ایپکس کمیٹی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کا اعلان، گورنرفیصل کریم کنڈی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ قومی سطح کے ایپکس کمیٹی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا، جبکہ صوبے کے مختلف مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ایک بدلتا، نکھرتا اور مضبوط صوبہ بنانا ہے اور اس مقصد کے لیے ترقی، امن و امان اور عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مشیر اطلاعات ثمر بلور اور نامزد اضلاع کے مشیر اطلاعات محمود جان بابر بھی موجود تھے۔
گورنر نے کہا کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کی تاریخ میں ایک اہم دن تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں متعلقہ حکام نے سیکیورٹی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ نامزد 12 اضلاع کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بھی مجوزہ پلان سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے حوالے سے جو مطالبات پیش کیے گئے، وزیراعظم نے انہیں فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گیس اور گندم سے متعلق مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم نے سیکرٹری خوراک کو جلد اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اضاخیل گندم گودام میں گندم کے معاملے پر انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ کام کرنے والے افسران کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، بصورت دیگر انہیں عہدے سے الگ ہونا پڑے گا۔
گورنر نے کہا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران صوبہ پیچھے چلا گیا، تاہم اب اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ صوبے میں امن و امان کے قیام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صوبے میں امن ہوگا تو مقامی اور بیرونِ ملک سے سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لیے آئیں گے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی معیشت کو استحکام ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ وفاق کے ساتھ صوبے کے حقوق کا مقدمہ دلیل اور دلائل کی بنیاد پر لڑیں گے۔ اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی گئی ہیں۔ گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے صوبے کے جائز حقوق حاصل کیے جا سکیں۔
پولیس کی فلاح و بہبود اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس شہداء پیکج میں اضافہ کیا گیا ہے اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کو تمام مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں کو درپیش مسائل کے حل اور سرکاری زمینوں کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
پانی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ 1991 میں پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن خیبرپختونخوا کو اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پانی کے معاملے پر خیبرپختونخوا کا مؤقف سنا ہے اور چشمہ لیفٹ کینال کے پیکج ون اور فور کے ٹینڈرز اگلے ماہ جاری کیے جائیں گے۔ اس منصوبے سے متعلق پیش رفت صوبے کے زرعی اور ترقیاتی مفادات کے لیے اہم ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے حقوق کے حصول، امن و امان کے قیام اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو مضبوط بنانے، عوامی مسائل حل کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔
۔
۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اجلاس
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور کے ٹریفک مسائل، ڈرائیونگ لائسنس کے
اجراء، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز ڈی آئی جی اعجاز رائے، چیف ٹریفک آفیسر زاہد اللہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کو پشاور میں ٹریفک کی روانی، رش والے مقامات، ٹریفک مسائل کے اسباب اور ان کے حل کے لیے مجوزہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کو ٹریفک کی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ٹریفک مینجمنٹ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کے لیے سندھ، بالخصوص کراچی کے ٹریفک مینجمنٹ ماڈل کا جائزہ لیا جائے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر جرمانوں کا نظام متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور چالان کرنے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے، کیونکہ جب تک سزا و جزا کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوگا، ٹریفک کے مسائل برقرار رہیں گے۔
گورنر نے پشاور میں تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی روانی یقینی بنانے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے جامع اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پشاور میں ٹریفک کا نظام اس قدر بہتر ہو کہ شہر کی خوب صورتی اور شناخت نمایاں ہو۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے شہری مسائل کا حل اور ٹریفک نظام کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 5,664 ٹریفک وارڈنز تعینات ہیں، جن میں سے 1,867 پشاور میں فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئیز) کی بھرتیوں کا عمل بھی جاری ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور میں ٹریفک کے مسائل سے دوچار 24 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور بہتری کے لیے 10 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے یونیورسٹی روڈ سمیت ٹریفک کے رش والے مقامات پر مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے اور انڈر پاسز سے متعلق منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈر پاسز کی تعمیر سے پشاور میں ٹریفک کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں، جبکہ کھلے اور خراب مین ہولز بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ گورنر نے ٹریفک سگنلز کو جلد از جلد فعال اور درست کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں 2016 کے بعد رکشوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی اور پشاور میں ایک لاکھ سے زائد رکشے موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے۔ شہر میں تقریباً 23 ہزار رکشے رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ہزاروں رکشے تاحال رجسٹریشن سے محروم ہیں۔ بریفنگ کے مطابق متعدد رکشہ مالکان رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے مؤثر طریقۂ کار موجود نہیں۔ رکشوں کی رجسٹریشن ایکسائز ڈیپارٹمنٹ جبکہ روٹ پرمٹس کا اجراء ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے آئندہ ہفتے متعلقہ محکموں کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں غیر رجسٹرڈ رکشوں، موٹر سائیکلوں اور ہتھ ریڑھیوں کو پشاور میں ٹریفک مسائل کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا۔
ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ڈرائیونگ لائسنس کی پرنٹنگ کے مراکز فعال ہیں اور صوبے میں اب تک 20 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ شہریوں کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے دوران بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے، جبکہ 30 ہزار سے زائد بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس بھی پرنٹ کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں ٹریفک قوانین سے متعلق شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے تعلیمی نصاب میں متعلقہ مضامین شامل کرنے کی تجویز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ افسران کو یقین دہانی کرائی کہ ٹریفک مینجمنٹ کے مسائل کے حل اور پشاور میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔
