Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“بہت بری بات ہے”…… اختر ایوب طیب

شیئر کریں:

کتنا دکھ ہوتا ہے نا کہ جب آپ کسی اپنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں لیکن اس کو پرواہ ہی نہیں آپ کے انتظار کا.  دل ٹوٹ سا جاتا ہے نا. دل تب دوسرے انتہا پر چلا جاتا ہے  کہتا ہے کہ اب میں بھی پرواہ نہیں کرونگا لیکن آخر کب تک؟  دل ہار جاتا ہے  ورنہ غالب یہ کیوں کہتا کہ دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہےپندار کا صنم کدہ ویران کئے ہوئے. دل پھر گھسیٹ کر بے مہر معشوق کی گلی کی طرف لے جاتا ہے  خیر عاشق و معشوق اور دل و دماغ کے مابین یہ کشمکش ازل سے چلا آرہا ہے اور ابد تک چلتا رہیگا. یہاں میں ایک دوسری قسم کے عاشقوں اور ان کے انتہائی سنگدل قسم کے معشوقوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں. میری مراد اس زمانے کے ماں باپ جن کو اپنی جوان اولاد کی طرف سے انتہائی سرد مہری, لاپرواہی اور بے فکری کا سامنا ہے.  ہر دوسرا شخص اپنی اولاد سے شکوہ کناں رہنے لگا ہے. 

میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو اس لاپرواہی کی وجہ سے بیمار ہیں. خدا کے بندو! لا پرواہی مار دیتی ہے   کتنی ستم ظریفی ہے کہ شام کو والدین چشم براہ ہیں بیٹے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن صاحبزادہ اپنے آفس, اپنی دوکان یا کام کی جگہ سے فارغ ہو کر دوستوں کے ساتھ محفل سجا رہا ہے رات گئے تشریف لاتا ہے اپنے کمرے میں جا کر سوتا ہے صبح دس بجے اٹھ کر پھر کام پر چلا جاتا ہے شام کو پھر وہی معمول. بد قسمتی سے مشاہدے میں یہ آیا تعلیم یافتہ نوجوان اس معاملے میں زیادہ غافل ہیں ہمارا نوجوان کیوں یہ سمجھتا ہے کہ مہینے کے شروع  میں چند پیسے والد کو پکڑا کر اس کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے.  ارے بھائی ان کو پیسے سے زیادہ آپ کی توجہ اور محبت کی ضرورت ہے آپ کا ان کے ساتھ بیٹھنا, ان کی باتیں سننا اور اپنی باتیں شیر کرنا ان کو پھر سے جوان بنا دیتا ہے.تھوڑا وقت نکال کر ان کے ساتھ بیٹھیں  ان کے اندر جھانکنے کی کوشش کریں کہ آخر وہ کیا چاہتے ہیں.  ہو سکتا ہے ان کی باتیں آپ کے لیے اکتاہٹ کا باعث ہوں کیونکہ آپ تعلیم یافتہ ہیں وہ ان پڑھ.  اپنائیت کا یہی تو اصول ہے بس سنا جائے ظاہر ہے آپ کی والدہ آپ کے ساتھ افلاطون کی ریپبلک کے بارے میں بات نہیں کر سکتی نہ ہی امام غزالی کے فلسفے پر بحث کر سکتی ہے. نہ ان کو اقبال کے اشعار سے دلچسپی ہو سکتی ہے نہ قائد اعظم کے جدوجہد سے کوئی عرض.  ان کی کل کائنات ہی ان کا گھر اور اولاد ہے تو خدا کے بندے دن میں تھوڑا وقت یہ باتیں سننے کے لیے بھی نکالیں آپ کے علم اور مرتبے میں کمی نہیں آئے گی.  انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ وقت ہے وہ تو آپ اپنے والدین کو دینے کے لیے تیار نہیں. 

والدین کی واحد محبت ان کی اولاد ہی ہوتی ہے اور کتنی بے لوث محبت ہے کہ محبوب کی مسلسل بے رخی اور بے نیازی پر بھی ایک لمحے کے لیے بھی اس محبت میں کمی نہیں آتی.  محبت کا بے کراں سمندر ہے جو بہتا ہی چلا جاتا ہے.  لیکن بدقسمت اولاد کو اس محبت کی پرواہ ہی نہیں.  ایسا لگتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ترجیحات ہی غلط ہو گئی ہیں بس پیسہ کماؤ اور عیاشی کرو.  پیسہ کمانا بری بات نہیں اگر اس کے پیچھے کوئی مقصد ہو.  مقصد اگر صرف عیاشی ہو تو زیادہ پیسہ یقینا بے راہ روی کا شکار کرتا ہے.  مادہ پرستی احساس مروت کو کچل دیتی ہے.  آلات  و آسائش کی فراوانی بسا اوقات احساس کو مار دیتی ہے اور یہ نعمت اگر چھن جائے تو انسان بس ایک چلتی پھرتی لاش بن جاتا ہے روح کے بغیر جسم کی کیا حیثیت ہے.  احساس کے اٹھ جانے کا براہ راست اثر رشتوں پر پڑتا ہے یوں رفتہ رفتہ انسان اپنوں کے لیے اجنبی اور اجنبی کا اپنا بن جاتا ہے.  بات دور نکل گئی مدعا دراصل یہ تھا کہ دنیا گول ہے انسان مکافات عمل کے دائرے میں رہتا ہے جو بوئے گا وہی کاٹے گا آج کا بچہ کل کو جوان اور آج کا جوان کل کو بوڑھا ہو جائے گا اپنے بوئے ہوئے کو کاٹنے کا وقت آئے گا عدل و انصاف صرف حشر پر موقوف نہیں زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے


میں اپنے حلقۂ احباب میں ایسی باتیں چھیڑتا رہتا ہوں کچھ دوست وقت کی کمی اور مصروفیات کا بہانہ کرتے ہیں لیکن میرا مدعا یہ ہے مسئلہ مصروفیات کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے یہ کیا مصروفیت ہے کہ دوستوں اور کولیگز کے لیے آپ ہر وقت حاضر ہیں لیکن وہ ہستیاں جن کے ساتھ حسن سلوک کا حکم رب ذوالجلال نے اپنے کلام میں بیشمار مقامات پر دیا ہے چار مرتبہ تو توحید کے فورا بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے ان کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں.  نہیں میرے بھائی آپ کو اپنی ترجیحات کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے.  میرا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ کے دوست نہ ہوں یا دوستوں کو وقت نہ دیں لیکن یہ دوستی والدین اور رشتوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے 


اس طرح نہیں کرتے رابطہ تو رکھتے ہیں تھوڑا ملنے جلنے کا سلسلہ تو رکھتے ہیں جو تمہارے اپنے ہوں تم سے پیار کرتے ہوں ان کا حال کیسا ہے کچھ پتہ تو رکھتے ہیں


شیئر کریں: