81 ٹریلین روپے کا بوجھ: حکومت کب تک ادھار پر چلے گی؟ – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان کا بڑھتا ہوا قرضہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ یہ ملکی معیشت، حکومتی پالیسی سازی اور عام شہری کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ آج جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرضہ 81,374 ارب روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو رہا ہے، تو یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم اس نہج تک کیسے پہنچے؟ وہ سفر جو 1947 میں صفر سے شروع ہوا تھا، آخر اتنی تیزی سے قرضوں کی دلدل میں کیسے بدل گیا؟
اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو 1947 میں آزادی کے وقت پاکستان کے پاس وسائل انتہائی محدود تھے۔ صنعت نہ ہونے کے برابر تھی اور زرعی ڈھانچہ بھی تقسیم کے زخموں سے چور تھا۔ لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری اور نئی ریاست کی مشینری چلانے جیسے کوہِ گراں چیلنجز درپیش تھے، مگر اس وقت کی ایک خوش آئند حقیقت یہ تھی کہ نوزائیدہ مملکت پر کوئی بیرونی قرضہ موجود نہیں تھا۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ریاست نے محدود وسائل کے اندر ہی گزارا کرنے کی کوشش کی، مگر بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات، جنگوں کے سائے اور ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت نے بالاآخر اسے قرض کے راستے پر ڈال دیا۔ یوں پاکستان نے اپنا پہلا باقاعدہ بیرونی قرضہ 1958 میں حاصل کیا۔ اس وقت اسے ایک عارضی ضرورت سمجھا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے وقت کے ساتھ قرض لینا ایک مستقل معاشی پالیسی میں تبدیل ہو گیا۔ 1971 تک مجموعی قرض 30 ارب روپے تھا، جو 1988 تک تیزی سے بڑھتا ہوا 523 ارب روپے تک جا پہنچا۔
اس رفتار میں 90 کی دہائی کے بعدمزید شدت آئی۔ 1999 میں جو قرض 2,946 ارب روپے تھا، وہ 2013 تک 14,292 ارب روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ اس صورتحال میں سب سے تشویشناک موڑ 2018 کے بعد آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جو قرضوں کی واپسی کے بلند بانگ دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، اس کے دور میں قرضوں کا گراف نیچے آنے کے بجائے مزید اوپر چلا گیا۔ 2018 میں 24,953 ارب روپے کا قرض 2022 تک بڑھ کر 49,242 ارب روپے ہو گیا، جو کہ ملک کی سیاسی اور معاشی تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے۔
قرضوں کا یہ بے لگام گھوڑا اگلے دو سالوں میں مزید تیزی سے دوڑا اور 2024 میں 71,246 ارب روپے کے ہندسے کو عبور کر گیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک یہ مجموعی بوجھ 81,374 ارب روپے ہو چکا ہے، جس میں 55,363 ارب روپے داخلی اور 26,011 ارب روپے بیرونی قرض کی مد میں شامل ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قرض قومی جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو کہ فنانشل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ کے تحت مقرر کردہ 60 فیصد کی قانونی حد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سادہ لفظوں میں، پاکستان اپنی کمائی سے کہیں زیادہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
قرض میں اس حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ وفاقی حکومت کا مالیاتی خسارہ رہا، جو مالی سال 2025 میں 7.1 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔ تاہم، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بھاری بوجھ کے باوجود وزارتِ خزانہ کے حکام اسے اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں قرضوں کی شرحِ نمو محض 1.1 فیصد رہی، جو ماضی کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ یہ بچت مارک اپ کی ادائیگیوں میں متوقع بجٹ سے 9 فیصد کم خرچ ہونے کی وجہ سے ممکن ہوئی، حالانکہ اسی دوران دفاعی اخراجات اپنے مختص کردہ بجٹ سے تجاوز کر کے 2.192 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔
اگرچہ وزارت مالیات ٹیکس نیٹ میں اضافے اور اخراجات کو کنٹرول کرنے جیسے اقدامات کا مژدہ سنا رہی ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام حکمت عملیاں اب تک بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔ پرانے قرضوں کی واپسی، سود کی ادائیگیاں، اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی وہ عوامل ہیں جو قرض کو پائیدار سطح پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہوتا، لیکن صرف کرنسی کی قیمت گرنے سے ہی قرض میں اربوں روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
آج یہ بوجھ براہ راست عام آدمی کی کمر توڑ رہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان، نت نئے ٹیکسز اور بجلی و گیس کی آسمان چھوتی قیمتیں دراصل اسی قرضی دباؤ کا شاخسانہ ہیں۔
یہ اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ہماری قومی سلامتی اور خودمختاری کا سوال بن چکا ہے۔ اگر قرض اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو حکومتی آمدن کا بڑا حصہ صرف قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں صرف ہوتا رہے گا اور تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے لیے وسائل مزید محدود ہوتے جائیں گے۔وقت آ گیا ہے کہ قرض کو محض ایک معاشی عدد نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جائے۔ پارلیمنٹ کو قرض کی حدوں پر سنجیدہ نگرانی کرنی ہوگی، حکومت کو غیر ضروری اخراجات کم کرنا ہوں گے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا ہوگا، اور معیشت کو حقیقی پیداواری بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔
اسی کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو بھی اس مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ قرض کا بوجھ حکومتوں کا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کا بوجھ ہوتا ہے۔اگر آج ہم نے سنجیدہ اصلاحات نہ کیں تو آنے والی نسلوں کو وراثت میں صرف قرضوں کی معیشت دے کر جائیں گے۔ مگر اگر ہم نے بروقت فیصلے کیے، مالی نظم و ضبط قائم کیا، اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا تو یہی قرض ترقی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔فیصلہ آج کرنا ہوگا۔ کیونکہ قرض بڑھ رہا ہے، وقت کم ہو رہا ہے، اور مستقبل ہمارا انتظار نہیں کرے گا۔
