چترال کے مختلف ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی بڑی تعداد تعینات، مجموعی طور پر 74میڈیکل آفیسرز،10 ڈینٹل سرجنزاور40 نرسز تعینات کی گئی ہیں
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی نگرانی میں فکسڈ پے ہیلتھ کیئر اسٹاف کی بھرتیوں کا عمل مکمل کرتے ہوئے چترال کے مختلف ہسپتالوں، رورل ہیلتھ سنٹرز (RHCs)، کیٹگری ڈی ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت (BHUs) اور سول ڈسپنسریوں (CDs) کے لیے ڈاکٹرز، ڈینٹل سرجنز اور رجسٹرڈ نرسز تعینات کر دی ہیں۔
جاری کردہ فہرست کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال لوئر چترال میں 8 میڈیکل آفیسرز، 4 ڈینٹل سرجنز اور 16 رجسٹرڈ نرسز تعینات کی گئی ہیں، جبکہ کیٹگری ڈی ہسپتال دروش کے لیے 5 میڈیکل آفیسرز، ایک ڈینٹل سرجن اور 10 رجسٹرڈ نرسز فراہم کی گئی ہیں۔
اسی طرح آر ایچ سی آیون اور آر ایچ سی کوغذی میں پہلی مرتبہ 9،9 میڈیکل آفیسرز، ایک ایک ڈینٹل سرجن اور 2،2 رجسٹرڈ نرسز تعینات کی گئی ہیں، جبکہ آر ایچ سی ارندو کے لیے 3 میڈیکل آفیسرز اور ایک ڈینٹل سرجن مقرر کیا گیا ہے۔
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی میں 2 میڈیکل آفیسرز، 2 ڈینٹل سرجنز اور 10 رجسٹرڈ نرسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ لوئر چترال کےعشریت، بروز، بمبوریت، گبور، کیسو، مورئی، پٹی نگار، شوغور، تار شیشی کوہ سمیت متعدد بی ایچ یوز کے لیے ایک، ایک میڈیکل آفیسر جبکہ رمبور، سین لشٹ، سویر، اُرسون، ارکاری، برنس، بیریر، دومیل نثار، گولین، جنجیرت کوہ، کالاش، مدک لشٹ، اوغوچ، پر یئت، پرسات، سمیت مختلف سول ڈسپنسریوں میں بھی میڈیکل آفیسرز تعینات کیے گئے ہیں۔
اسی طرح اپر چترال کے رائین، تریچ، اویر، یارخون لشٹ، گوکھیر اور لون نسکو، زندرگرام، کھوت، بریپ،کوشٹ، ریشون اور سنوغرکے بنیادی مراکز صحت میں بھی ایک، ایک میڈیکل آفیسر تعینات کیا گیا ہے۔
اسی طرح چترال کے مختلف ڈی ایچ کیو، کیٹگری ڈی ہسپتالوں، آر ایچ سیز، بی ایچ یوز اور سی ڈیز کے لیے مجموعی طور پر 74میڈیکل آفیسرز،10 ڈینٹل سرجنز اور 40 نرسز تعینات کی گئی ہیں۔
علاقے کے عوام نے چترال کے مختلف صحت مراکز میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں طبی عملے کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیر صحت، سیکرٹری صحت، منتخب نمائندگان، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں سے خصوصاً دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات بہتر ہوں گی، مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا اور انہیں معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے پشاور یا دیگر اضلاع کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

