ملک میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ ہم نے ان کا حساب لینا ہے اور بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا انصاف یوتھ ونگ اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تقاریب سے خطاب
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے آئینی اور جائز حقوق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے بارے میں عوام خصوصاً نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سلسلے میں طلبہ اپنا فعال کردار ادا کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے حقوق کے حوالے سے مضبوط بیانیہ گھر گھر تک پہنچ سکے۔ آج تک ہم سے ناانصافی ہوتی آئی ہے، ہم مزید اس ناانصافی پر خاموش نہیں رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے ہفتہ کے روز انصاف یوتھ ونگ اور سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پاکستانی سیاست کو ایک نئی تاریخ اور جیہت دی ہے۔ میں نے خود بھی سٹوڈنٹ فیڈریشن سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور آج وزیر اعلیٰ ہوں۔ یہ عمران خان کا وژن ہے کہ اس ملک کے نوجوانوں کو قیادت کے صفِ اوّل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی سیاست کرتی ہے جو حقیقت کے برعکس ہے،اگر اس ملک میں انصاف ملتا تو پی ٹی آئی کبھی بھی احتجاج کی راہ اختیار نہ کرتی۔ انہوں نے وفاق کے امتیازی طرز عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے بعد جن لوگوں نے پریس کانفرنس کی وہ بری ہو گئے، جبکہ جو لوگ عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے انہیں سزا دی گئی اور انصاف کا گلا گھونٹا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ نظام پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے اور عدالتی نظام مفلوج بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے لیکن اس کے باوجود قائد عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد ہمارے پاس احتجاج کے سوا کون سا آئینی راستہ رہ جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جلد این ایف سی کا اجلاس ہو گا اور نوجوانوں کو علم ہونا چاہیے کہ صوبے کے آئینی حقوق کیا ہیں۔ ایک طرف وفاق ہمارا حق نہیں دے رہا اور کہتا ہے کہ پیسے نہیں ہیں، دوسری طرف آئی ایم ایف چارج شیٹ لگا رہا ہے کہ ملک میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ ہم نے ان 5300 ارب روپے کا حساب لینا ہے اور بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق فاٹا کے انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کو این ایف سی میں اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا اور اسی وجہ سے اس اجلاس کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ پہلے کسی نے مانگا یا نہیں مگر اس بار ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں اور لے کر بھی رہیں گے۔ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں ہمارے 2200 ارب روپے کے واجبات وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں، جن کا حصول صوبے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں عمران خان کے وژن پر عملدرآمد، اچھی گورننس اور بہتر سروس ڈلیوری میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ آپ سب کی ذمہ داری ہے کہ عمران خان کے بیانیے اور وژن کو گھر گھر تک پہنچائیں۔ عہدے کسی کو بڑا یا معزز نہیں بناتے، بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کو دیکھ لیں اور دوسری طرف جیل میں قید عمران خان کی عزت و وقار بھی دیکھ لیں۔ انسان عہدوں کو بڑا بناتا ہے، عہدے انسان کو نہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آخر میں نوجوانوں اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں محنت اور ایمانداری کو شعار بنائیں اور نوجوان نسل میں شعور و آگہی پیدا کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
