Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فالتو سرکاری اراضی کا بہتر استعمال………محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


وفاقی حکو مت نے دارالحکومت اسلام آباد اور تمام صو بو ں میں سر کاری اراضی پر ہاؤ سنگ پراجیکٹ کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وفاقی سیکر ٹر ی ہاؤ سنگ اینڈ ورکس کی سر براہی میں سات رکنی اربن ری جنریشن بورڈ قائم کیا گیا ہے بورڈ کے ممبران میں ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤ سنگ اتھارٹی،ایم ڈی پاکستان ہاؤ سنگ فاؤنڈیشن، ڈپٹی چیئر مین نیا پاکستان ہاؤ سنگ اینڈ ڈیو یلپمنٹ اتھارٹی،ڈی جی پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ،متعلقہ صو بے کا چیف سیکر ٹری اورصوبائی ترقیاتی اداروں کے ڈی جی شامل ہیں،مسودہ قانون کے مطابق بورڈ کو وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں،

ان میں سر کاری اراضی کی ترقی، تجاوزات کا خاتمہ، آبادی کیلئے تمام ضروری سہولیات کی فراہمی،سرکاری اراضی کو لیز پر دینا یا فروخت کر نا شامل ہے۔کسی بھی تاریخی عمارت کی تزئین و آرائش کر کے اسے اصل حالت میں لایا جائے گا،بورڈ مختلف مسائل کے حل کے لئے سب کمیٹیاں قائم کر سکے گا، بورڈ کے احکامات پر عملدر آمد نہ کر نا قابل تعزیر جرم ہو گا جس پر دو لاکھ روپے جرمانہ اور تین ماہ قید یا دونو ں سزائیں دی جا سکتی ہیں اورمسلسل خلاف ورزی پر یہ جرمانہ پانچ لاکھ روپے یومیہ بھی ہو سکتا ہے،تمام مالی معاملات کے لئے بورڈ کا اپنافنڈ ہوگا جس سے بورڈ کے تمام اخراجات پورے کئے جائیں گے،ضرورت پڑنے پر بورڈ کسی بھی مالیاتی ادارے سے قرضہ لے سکے گا،

بورڈ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لئے ایک ایپلٹ بورڈ تشکیل دیاجائے گا جس کا چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین جوڈیشل اور لیگل سروس سے ہو گا۔پاکستان ریلویزاور محکمہ اوقاف سمیت مختلف سرکاری اداروں کی ملکیتی ملک بھر میں لاکھوں کروڑوں ایکڑ زمین کئی عشروں سے بیکار پڑی ہے۔ بعض سرکاری املاک پر قبضہ گروپ نے اپنا تسلط جمارکھا ہے۔مختلف شہروں میں سرکاری ارضی پر رہائشی اور کمرشل عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ جن کے کرائے آج بھی پچاس سال قبل کی شرح سے وصول کئے جارہے ہیں۔ جن لوگوں کے نام پر یہ رہائشی اور کمرشل عمارتیں اور دکانیں الاٹ کی گئی ہیں انہوں نے ان عمارتوں کو کروڑوں میں کرائے پر چڑھا رکھا ہے۔آج بھی اوقاف اور دیگر محکموں کے رہائشی مکانات کے کرائے دو تین سو روپے اور دکانوں کے کرائے سو ڈیڑھ سومقرر ہیں۔ جن کے نام پر دکان الاٹ کی گئی ہے اس نے بیس تیس ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دیدیا ہے۔ اس سے قومی خزانے کو ماہانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

متعلقہ محکموں کو بھی اس جعل سازی کا بخوبی علم ہے چونکہ انہیں بھی معقول حصہ مل رہا ہے اس لئے انہوں نے قومی نقصان پر چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ملک بھر میں موجود بے کار سرکاری اراضی پر رہائشی عمارتوں، کمرشل پلازوں، تجارتی و کاروباری مراکز،پارکنگ اور پارکس کی تعمیر سے لاکھوں لوگوں کو مناسب کرائے پر سرکاری مکانات دستیاب ہوں گے۔کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔اور قومی خزانے میں سالانہ اربوں روپے جمع ہوں گے۔سرکاری اراضی پر تجاوزات کے خاتمے، قبضہ مافیا سے اراضی واگذار کرنے اور اس زمین کو علاقے کی ضروریات کے مطابق استعمال میں لانے کے لئے بااختیار بورڈ کا قیام بھی مناسب فیصلہ ہے لیکن بورڈ کے اختیارات اور اقدامات کی مانیٹرنگ ضروری ہے کیونکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے قومی وسائل کو لوٹنا لوگ اپنا پیدائشی، آئینی اور قانونی حق سمجھتے ہیں۔جو شخص جتنا بااختیارہوتا ہے وہ اتنی ہی کرپشن کرتا ہے۔

اس لئے اختیارات میں تحدید و توازن ناگزیر ہے تاکہ ایک قومی فلاحی منصوبے کو کرپشن کی بھینٹ چڑھنے سے بچایاجاسکے۔حیرت ہے کہ اربوں کھربوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری اراضی کو اب تک کیوں بیکار رہنے دیا گیا۔قومی وسائل کو لوٹنا ہی کرپشن نہیں ہے۔ روکنے ٹوکنے کا اختیار رکھنے کے باوجود قومی وسائل کو لٹنے سے نہ بچانا بھی کرپشن ہے۔ جن لوگوں نے سرکاری اراضی سمیت قومی وسائل پر زبردستی قبضہ جمارکھا ہے اس پر آنکھیں بند کئے رکھنا بھی کرپشن ہے۔امانت میں خیانت کرنے والوں اور خیانت پر خاموشی اختیار کرنے والوں کا بھی محاسبہ ہوناچاہئے تاکہ آئندہ کسی کو قومی وسائل لوٹنے کی جرات نہ ہو۔


شیئر کریں: