Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنیا اور زندگی – تحریر: اقبا ل حیات اف برغذی

Posted on
شیئر کریں:

دنیا اور زندگی- تحریر: اقبا ل حیات اف برغذی

گندم کی کٹائی کے آیام کی وجہ سے مضمون لکھنے کو فرصت نہ ملی ۔ اس لئے بچپن نادانی اور جوانی مستانی کی کیفیت میں گزرنے کے بعد بڑھاپے کے حدود میں قدم رکھتے ہی زندگی اور دنیا کے بارے میں جو احساسات دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ اشعار کے رنگ میں پیش کرتا ہوں۔

 آتے ہوئے آذان تو جاتے ہوئے نماز اس مختصر سے وقت میں آئے چلے گئے
 حشر تک زیر زمین د و روز بالائے زمین جز لحد دنیا میں کچھ تعمیر کی حاجت نہیں
 زندگی ہے علامت مرگ کی ائے غافلو اور کچھ اس خواب کو تعبیر کی حاجت نہیں
 حقیقت حال دنیا کی اگر معلوم ہوجاتی طبیعت محفل عشرت میں بھی مغموم ہوجاتی
 پیام مرگ سے آئے دل تیر اکیوں دم نکلتا ہے مسافر روز جاتے ہیں یہ راستہ خوب چلتا ہے
 عبث اس زندگی پر غافلوں کا فخرکرنا ہے یہ جینا کوئی جینا ہے کہ جس کے ساتھ مرنا ہے
 ایک مرض بن کر مسلط ہے بلائے زندگانی درد ہی سے ہوتی رہتی ہے دوائے زندگانی
 دنیا عجیب مرحلہء بے ثبات ہے ہر ایک ذی حیات کو آخر ممات ہے
 دن ہے تو دن کے بعد بلا شبہ رات ہے جس کو فنا نہیں ہے وہی ایک ذات ہے
 بیٹھی ہے موت تاگ لگائے کمین میں لے جائے گی کھینچ کے آخر زمین میں
 قوی شدیم چہ شد نا توان شدیم چہ شد چینن شدیم چہ شد چنان شدیم چہ شد
 بہ ھیچ گونہ درین گلستان قرار ے نیست تو بہار شدی چہ شد ماخزان شدیم چہ شد
 فانی ہر ایک چیز ہے فانی جہان ہے مقصود اس فنا سے مگر امتحان ہے


شیئر کریں:
Posted in شعر و شاعریTagged
75710