Chitral Times

Jun 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عجلت نہیں تحمل….. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں ملک بھر میں تجارتی مراکز 10مئی سے صبح 9 سے شام 5 بجے اور رات 8 سے 10 بجے تک کھولنے کی تجاویز منظور کر لی گئیں جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے تعلیمی ادارے یکم جون سے کھولنے اور ٹرین و بس سروس شروع کرنے کی مخالفت کردی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں تعمیراتی صنعت کی سہولیات میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اسی اثناء میں عالمی وباء کورونا کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے۔ جس کے تحتمہلک وائرس کی لپیٹ میں آنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان اموات کے اعتبار سے 29 ویں نمبر پرجبکہ متاثرہ افراد کی تعداد کے حوالے سے 23 ویں نمبر پر آگیاہے۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امریکا میں ہوئیں، جن کی تعداد 72 ہزار 271 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے جہاں 29 ہزار 427 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ تیسرے نمبر پر اٹلی ہے جہاں 29 ہزار 315 افراد مہلک وائرس کا شکار ہوئے۔سپین کا 25 ہزار 613 اموات کے ساتھ چوتھا اور بھارت کا پانچوں نمبر ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی شرح اچانک بھی بڑھ گئی ہے۔ اب تک ساڑھے پانچ سوافراد مہلک وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ22 ہزار پانچ سو سے زائدشہری مہلک وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا سے متاثر اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔حکومت، سرکاری اداروں، میڈیا، سماجی، فلاحی و سیاسی تنظیموں کی طرف سے عوام سے سماجی فاصلے قائم کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی مسلسل اپیلیں کی جارہی ہیں لیکن بدقسمتی سے لوگ اس پر دھیان نہیں دے رہے۔تاجر دکانیں، بازار اور تجارتی مراکز بند رکھنے پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ دیہاڑی دار مزدوروں، تاجروں اورعام لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر حکومت نے دکانیں محدود پیمانے پر کھولنے کی اجازت دی تھی۔اور اس کے لئے ایس او پیزکی بھی منظوری دی تھی لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ تاجر اورخریدار حفاظتی ماسک، دستانے اور سینی ٹائزر استعمال کرنے کی ہدایات کوخاطر میں نہیں لارہے۔خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز اور ہلاکتیں بھی دوسرے صوبوں سے زیادہ ہیں جبکہ یہاں کاروبار اور تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ بھی سب سے زیادہ سامنے آیاہے۔چین، سپین، اٹلی، فرانس، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ میں کورونا وائرس جنوری میں پھیلنا شروع ہوا تھا جبکہ ہمارے ہاں فروری کے آخر میں کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ ممالک چارماہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود لاک ڈاون میں نرمی کرنے کا رسک نہیں لے پارہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کورونا کی بدترین صورتحال آنے والے دنوں اور ہفتوں میں پیداہونے کی تنبیہ کے باوجود ہمیں لاک ڈاون ختم کرنے کی جلدی ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج ملک میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد اور ہلاکتوں کی جو شرح ہے وہ ہماری لاپراہی،بے صبری اورلاابالی پن کا نتیجہ ہے۔سپین اور اٹلی میں بھی شروع میں ایسی ہی صورتحال بن گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سپین کی حکومت نے لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرکے گھروں سے باہر نکلنے والوں پر دو ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ لوگ دوہزار روپے بخوشی جمع کرکے مٹرگشت پر نکل جاتے تھے۔جب سڑکوں پر لاشیں بکھری نظر آنے لگیں تب سپین والوں کے ہوش ٹھکانے آگئے لیکن خطرے کا احساس پیدا ہونے تک پانی سر کے اوپر سے گذرچکا تھا۔حالیہ دنوں میں ہم نے بہت قیمتی جانیں کورونا کے ہاتھوں گنوا چکے ہیں جن میں ڈاکٹرز، طبی عملہ، سرکاری اہلکار، تاجر اوراہم شخصیات شامل ہیں۔سیاست دانوں، عوامی نمائندوں، صحافیوں، دانشوروں،ڈاکٹروں اور انجینئروں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔وفاقی و صوبائی حکومتوں کو آنے والے سنگین خطرات کا احساس کرتے ہوئے پالیسیوں میں سختی لانے کی ضرورت ہے تاکہ مہلک وائرس کو مکمل طور پر بے قابو ہونے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچانے سے روکا جاسکے۔سوشل میڈیا پر سازشی نظریات اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوششوں کو بھی روکنے کے لئے بھی حکومتی اداروں کو موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔


شیئر کریں: