Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فیزبکی دانشوروں سے ایک گزارش

شیئر کریں:

گزشتہ دن ایم اپی اے اورڈی سی چترال کے درمیان ایک مہینے سے جاری چپقلش کو جب افہام وتفہیم سے ختم کردیا گیا تب سے بعض فیس بکی بہن بھائی ایک اورایشو کو دوبارہ ایم پی اے اورانتظامیہ کے ساتھ جوڑکرحالات کو دوبارہ خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جوانتہائی نامناسب ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ہمارے ایک بھائی کو شیڈول فور میں ڈالدیا ہے بلکہ ان کے ساتھ چترال سے 22افراد اوربھی شیڈول فور میں رکھے گئے ہیں جوکہ انتظامی معاملہ اورشاید انتظامیہ نے تمام قانونی تقاضوں کو پوراکرنے کے بعد ہی ان لوگوں کو شیڈول فور میں رکھا ہوگا، ورنہ چترال کی پانچ لاکھ آبادی میں سے بائیس افراد کو چنا معنی خیز ہے۔
یہاں پر ہمارے جذبات، خواہشات اوراحساسات اپنی جگہ مگرموقع سے فائدہ اُٹھاکر ایک انتظامی ایشو کو ایم پی اے کے ساتھ جوڑنا انتہائی نامناسب ہے، ایم پی اے اورضلعی انتظامیہ خصوصا ڈی سی کا اپس میں چوڑی دامن کا رشتہ ہے۔ ضلع کے اندر تمام ترقیاتی کاموں ودیگرعوامی مسائل کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنر کا تعاون انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ جس کا احساس آپ سب کو ہوا ہوگا۔ اگر ہم ان کو لجھائے رکھیں گے توحسب اختلاف میں بھیجے گئے ایم پی اے سے مذید ترقیاتی کاموں ودیگرامورکی انجام دہی کیلئے توقع رکھنا عقلمندی کا کام نہیں ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے ساحل بھائی کو ایم پی اے کی وجہ سے شیڈول فور میں ہرگز نہیں رکھا گیا ہے جب ہم نے اس سلسلے میں متعلقہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا توان کا کہنا تھا کہ مذکورہ سوشل میڈیا یوزر کو گزشتہ ایک سال سے ذائد عرصے سے مونٹیرکیا جارہا تھا، اورکافی مراحل سے گزرنے کے بعد ایک شخص کو شیڈول فورمیں رکھا جاتا ہے۔

یہاں میری ذاتی گزارش یہ ہے کہ بیشک ہم سب ساحل بھائی کیلئے آواز اُٹھائیں ہماری ہمدریاں ان کے ساتھ ہیں مگر ان کو ایم پی اے کے ساتھ جوڑکر مذید حالات کو خراب نہ کیا جائے، کیونکہ ہم ایک انتہائی پسماندہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اس کی پسماندگی کو دورکرنے میں ہم سب کوکردار اداکرنا ہے، دوسرے علاقوں کی طرح سوشل میڈیا ئی اتفاق کو چترال کی ترقی کیلئے استعمال کرناہے نہ کہ دو ہاتھیوں کو لڑاکر علاقے کو نقصان پہنچانا ہے۔
افسوس سے لکھنا پڑرہا ہے کہ ہمارے بعض دوست فیس بکی دانشور سے بڑھ کر سقراط بقراط بننے کی کوشش میں انکھیں بند کرکے ایک وال سے بیغیر تحقیق مواد اُٹھا کر دوسرے وال میں کاپی پیسٹ کے ماہر بن گئے ہیں۔ خدارا یہی فیز بک ہی تھا جو مردان یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا ناحق خون کروایا۔لاہور میں گھر اُجاڑدیا،اسی طرح ملک میں روزانہ کئی ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں جوصرف اورصرف غلط فہمی کی بنیاد پر ہی رونما ہوتے ہیں۔ لہذا اب بھی وقت ہے خو د کو سنبھالئے بیغیر تحقیق کے کاپی پیسٹ سے گریز کریں۔آزادی رائے کی بھی ایک حد ہے، بے لگام آزادی حق کو لگام دینے کیلئے انتظامیہ قانون کا سہارالے سکتی ہے۔لہذاشریف ہونے کے ساتھ باشغور ہونیکا بھی ثبوت دیں۔

احسان اللہ چترال


شیئر کریں: