اپر چترال کے لیے چار آرب 95کروڑ روپے کا بڑا ترقیاتی پیکیج منظور، سڑکوں، پلوں، سیلاب سے بچاؤ اور آبپاشی کے منصوبے شامل
.
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع چترال اپر میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، سیلاب سے تحفظ، آبپاشی کی سہولیات اور چیک ڈیمز کی تعمیر کے لیے 495 کروڑ روپے کا جامع ترقیاتی پیکیج منظور کرلیا ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا کی جانب سے یکم ستمبر 2026 کو جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اے ڈی پی سکیم نمبر 260850 کے تحت ’’انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج برائے مین روڈز، پل، سیلاب سے بچاؤ کے کام اور چیک ڈیمز برائے ضلع اپر چترال‘‘ کی انتظامی منظوری دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 4 ارب 95 کروڑ روپے (4950 ملین روپے) مقرر کی گئی ہے، جس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے لیے 270 کروڑ روپے جبکہ محکمہ آبپاشی کے لیے 225 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کی مدت 30 جون 2029 مقرر کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد اپر چترال میں سڑکوں اور پلوں کے ذریعے رابطہ کاری بہتر بنانا، سیلاب سے متاثرہ اور خطرے سے دوچار علاقوں کو تحفظ فراہم کرنا، آبپاشی کی سہولیات کو بہتر بنانا اور قدرتی آفات کے مقابلے میں علاقے کی استعداد بڑھانا ہے۔
ترقیاتی پیکیج کے تحت مستوج، تورکھو اور ملکھو کے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و بہتری کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مستوج بروغل پاس روڈ کے 20 کلومیٹر حصے، ریشن پاور ہاؤس روڈ کے 4 کلومیٹر حصے اور تورکھو و ملکھو کے مختلف علاقوں میں پی سی سی سڑکوں کی تعمیر و بہتری شامل ہے۔ اس کے علاوہ پارسپہ اور وریجون میں آر سی سی پلوں کی تعمیر بھی پیکیج کا حصہ ہے۔
اسی طرح آبپاشی کے حصے کے تحت مختلف علاقوں میں سیلاب سے تحفظ کے 19 منصوبے، آبپاشی کی 19 نہروں کے منصوبے اور تین مقامات پر چیک ڈیمز کی تعمیر و بہتری شامل ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد سیلاب اور دریائی کٹاؤ سے قیمتی زرعی اراضی اور آبادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ آبپاشی کا نظام مضبوط بنانا ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے مطابق منصوبے کی منظوری سے قبل اسے متعلقہ فورم پر تفصیلی طور پر زیر بحث لایا گیا، جہاں سڑکوں، پلوں، سیلاب سے بچاؤ اور آبپاشی کے مختلف اجزا کا جائزہ لیا گیا۔ دستاویز میں منصوبے کی منظوری کے بعد اس کی مختلف سرگرمیوں اور مالی حصوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ انتظامی منظوری ہے، جبکہ منصوبوں کے ڈیزائن اور تخمینوں کی تکنیکی منظوری متعلقہ مجاز اتھارٹی سے حاصل کی جائے گی۔ ترقیاتی کام فنڈز کے اجراء اور تکنیکی منظوری کے بعد شروع کیے جائیں گے۔
دستاویز کے مطابق منصوبے کے اخراجات جنرل پبلک سروسز کے تحت منظور شدہ بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
حکومت کے اس بڑے ترقیاتی پیکیج سے اپر چترال کے دور دراز علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کے ذریعے آمدورفت بہتر ہونے، زرعی زمینوں کو سیلاب سے تحفظ ملنے، آبپاشی کی سہولیات میں اضافے اور علاقے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
دریں اثنا ڈپٹی اسپیکر کی فوکل پرسن کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی مسلسل کوششوں اور کاوشوں سے اپر چترال کے لیے ’’محسنِ چترال پیکیج‘‘ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق پیکیج میں شامل اہم منصوبوں میں مستوج–بروغل پاس روڈ: 20 کلومیٹر تعمیر/بہتری، ریشون پاور ہاؤس روڈ: 4 کلومیٹر، تورکھو اور موڑکھو کے علاقوں میں مختلف PCC سڑکیں، پارپیش اور وریجون میں RCC پلوں کی تعمیر، 19 سیلاب سے بچاؤ کے حفاظتی منصوبے، 19 آبپاشی چینلز کی تعمیر/بہتری اور 3 مختلف مقامات پر چیک ڈیمز کی تعمیر شامل ہیں
