Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انصاف جو نظر بھی آئے…….. تحریر : اقبال حیات آف برغوزی

Posted on
شیئر کریں:

انصاف نظام زندگی کو حسن بخشنے کے عمل کا نام ہے۔ مسند انصاف سے لیکر گھر کے اندر کی زندگی تک اس کی افادیت اور اہمیت مسلمہ ہے۔
اور اس لفظ کو روبہ عمل لانے میں زندگی کی حقیقی چاشنی اور لذت کا احساس ہونے میں کوئی دو رائے نہیں۔ جو معاشرہ انصاف سے مزین نہ ہو ۔ وہ معاشرہ تلخیوں باہمی عداوتوں اور نفرتوں کے رنگ میں ڈھل جائے گی ۔ اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی امیدوں سے محرومی معاشرتی زندگی کے لئے تباہی کے اسباب کا باعث بنینگے۔ اور جان و مال اور عزت وآبروکے تحفظ کا تصور دیوانے کے خواب کی صورت اختیار کرے گا۔
اسلامی نظام حیا ت میں انصاف کو روح کی حیثیت حاصل ہے۔ اور معاشرے کے ہر فرد کے لئے برابر کے حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کی ضروت کو اولین ترجیح سے نوازا گیاہے۔ اور قران عظیم الشان عدل و انصاف کے قیام کی طرف خصوصی توجہہ کی تلقین کرتا ہے۔ اور انسانوں کے باہمی حقوق کی پاسدرای کو یقینی بنانے کے لئے ظلم و زیادتی اور ناانصافی کو ناقابل معافی جر م قرار دیا گیا ہے۔ یوں اسلامی تاریخ ایک عرصے تک انصاف کی علمبرداری کی ضوفشانیوں سے جگمگاتی نظر آتی ھے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجیہوخلیفہ وقت کی حیثیت سے یہودی کے ساتھ زرہ کے قضیہ کے سلسے میں قاضی کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ اپنے دعوئے کی حقانیت کے لئے خلیفہ سے گواہ کا تقاضا ہو تا ہے۔ اور آپ اپنے جنت کے جوانوں کے سردار ٹھیرائے گے فرزندوں کے ساتھ اپنے غلام کو بطور گواہ پیش کرتے ہیں ۔ قاضی وقت باب کے حق میں بیٹوں اور غلام کی گواہی قبول نہ کرتے ہوئے یہودی کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ اور یہودی دین اسلام کے عدل و انصاف کے عمل سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر کے زرہ علی المرتضٰی کے حوالے کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے موجودہ دور میں ہم نے رشوت ، سفارش اور اقربا پر وری وعیرہ سے اس لفظ کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا بول بالا ہے۔ یوں یہ عمل مغاشرے کے اند مختلف نوعیت کے جرائم کے ارتکاب کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔ مفاد عامہ کی نوعیت کے حامل اداروں میں رو رعایت اور اثرو رسوخ کے اثرات سے حق و انصاف کو متاثر کرنے کی نوعیت کے حامل معاملات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے حق تلفی اور ناانصافی کے زمرے میں شامل ہیں ۔ کسی کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ اللہ رب الغزت کفر اور شرک کو برداشت کریں گے مگر ظلم و زیادتی اور نانصافی کو برداشت نہیں کرئنگے۔ اور اتنی بڑی وعید کے باوجود حیرت کا مقام ہے کہ نظام زندگی میں بعض ایسے معاملات دیکھنے کو ملتے ہیں جو قابل رحم اور ترس کھانے کے حامل ہوتے ہیں۔ مگر ارباب اختیار کی نظر کرم سے محرومی اور متاثرین کی احساس کمتری کے سبب زبانی طور پر شکوہ و شکایت کی حد ودکو عبور نہیں کر سکتے۔ ۔ سرکاری ملازمتوں کے اند ہر نوعیت کے ملازمین کے لئے ترقی کے مدارج طے کرنے کے اصول اور قواعد وضع کئے جاتے ہیں جو ان کے کے آگے بڑھنے کے لئے سیڑھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کے باوجود پوری سرکاری ملازمین میں صرف کلاس فور سروس اسٹرکچر کے فیوض سے محروم ہیں۔ سرکاری ملازمت کے لئے معین عمرکی حد گزر جانے کے خوف سے مجبوراًمناسب تعلیم کے حامل افراد ان اسامیوں گُھس جاتے ہیں۔ اور یوں ان کی صلاحیتیں ابتدائی اسکیل ہی میں صفائی ستھرائی اور رکھوالی کے امور کی انجام دہی کرتے ہوئے ساٹھ سال کو سدھار جاتی ہیں۔ جو یقیناًعدل و انصاف کی عملداری اور فیوض عام کے دعوے کا منہ چڑھانے کے لئے کافی ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین سے گروپ انشورنس اور Benevolent)) فنڈ کے نام پر ماھوارکٹوتی کی جانے والی رقوم کی واپسی کا صر ف 2014کے بعد سبکدوش ہونے والے ملازمین کو حقدار ٹھیرانا انصاف کے گلے میں چھری چلانے اور حق تلفی کی بدترین مثال سے تعبیر کیا جائے تو بے جا ہو گا۔ یہاں انصاف کی عمل داری کے لئے سرگرام عمل اس خوبصورت لفظ سے موسوم پارٹی کی حکومت کے ارباب اختیار سے اس قسم کی ناانصافیوں کے تسلسل کے خاتمے کی امید رکھنا بے جا نہ ہو گا۔ کیونکہ قول اور فعل میں تزاد بہت بری خصلت کی علامت کے مترادف ہوتا ہے۔ *****


شیئر کریں: