Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کا سیاسی معرکہ ۔ تحریر: عبدالحی 

Posted on
شیئر کریں:

چترال کا سیاسی معرکہ ۔ تحریر: عبدالحی

الیکشن 2024 کا میدان سج گیا ہے ۔ ملک بھر کی طرح چترال میں بھی سیاسی گہما گہمی آئے روز بڑھنے لگی ہے ۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں چترال کے سیاسی منظرنامے پر کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ چترال میں قومی اسمبلی کے لئے تمام پارٹیوں کے امیدواروں سمیت کئی آزاد امیدوار بھی میدان میں قسمت آزمائی کے لئے موجود ہیں ۔ شھزادہ محی الدین اور مولانا عبد الرحیم چترالی کے ناموں سے پکارے جانے والے اس ضلعے میں کئی نئے لوگ سیاست کی شطرنج پر ابھرے اور دیکھتے دیکھتے چھا گئےہیں ۔ نئی بنتی بگڑتی تصویروں میں کئی نئے لوگ اپنی دولت سے بھرے بریف کیس سمیت سیاسی منظر نامے میں سامنے آئے ہیں ۔ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر اگر تجزیہ کیا جائے تو قومی اسمبلی کے لئے میدان میں شہزادہ افتخار الدین، عبد اللطیف،طلحہ محمود، انجینئر فضل ربی اور مولانا عبد الاکبر پارٹی ووٹ بینک کے ساتھ میدان میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں ۔

 

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبداللطیف صاحب چترال کی سیاست میں تیسری مرتبہ الیکشن لڑ رہے ہیں اس مرتبہ پی ٹی آئی کے کارکن پرجوش انداز میں ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ موصوف اسٹریم مقابلے میں موجود ہیں تاہم عام لوگ مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت آنے کے خدشے میں ان کی حمایت کو چترال کی ترقی کے لئے مضر اور نقصان دہ سمجھ رہےہیں۔اور کچھ لوگوں کو ان کی زبان کے بے احتیاطی پر بھی اعتراض ہے۔
اگر بات کی جائے شہزادہ افتخار الدین صاحب کی تو وہ اپنی خاندانی وجاہت، ذاتی قابلیت، زبان کی صداقت اور اپنے والد بزرگوار کی نیابت کی وجہ سے ہر خاص و عام کے دل میں اپنے لیے عزت اور محبت کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں اور ضلع بھر کے سیاسی کینوس پر اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ اس الیکشن میں یہ بات سمجھنا بھی اہم ہے کہ مرکزی حکومت مسلم لیگ ن کے آنے کے قوی امکانات کی وجہ سے عوامی رجحان ان کی طرف زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ موصوف میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کے شدید سیاسی حریف بھی ان کی ذاتی قابلیت اور شخصی دیانت وصداقت کے معترف ہیں۔ نیز ان کے سابقہ دور اقتدار میں چترال کے لئے کی گئی خدمات کی وجہ سے بھی کافی تعداد میں لوگ ان کو پسند کرتے ہیں۔ چترال کے ہر علاقے میں ان کے ووٹ بینک ہونے کی وجہ سے بھی میدان کے ایک تگڑا اور The most deserving candidate for chitral ہیں ۔

چترال کے سیاسی میدان میں جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے سینیٹر طلحہ محمود صاحب بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور مقابلے میں شامل ہیں۔الیکشن مہم میں کافی پیسہ خرچ کرنے کی وجہ سے پارٹی ووٹ بینک کے علاوہ بھی عوامی مقبولیت اور ظاہری حمایت میں ایک بھاری بھرکم شخصیت کے طور پر میدان میں قسمت آزمائی کر رہےہیں۔ ان کے فالورز کے نزدیک وہ الیکشن جیت چکے ہیں مگر انتخابی جائزوں کے مقامی ماہرین کے مطابق وہ کئی عوامل کی وجہ اسٹریم مقابلے سے باہر ہیں اس کی ٹھوس وجوہات میں سے ایک سب کو پیسہ نہ ملنا، امداد یا صدقات کے نام پر علماء کرام کی موجودگی میں سبزی کی گاڑی یا دیگر اشیاء خوردونوش کو اس طرح تقسیم کرنا جس سے علاقے کی عزت مجروح ہو۔ان سب سے بڑھ کر عام لوگوں کے نزدیک چترال کی یہ روایت رہی ہے کہ امپورٹڈ امیدوار کو دل کھول کر آو بھگت کرنے کے بعد ان کو حوصلہ افزا ووٹ نہیں دیتے.اس پر مستزاد یہ کہ سابق ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن کی ناقص کارکردگی اور بے جا الزامات کی زد آنا بھی کافی حد تک لوگوں کو متنفر کیا ہے۔ اس کے باوجود بھی مختلف شہروں سے مدارس کے طلباء کی چترال آمد کے بعد ان کے ووٹ بینک میں کافی اضافہ دیکھائی دے رہا۔

محترم انجینئر فضل ربی صاحب بھی اس سیاسی میدان میں پی پی پی کی طرف سے ایک مظبوط امیدوار کے طور موجود ہیں۔ موصوف چترال کے بہت کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف النفس انسان ہیں۔ تحصیل لٹکوہ سے اپنے صوبائی امیدوار کے توسط سے واضح اکثریت حاصل کرنے کی صورت اپنے تمام سیاسی حریفوں کے لئے ناقابل تسخیر بھی بن سکتے ہیں ۔

سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر صاحب کے بارے میں واقفان حال کا خیال ہے کہ سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر ان کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ ان کے سیاسی گراف میں تشویش ناک حد کمی کی اصل وجہ ان کے ضلع بھر کے عوام سے قطع تعلق اور مختلف علاقوں میں صرف انتخابی مہم کے دوران حاضری وسلامی ہے ۔

آخری گزارش: جملہ قارئین سے التماس ہے کہ کسی بھی پارٹی یا فرد کے سیاسی اسکورنگ کے لئے اپنوں سے دست گریباں ہونے کی کوشش نہ کریں۔ بالخصوص دینی جماعتوں کے کارکن دوسروں کے لیے محبت، مودت اور اخلاق حسنہ کی مثال بن جائے ۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے.
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں.


شیئر کریں: