Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ووٹ کا صحیح استعمال ، ضرورتِ وقت….. تحریر:حسنات احمد کھوکھر

Posted on
شیئر کریں:

موجودہ دور میں گندی سیاست نے الیکشن اور ووٹ کے لفظوں کو بہت بدنام کردیا ہے۔اب ان لفظوں کو معاشرے میں جھوٹ اور دغابازی تصور کیا جاتا ہے۔اس وجہ سے اکثر لوگ اب اسی جھنجٹ میں پڑنے کو مناسب ہی نہیں سمجھتے اب یہ غلط فہمی عام ہے کہ الیکشن اور ووٹوں کی سیاست کا دین و مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ۔اگر سوچا جائے تو یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔یہاں ان کا ازالہ بھی ضروری ہے۔اپنے ووٹ کا استعمال کرنا شرعاََ ضروری ہے۔اور ووٹ نہ دینا حرام ہے۔شرعی نقطۂ نظر سے ووٹ کی حیثیت شہادت اور گواہی کی سی ہے جس طرح جھوٹی گواہی دینا حرام اور ناجائز ہے ویسے ہی ضرورت کے موقع پر شہادت کو چھپانا بھی حرام ہے۔کیونکہ ووٹ ہماری شہادت ہے اور الیکشن کے وقت ہم اسی شہادت کا استعمال کرتے ہیں۔میرے عزیز ہم وطنو۔ماضی میں ہماری سیاست گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے۔یہاں پر سارے مفاد پرست لوگ جمع ہیں۔جن کا مقصد صرف اور صرف ہمارے ملک کو لوٹنا اور برباد کرنا ہے جب الیکشن سر پر آیا تو ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا نظریہ کہاں گیانظریاتی امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی بجائے الیکٹڈ(Elected)امیدواروں کو ٹکٹوں کی تقسیم کی گئی۔یہ الیکشن نہیں یہ تو سلیکشن بنا پھر تو۔سب کو اپنے اپنے اقتدار کی بنی ہوئی ہے۔ملک کو بچانے کی بجائے سارے اپنے اقتدار کو بچانے پر تلے ہوئے ہیں۔نظریاتی امیدوار کو ٹکٹ نہ دے کر اپنے من پسند اور Electedامیدوار کو ٹکٹ دینے کا مطلب تو صاف صاف ہی یہی ہوا کہ ریاست نہیں سیاست بچاؤ۔
۔یہ وقت ہے ہمارے پاس کہ ہم خوموش رہنے کی بجائے جاگ اٹھیں اور اپنی شہادت کا استعمال کریں اور ایک ایسے شخص کا چناؤ کریں جو اپنی ذات کا نہیں بلکہ عوام کا ہو جو اپنے پیٹ کا نہیں عوام کے پیٹ کا سوچے۔جسے عوام کا احساس ہو ایسا نہیں ہو جس کے خاندان کا علاج بیرون ملک بڑے بڑے ہسپتالوں میں ہو اور ہماری مائیں بہنیں گلی سڑکوں میں ہی بچوں کو جنم دیں۔جیسا کہ کچھ دن پہلے آپ سب نے دیکھا ہوگا کہ ہسپتال میں ناقص انتظام اور ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے ایک عورت نے سڑک کے کنارے ہی ایک بچے کو جنم دیا۔اگر اس وقت بچے کو یا اس کی ماں کو کوئی نقصان ہوتا تو اسکا ذمہ دار کون ہوتا؟ یہ وقت ہے ہمارے پاس کہ ہم تعلیم کو ترجیح دے۔ نہ کہ ایسے شخص کو جو اپنی سیاست چمکائے۔پاکستانیو اگر دریاؤں میں پانی لانا ہے تو ووٹ بھی ایسے شخص کو دو جو اس ملک کی خاطر انڈین ڈیم تو کیا انڈیا کو بھی توڈسکے۔ہمارے دریا سوکھ گئے ہیں کھیتوں میں فصل نہیں ایک تالاب سے انسان اور جانور مل کر پانی پی رہے ہیں۔ملک میں پانی کی ایک خطرناک حد تک کمی ہوتی جارہی ہے اگر ہم نے مزید چار پانچ سالوں تک پانی کی اس کمی پر قابو نہ پالیا اور اس مسلے کو مزید نظر انداز کیا تو ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔کیونکہ پانی ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ ہونے کے خطرات لاحق ہیں۔دن بدن ہمارے ملک کی معیشت کمزور ہوتی جارہی ہے کچھ عرصہ قبل ملک میں ہر فرد 60سے70ہزار کا قرض دار تھا اب تازہ رپورٹ سے پتہ چل رہا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ17ہزار روپے کا قرض دار ہے۔