گزشتہ 10 برسوں میں مغربی دریاؤں کا 51 فیصد پانی بھارت کی طرف سے آیا، پاکستان کے اندر پیدا ہونے والا پانی 49 فیصد رہا۔ قائمہ کمیٹی آبی وسائل کو آبی ذخائر اور ملک میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ،
اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز) وزارتِ آبی وسائل کا کہنا ہے کہ دریائے چناب پر ڈیم کی تعمیر زیر غور ہے، چناب پر ڈیم کے لیے فزیبلٹی اسٹیڈی پر کام ہو چکا ہے، دریائے چناب پر ڈیم چنیوٹ کے مقام پر بنایا جائے گا، دریائے چناپ پر ڈیم کی تعمیر کامقصد بھارت کی طرف سے سیلابی پانی کی روک تھام ہے۔قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو اجلاس کے دوران آبی ذخائر اور ملک میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔وزارت آبی وسائل کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ راوی اور ستلج پر فی الحال کوئی ڈیم زیر غور نہیں، نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان میں وفاق اور صوبوں کیلیے 800 ارب روپے کے منصوبے تجویز ہیں، فلڈ پروٹیکشن کے صوبائی منصوبوں کی لاگت 746 ارب 96 کروڑ 10 لاکھ روپے تجویز ہے، وفاقی سطح پر 77 ارب 53 کروڑ روپے لاگت کے 56 منصوبے تجویز کیے گئے ہیں، فلڈ روک تھام قومی پلان فیز ون میں 170، فیز ٹو میں 205 منصوبے شامل ہیں
دوسری جانب واپڈا حکام نے کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ دریائے چناب ہر سال ملکی آبپاشی نظام کو 23 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کرتا ہے، ریائے چناب کا مکمل کیچمنٹ علاقہ بھارت کی حدود میں واقع ہے، بھارت اپنے جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے پانی میں ردوبدل کر سکتا ہے، گزشتہ 10 برسوں میں مغربی دریاؤں کا 51 فیصد پانی بھارت کی طرف سے آیا، پاکستان کے اندر پیدا ہونے والا پانی 49 فیصد رہا۔واپڈا حکام کی جانب سے کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق دریائے سندھ میں 29 فیصد پانی بھارتی سائیڈ سے آتا ہے، دریائے جہلم کے پانی کا 56 فیصد حصہ منگلا پر بھارت سے داخل ہوتا ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آنے والا پانی مکمل طور پر بھارت کے اندر پیدا ہوتا ہے، بھارت دریائے چناب کے ذریعے سے پاکستان میں پانی کی قلت پیدا کر سکتا ہے، ہماری آبادی اس وقت251 ملین ہے جو 2050ء میں 315 ملین ہو جائے گی،
آبادی بڑھنے سے غذا، توانائی اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کے طلب میں اضافہ ہوگا، 2050ء تک اضافی زرعی آبپاشی کے لیے 60 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا، 2050ء تک شہری آبادی کے لیے 10 ملین ایکڑ فٹ اضافی پانی درکار ہوگا، 2050 تک مجموعی طور پر 70 ملین ایکڑ فٹ اضافی پانی درکار ہوگا، پانی کے ذخائر بڑھانے کے اقدامات کر رہے ہیں منصوبے بروقت مکمل کریں گے۔واپڈا حکام کے مطابق اس وقت ڈیمز کے شارٹ ٹرم 5 منصوبے جاری ہیں جو 2030ء تک مکمل ہوں گے، ڈیامر بھاشا ڈیم 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی 4500 میگاواٹ بجلی فراہم کر سکے گا، مہمنڈ ڈیم 1.29 ملین ایکڑ فٹ پانی اور 800 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا، کرم تنگی ڈیم ٹو 1.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور 18.9 میگاواٹ بجلی کی صلاحیت رکھے گا، نئی گج ڈیم 0.3 ملین ایکڑ فٹ پانی اور 4.2 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا، نولونگ ڈیم میں 0.24 ملین ایکڑ فٹ پانی اور 4.4 میگاواٹ بجلی کی صلاحیت ہوگی، ان منصوبوں سے 11.13 ملین ایکڑ فٹ پانی کی اسٹوریج کپیسٹی بڑھ جائے گی۔
………..
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم، جنرل ساحر شمشاد ذمیداریوں سے سبکدوش
راولپنڈی(سی ایم لنکس)چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوگیا جب کہ جنرل ساحر شمشاد اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوگئے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی ملاقات کی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملک و قوم کے لیے خدمات کی تعریف کی۔27ویں آئینی ترمیم کے بعد پاک فوج میں چیئرمین جوائنٹ چیفس اف اسٹاف کا عہدہ ختم کردیا گیا۔رپورٹس کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا مسلح افواج کے18ویں اور آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) ہوں گے جو 27 نومبر 2025ء کو اپنی ملازمت کی مقررہ مدت پوری کریں گے۔آئین میں 27ویں ترمیم کے نتیجے میں، ان کے بعد کوئی CJCSC نامزد نہیں کیا جائے گا۔پہلے CJCSC جنرل محمد شریف تھے جنہیں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1 مارچ 1976ء کو مقرر کیا تھا۔ایڈمرل محمد شریف اور ایڈمرل افتخار احمد سروہی نیوی سے تھے جبکہ پاکستان ایئر فورس (PAF) سے صرف ایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان نے بطور CJCSC خدمات انجام دیں۔
