Chitral Times

Oct 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کُنجِ قفس ………..خوشبو …….الطاف اعجازؔ گرم چشمہ

    January 12, 2018 at 6:20 pm

    میرے محترم ! خاکسار آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ، یہ کہ لفظ ’’لاڈلی ‘ ‘ کو سنتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ ۔۔۔۔ یقیناًایک ایسی اولادجو ناز و نخرے سے پلی ہو، بات منوانے والی، پیاری سی دلاری سی ننھی سی اولاد جس پر فخر کرنا عین لازمی امر ہے ، ایسے لاڈلے زیادہ تر اکلوتے ہوتے ہیں۔ مگر لفظ لاڈلی کے ساتھ ’غلط لاڈلی ‘ لگائی جائے تو معاملے کا ذرّا سا قلع قمع ہوجاتا ہے۔ سیدھا حالتِ حاضرا پر آکر یہ بھی گوش گزار کرتا چلوں کہ آزادی ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ بیٹی صبح کو آزا دی کا پرَ لگا کے مثل سرخاب اڑن بچھو ہو جائے اور شام کو نازل، اور پرسان حال کوئی نہیں ۔اب سنئے ، کہانی مختصریہ کہ بڑے منتوں، سماجتوں،ریاضتوں اور جادو ٹونوں کے بعد آخرکار ہوا وہی جو دینے والے کی منشا تھی۔ دینے والے نے انکل جی کو اسے اس کی خواہش کے مطابق ایک اولادبیٹی کی روپ میں عطا کیں۔ اولاد بیٹی کی روپ میں تھی اور خوش قسمتی سے زمانہ بھی اس ناچار کوذدکوب درگور کرنے کی نہیں تھی بلکہ حسنِ ظن کے ساتھ ایک بیٹی کو اللہ کی بے بہا نعمت سمجھ کر شکر کرنے کی تھی ، یاد رکھو یہ احسان میرے حضورسرورکائناتؐکا ہے جو انسانیت پر ہوئی اور رہیگی۔ ( آپ ؐ پر لا کھوں کروڑوں درود سلام ) ۔ بحرحال انکل نے اپنی بیٹی کا نام خوشبو رکھا۔ ’’خوشبو ‘‘ اس لئے کہ اس کے آنے سے والدین کی بے جان سی زندگی معطر ہوئی تھی، اور دوسری وجہ یہ کہ اُنسیت کے لحاظ سے خوشبو محبت کی علامت ہے۔ یوں خوشبو کی زندگی محبت کے بھینی بھینی چھا ؤ ں میں پرواں چھڑنا شروع کی۔سب سے پہلے خوشبو کے بچپن کی دانستہ اور نادانستہ فرمائیشیں شروع ہوئیں۔ اللہ تعلی کے فضل و کرم سے والدین کی مالی حالت مستحکم اگر ہوں اورساتھ ساتھ سامنے لاڈلہ اولاد بھی ہو تو ایسے میں والدین ایک فرمائش کو جائز اور ناجائزکی نظر میں کبھی نہیں لاتے،بلکہ ان کامطمع نظرصرف یہ ہوتا کے کہ لاڈلے کی فرمائش بس پوری ہو۔ خیر! ماں کی گود سے خوشبو کی زندگی کا سفر ننھے ننھے خواہشوں کے تکمیل کے ساتھ شروغ ہوکر ڈگماگاتے قدموں سے چلتا ہواایک دن زندگی کی دبیز دہلیزمیں جا پہنچا۔مطلب کہ اب خوشبو بڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔بڑی ،یعنی انیس بیس کی عمر والی ایک نوجواں لڑکی۔ اس لمبے سفر میں والدیں نے اپنے لاڈلے کے لئے کیا کچھ نہیں کیاہوگا۔۔چلو ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔دیکھ پچپن کے خوبصورت اور چھوٹے بڑے پیارے کھیلونے ۔۔۔اور اس کے نخروں کے لئے والدین کاصبر کرتے رہنا ۔۔ ۔ یہ اس کے رنگ برنگ کپڑوں کی انبار۔۔۔ اوردیکھ جوتوں کی قطار۔۔بلکہ ذخیر ہ ۔۔ اس کے لئے بہتریں سکول کی تلاش،ایک ایسا سکول جس میں پڑھ کر ڈاکٹر، پائلٹ، انجینئر بنا جائے۔۔۔ یہ نرم نرم نصیحتیں۔۔۔کبھی کھبی اس کا دل رکھنے کے کئے والدیں کا خود کو ہی غلط ٹہرانا۔۔۔ ’’ بیٹی تو صحیح، ہم غلط ‘‘ کہنا۔۔۔یہ چُٹکلی چٹکلی باتیں تاکہ بیٹی مسکرائے، او ر پھر دعا کہ یونہی مسکراتی رہے۔۔۔یہ اس کو حسیں تریں ناموں سے پکارنا ۔ ۔ ۔بیٹی کہنا،۔۔۔پری کہنا۔۔۔ ماس کہنا(کہوار)۔۔۔ژور کہنا،(کہوار) ۔ ۔ ۔خوشبو کہنا۔۔۔ آنکھوں کی ٹھنڈک کہنا۔۔ڈاکٹر کہنا ،(ڈاکٹر ہو نہ ہو) مگر کہنا، تاکہ اولاد میں خوداعتمادی رہے۔۔۔مختصر یہ کہ اپنی بیٹی کو ہر طرح کی مشکلوں، مشقتوں، پریشانیوں اور کلفتوں سے دورکرکے تمام خواہشیں، فرما ئیشیں، آ سائشیں ، زیبائشیں سب بیٹی کے زندگی کی قدموں میں لاڈالنا تاکہ گھر کی فخر بن کے رہے ۔ یاد رکھیں کہ جس کسی کے بھی فطرت میں لفظ ’’تم‘‘ کو سننے کی یا ضرورت پڑنے پر برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہواس کی زندگی میں لفظ ’’میں‘‘ ایک ایسی مطلق العنان انا پیدا کریگی جس کے سامنے تمام ناصح ، مشیر ، وزیر، واعظ ، صلاح کا ر ، استاز سب نقشِ بدیوار بن کے رہ جائینگی۔ چونکہ خوشبو ایک لاڈلی اولاد تھی اس لئے عرصہ دراز ایک مسلسل ،نازک ،مفخرّ مگر ذرا سی موہم پرورش کامآل یہ ہواکہ خوشبو کی طبیعت چھوئی موئی ہو کے رہ گئی۔اب وہ صرف منوانا جانتی تھی، ماننا نہیں۔ اس کی دنیا ’’میں‘‘ سے آباد تھی اور ’’تم‘‘ اس پر شاق گزرتی۔

     

    خوشبو کو علم ہی نہ تھا کہ غصے نام کابھی ایک جذبہ ہے جو شخصیت کی تعمیر میں زبردست کردار آدا کرتا ہے ۔ اس فرق کویہاں ذرا سمجھنے کی زحمت کیجئے کہ خوشبو ہمیشہ اس وقت غصے سے آگ کا گولہ بن جایا کرتی تھی جب اس کی کوئی بات نہ مانی جاتی مگرخود سامنے والے کی غصے کو کبھی بھی برداشت نہ کرتی۔ اسی قسم کی طبیعت کو چھوئی موئی طبیعت کہتے ہیں۔ خوشبو کی زندگی کے حالات اب بہت نازک دور سے گزر رہے تھے۔ جوانی اور ساتھ ساتھ والدیں کے لئے خواہشات کا انبار بھی ۔ اور اگر کوئی خواہش پوری نہ ہو تو خوشبو کچھ بھی کر گرزنے کے لئے تیار تھی ۔ ۔ کچھ بھی ! لہذا خوشبو کے لئے خواہشات کا پورا ہوناگویا زندگی کے پہیّے کا چلنا تھا ۔ اب والدیں مجبور تھیں یا یوں کہو کہ جو بوئے تھے اب کاٹ رہے تھے بلکہ بھگت رہے تھے۔ کام مزاج کے مطابق نہ ہو تو خوشبو بیٹی کا بدبو میں بدل جانے کے اندیشے اب بہت زیاد ہ پھیل چکے تھے۔ اندیشے ۔۔اندیشے۔۔ اندیشے۔۔۔ اور ایک باپ یا ماں کے لئے اولاد کے معاملے میں یہ اندیشہ ایک بیانک کابوس ہے یا اندیشہِ خودکشی ۔ اگرچہ ہر پرورش ایک فطرت بنا تی ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر فطرت پرورش کا ہی پھل ہو۔بعض فطرت بغیر پرورش کے بھی کمال کے ہوتے ہیں، بلکہ جمال کے ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ بعض پرورش (جس میں کچھ بھی کمی نہ رہ گئی ہو) اپنے انجام پر کچھ ایسے نتائج سامنے لاتے ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔سڑک میں غلطاں کھا یا بچہ دیانتدار اور شش محل میں پلا ہوا خوشبو انجام کے حوالے سے بدبو بھی بن سکتا ہے ۔ عطا کی بات ہے وہب کی بات ہے۔ خیر جو بھی ہو ۔۔۔بہت مختصر کرنا چاہتا ہوں پھر ایک دن انکل نے اپنی لاڈلی خوشبو کی ایک اور خواہش پوری کردی، یہ سوچ کر کہ پوری نہ کرنے سے کہیں بیٹی خودکوشی نہ کر بیٹھے۔انکل نے بیٹی کی خواہش لاکر اس کے ہاتھ میں دے دی ۔ ۔ ۔ پِن پیک۔۔۔ چمکتا ہوا چھوٹا سا ڈبہ۔۔۔ سمِ قاتل۔۔۔ سمٹ کر ایک بٹن میں آئی ہوئی دنیا۔ ۔ ۔ بعض کے لئے رحمت ۔۔۔بعض کے لئے زحمت۔۔۔۔ دل کو غیر کرنے دینے والی ایک چمچاتی بے مثال موبائل ۔ مگر یہاں ایک عام والد صاحب نے اپنی ایک بیٹی کو یہ نصیحت نہ کر سکا کہ بیٹی یہ جو موبائل تجھے دے دی یہ تیری دیرینہ خواہش تھی۔ اس کو استعمال کرو مگر یاد رکھو ! یاد رکھو !! یاد رکھو !!! موبائل کا ’’غلط استعمال‘ ‘ بھی ہوسکتا ہے ۔اس کا غلط استعمال مت کرو۔

    اے پڑھنے والے میرے محترم !مانو یا نہ مانو، میرے نزدیک انکل کی یہ غلطی سنگین تریں نوعیت کی تھی۔۔۔اسی طرح دن گزرتے گئے اور پھروقت کے ساتھ ساتھ خوشبو نے اپنے موبائل میں غرق سے غرق تر ہوکر کس طرح کے بو پھیلا رہی تھی۔ ۔ ۔ خدا کو علم۔ خوشبو اب اپنے خاندان کے لئے، دوستوں کے لئے، معاشرے کے لئے خوشبو بن کے پھیل رہی تھی یا بدبوبن کے یہ ایک پراسرار اور دقیق جہاں ہے اس پر میں اپنے عنانِ قلم روکنا چاہتی ہوں۔

    ہاں ! عاقل راہ اشارہ کافی است۔ اتنا ضرور آپ کوبتاتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں کہ کئی وقت گزرنے کے بعد خوشبو کی زندگی میں اب ایک رومانوی سنسار وجود میں آئی تھی جس میں اس کے خوابوں کا شہزادہ اپنے گھوڑے میں ( بائیک میں) چور چترائی سے آتا اور جاتا۔ اتنی بڑی جہاں خوشبو بیٹی نے کب ،کہاں کس طرح بسا ئی کسی کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ ایک دن یوں ہوا کہ گدھے کے سر سے سینگ ہی غائب ہوئے۔۔۔ یہ کہ سورج ڈھلتے ہی سرِشام انکل کی موبا ئل پراس کی لاڈلی بیٹی خوشبو کی کال آئی۔۔اصل میں یہ خوشبو کی کال نہیں اس کا کال تھا، ملال تھا ، زوال تھا کیا تھاجو اس کے خاندان پر، اس کے رشتہ داروں پر ، معاشرے پر قیامت ڈھائی ۔ والدصاحب بلکہ والدبدبخت نے کال اٹندکی تو دوسری طرف آواز آئی۔۔۔۔۔

    ’’ اے تات! ۔۔۔اوا اسوم خوشبو۔ ۔۔اوا تان دوست ڈاقوسوم اُشٹوری شادی ارتم جاما۔۔۔ما مشکور نو ۔ (اردو ترجمہ) اے ابو! ۔۔۔میں ہوں خوشبو ۔ ۔ ۔ میں اپنے دوست لڑکے کے ساتھ بھاگ کر شا دی کر لی۔۔۔مجھے ڈھونڈو مت۔

     

    پھر کیا ! دل کے مریض ایک ادھیڑ عمر کے شخص کے لئے یہ خبر کافی تھی۔ سینے کے اندر قلب کے عین مرکز پر انتہائی شدت کاایک چبھن کڑک سی نکل پڑی اور انکل جی اللہ کو پیارے ہو گئے۔
    موت آئے آنے دو غم ہے نہ پریشانی
    ہم نے زندگی کو پائے موت کی طرح

  • error: Content is protected !!