ارب روپے قرضہ واپس بھی کئے،
ہم نے قرضے اتارنے کےلئے 30 ارب روپے سے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کیا یے جسے اس سال کے آخر تک بڑھا کر 50 ارب روپے کیا جائے گا، ہم نے خسارے کے حامل اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بھی انڈومنٹ فنڈز قائم کئے ہیں اور رواں سال کے آخر تک ہم ایسے تمام اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کرپشن ہمارے معاشرے کا ایک ناسور ہے، کڑی نگرانی، بہتر طرز حکمرانی اور ڈیجیٹائزیشن اس کے تدارک کا موثر ذریعہ ہیں جس پر ہم شروع دن سے کام کر رہے ہیں، ہم نے گزشتہ ایک سال کے دوراں جتنی بھی کارکردگی دکھائی ہے یہ سب کچھ بہتر طرز حکمرانی اور بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے ممکن ہوا ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے تمام سکالر شپس اور وضائف ڈبل کئے، زکوٰة کی رقم کو 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار کردیا، جہیز کی رقم کو 25ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا، ہم نے آتے ہی صحت کارڈ کو بحال کیا اور اس کے نرخوں میں 30 فیصد کا اضافہ کیا، صحت کارڈ میں اصلاحات اور موثر نگرانی کے ذریعے ہم ماہانہ ایک ارب روپے کی بچت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہم نے اس سال گندم کی خریداری میں 10 ارب روپے کی بچت کی، آئی ایم ایف نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی ہے جو ہم پر بین الاقوامی اداروں کے اعتماد کا مظہر ہے، ہماری ایک سالہ کارکردگی حقائق پر مبنی ہے اس میں زرا بھی مبالغہ نہیں۔ موجودہ ملکی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، جبکہ تک عمران خان جیل میں ہیں ملک میں سیاسی استحکام ممکن نہیں، ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کی اصل وجہ غلط پالیسیاں ہیں، افغانستان سے مذاکرات کئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے اور کوئی بھی ڈائیلاگ عمران خان کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تمام وفاقی اکائیوں کے مقبول سیاسی لیڈر ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ عوام کی حمایت کے بغیر جیتنا ناممکن ہے، ہم آپریشن کی حمایت اس لئے نہیں کر سکتے کیونکہ آپریشنز کا کوئی فائدہ نہیں،۔عوام کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں اور بحیثیت عوامی نمائندے ہم عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ موجودہ ملکی حالات کو سدھارنے اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لئے اپنا اہم کردار ادا کرے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا ہم سب کو اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر وسیع تر ملکی مفاد کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ وزیر اعلی کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، پی ٹی آئی قائدین، محکمہ اطلاعات کے اعلی حکام کے علاوہ اسلام آباد اور پشاور سے تعلق رکھنے والے سنئیر صحافیوں کی کثیر تعداد نے افطار پارٹی میں شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپورنے ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران کیپٹن حسنین اختر کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران کیپٹن حسنین اختر کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ نے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زخمی سکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے سکیورٹی فورسز کے شہداءاور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