ڈالر جو کچھ عرصہ قبل106 اور 114 کے درمیان تھا اب140کراس کر رہا ہے۔ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ترقی کا پہیا کئی عرصوں سے جام ہے۔وقت آگیا ہے کہ چپ کی عادت ترک کرکے ہم اپنے ملک اور اپنے حق کیلئے کھڑے ہوں اور اپنا اقتدار اعلیٰ ایسی جماعت یا ایسے شخص کو چنے جو آرٹیکل621Fپر پوری طرح سے اترتا ہو۔جو صادق بھی ہو اور امین بھی ہو۔آزمائے ہوئے کو بار بار آزمانا بیوقوفی ہے اور اب ہم مزید بیوقوفی نہیں کرینگے۔ہر شخص ووٹ ڈالے اور ووٹ ڈالنے سے پہلے یہ دیکھے کہ آیا میں جس شخص کا چناؤ کرنے جارہا ہوں یا میں جس پارٹی کا چناؤ کرنے جارہا ہوں وہ میرے حق میں یا میرے ملک کے ساتھ مخلص ہے کہ نہیں۔کسی دوسری پارٹی کی ضد میں آکر اپنے ووٹ کا غلط استعمال نہ کرے۔یہ صرف اپنے ساتھ دھوکہ نہیں ہوگابلکہ وہ پورے ملک کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ووٹ ایک امانت ہے دینے سے پہلے سوچ لے۔میں شرطیہ کہتا ہوں یہ ملک ترقی نہیں کرے گا جب تک ووٹ بکیں گے اور مذہب یا خاندانی بنیاد پر ووٹ دئے جائینگے نظرئے کو دیکھے کہ کس کا نظریہ صحیح ہے یا کس کا غلط، کون آپکے یا آپکے بچوں کے مستقبل کیلئے مفیدرہے گا۔میں اب ان حضرات سے مخاطب ہو کر کہنا چاہتا ہوں جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلاں شخص ٹھیک نہیں فلاں پارٹی کا کوئی نظریہ نہیں اور وہ پارٹی جو عوام کیلئے سود مند نہیں پھر بھی کسی کے ضد پر اس پارٹی پر جان نثارکرتے ہیں۔میری ان سب سے یہ گزارش ہے کہ اس پارٹی پر جان نثار کرنے کی بجائے ان سے سوال کریں۔سوال کرنا آپکا حق ہے کوئی آپکو روک نہیں سکتا۔ان سے احتساب کرے۔انہیں کٹہرے میں لاکر کھڑا کرے۔اور پوری قوم متحد ہو اپنے حقوق کیلئے ورنہ یہ جان نثاری والی سیاست ہمیں لے ڈوبے گی ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی ترکی جیسی فعال جمہوریت ہو۔ہمارا بھی رجب طیب اردگان جیسا عظیم لیڈر ہو۔جو 20سالوں سے برسر اقتدار ہے۔ہمارے لیڈر70سالوں سے اپنے پانچ سالوں کی مدت پوری نہیں کرسکتے۔قیام سے لے کر آج تک ہم دیکھتے آرہے ہیں اپنے سیاستدانوں کی باتوں سے لے کر کارناموں تک کا سفر ہر سیاستدان کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی ذات پر کم اور عوام پر زیادہ توجہ دے۔اسکا عہدہ اسکا وقت اُسکے پاس عوام کی امانت ہے۔اسکا ایک ایک پل ایک ایک منٹ قیمتی ہے۔اُسکو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھے اور اسکا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل سنجیدگی سے حل کرے۔عوام میں گھس جائے اور ان سے انکے مسائل دریافت کرے یہ نہیں کہ جب الیکشن آئے بھی ووٹ مانگنے کی خاطر عوام کے پاس جائے اور دروازہ کھٹکھٹائے اور جب جیت جائے تب غائب۔یہ بات یاد رکھے ہمارے سیاستدان کے ہر پانچ سال بعد الیکشن آتا ہے اگر اس بار عوام کے ساتھ دھوکہ کیا تو اگلی مرتبہ تو پھر سے ووٹ مانگنے عوام کے سامنے آنا ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی10کروڑ59لاکھ افراد حق رائے دہی کا استعمال کرینگے۔عزیز پاکستانیوں کسی ایسے شخص کو ووٹ دیتے وقت یہ مت سوچنا کہ میرے ایک ووٹ نہ دینے سے کیا ہوتا ہے تو یہ بات سن لو کہ ہر شخص اگر ووٹ دیتے وقت یہی گمان کرلے تو ہم سب کو کتنا نقصان اٹھانا پڑیگااسی لئے ہر شخص یہی سوچے کہ اس کا ووٹ پاکستان کا مستقبل ہے۔انشاء اللہ امید ہے کہ ایک دن ہم بھی فخر سے کہیں گے کہ میں پاکستان ہوں میں زندہ باد ہوں
والسلام


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
11449