Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ صحت کا حاتم طائیانہ فیصلہ ………….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں میں تعینات اور نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں کو دوگنی تنخواہ دی جائے گی۔ مراعاتی پیکج کے مطابق کسی بھی شعبے کے سپشلسٹ ڈاکٹر کی تنخواہ چار لاکھ پچاس ہزار ہوگی۔ میڈیکل آفیسر کو دو لاکھ، شعبہ حادثات کے تجربہ کار اور تربیت یافتہ ڈاکٹر کو تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔ نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تنخواہیں بھی دوگنی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں صحت سہولیات کے خصوصی پیکج کے تحت ہر ضلع میں لیول ٹو ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹرقائم ہوگا، ہر ہسپتال کا آئی سی یو چھ بستروں پر مشتمل ہوگا،چھ بیڈ نومولود بچوں کے لئے مختص کئے جائیں گے، قبائلی ہسپتالوں کے لئے تین سو سے زیادہ ہلکی الٹرساونڈ مشینیں فراہم کی جائیں گی اور تمام بنیادی صحت مراکز کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ پر کشش تنخواہیں اور مراعات کا سن کر ڈاکٹروں سمیت سب کی رال ٹپکنے لگی ہوگی۔خدشہ ہے کہ ان مراعات سے استفادہ کرنے کے لئے بڑے شہروں کے ڈاکٹروں کا جذبہ خدمت خلق بیدار ہوگا اور وہ قبائلی علاقوں میں جاکر خدمات انجام دینے کو ترجیح دیں گے جس کی وجہ سے شہر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی قلت کا مسئلہ سر اٹھا سکتا ہے۔ڈاکٹروں کی تنظیمیں لامحالہ ان مراعات کو اپنی طویل جدوجہد اور ہڑتالوں کا ثمر قرار دیں گی حالانکہ ان کے احتجاج کے ایجنڈے میں متذکرہ مراعات کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ محکمہ صحت نے یہ چال ڈاکٹروں کو قبائلی علاقوں میں جاکر خدمات انجام دینے کی ترغیب دینے کے لئے چلی ہوگی۔ جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔ لیکن ان پرکشش مراعات کو صرف قبائلی اضلاع تک محدود کرکے صوبائی حکومت نے صوبے کے دیگر 26اضلاع کے ڈاکٹروں کو احتجاج کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ محکمہ صحت کو قبائلی علاقوں کے ساتھ صوبے کے دور افتادہ اور پسماندہ اضلاع میں فرائض انجام دینے والے ڈاکٹروں کے لئے بھی ایسے ہی مراعاتی پیکج کا اعلان کرنا چاہئے۔ کیونکہ خار باجوڑ، غلنئی، جمرود، لنڈی کوتل، پاڑا چنار، میر علی اور وانامیں ڈاکٹروں کو جو مسائل درپیش ہیں وہی مسائل کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، چترال، بونیر، دیر، ہنگو، کرک اور لکی مروت کے ڈاکٹروں کو بھی درپیش ہیں کہ وہ دفتری اوقات کے بعد پرائیویٹ پریکٹس اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ انہیں شہروں میں قائم کلینکس جتنے فوائد نہیں ملتے۔اس لئے ڈاکٹر ان پسماندہ اضلاع میں جاکر ڈیوٹی دینے سے احتراز کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کے قانون کے تحت ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے علاوہ ہر بی ایچ یو اور آر ایچ سی میں کم از کم ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر، دوچار نرسوں، دوچار ڈسپنسروں اور ایک دو اردلیوں کا ہونا ضروری ہے۔لیکن دیہی علاقوں کے اکثر سرکاری ہسپتالوں میں اردلی اور چوکیدار ہی دسیتاب ہیں جو اپنی بساط کے مطابق مریضوں کو ابتدائی طبی امداد خود فراہم کرتے ہیں۔حالانکہ محکمہ صحت کے ریکارڈ میں وہاں تمام طبی عملہ موجود ہوتا ہے مگر وہ گیدڑ سنگھی جیب میں رکھ کر عوام کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔قبائلی اضلاع کے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں غیر معمولی اور غیر متوقع اضافہ کرکے محکمہ صحت نے دیگر سرکاری محکموں کو بھی شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے۔ پبلک ہیلتھ، سی اینڈ ڈبلیو اور پولیس کے محکمے والے تو کمیشن، تحائف اور جرمانوں کی صورت میں اپنا حصہ کسی نہ کسی طرح وصول کرلیتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے لوگ کہاں جائیں، دیہی علاقوں کے بیچارے اساتذہ زیادہ سے زیادہ دوپہر کی چائے سکول کے قریب رہنے والے بچوں سے منگواتے ہیں۔ ان کی
اوپر کی کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں، کیونکہ دیہات میں ٹیوشن پڑھانے کی روایت ابھی تک قائم نہیں ہوسکی۔اگر دیہی سکولوں کے اساتذہ نے بھی ڈاکٹروں اور نرسوں کی طرح تنخواہوں میں اضافے کے لئے ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کردیا تو پھر کیا ہوگا؟۔ شہری علاقوں کے اساتذہ دیہات میں جاکر پڑھانے سے تو رہے۔بھلا پشاور کا کوئی ٹیچر صرف تنخواہ پر گذارہ کرنے کے لئے بروغل، یارخون، ریچ، لاسپور، گبور، ارندو، کالام، پٹن، داسو، الائی اور دیرکوہستان کیوں جائے گا۔خیبر پختونخوا کے پرانے اضلاع کے ٹیچرز ہی نہیں، قبائلی علاقوں کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ بھی ڈاکٹروں کی برابری کرتے ہوئے امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرسکتے ہیں۔ وہ یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ اگر انہوں نے تعلیم نہ دی ہوتی تو یہ ڈاکٹر کہاں سے آتے؟اس لئے تنخواہوں میں اضافے اور مراعات پر پہلا حق ان کا بنتا ہے۔بہر حال یہ بات طے ہے کہ ڈاکٹروں کو جیبیں بھر بھر کر تنخواہیں دینے کا اعلان کرکے حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اب اس کی مالی پوزیشن کافی بہتر ہوئی ہے۔ اس لئے دیگر محکموں کے اہلکاروں کو بھی امید کا دامن تھام کر انتظار کرنا چاہئے کہ ان کی باری بھی بس آنے ہی والی ہے۔


شیئر کریں: