یوتھ بزنس لون سکیم – محمد شریف شکیب
وزیر اعظم شہباز شریف نے پرائم منسٹر یوتھ بزنس اینڈ ایگری لون پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو کاروبار کے لئے پانچ لاکھ سے 75لاکھ روپے تک آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے قرضہ سکیم کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ روپے تک قرضے پر سات فیصد سود لاگو ہوگا اور قرضے کی واپسی کی مدت سات سال ہوگی جبکہ 75لاکھ روپے تک کے قرضے پر شرح سود بھی سات فیصد تک ہوگی اور ادئیگی کی مدت آٹھ سال رکھی گئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سیاسی کمائی ریاست بچانے پر لگانے کے لئے تیار ہیں۔وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ملک انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں مگر انہیں امید ہے کہ وہ ملک کو اس بحران سے ضرور نکالیں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک کی معاشی صورتحال ناگفتہ بہہ ہوچکی ہے زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے چار ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ تیل، گندم، پیاز اور دیگر درآمدی اشیاء سے بھرے کئی بحری جہاز کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے ہیں انہیں کرایہ دینے کے لئے ڈالر دستیاب نہیں۔
جو لوگ اپنے کاروبار یا ویزوں کے لئے ڈالر بینکوں میں جمع کرارہے ہیں انہیں پراسس نہیں کیا جارہا۔بیرون ملک سے پاکستانیوں نے ڈالر ملک بھیجنا بند کردیا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ قرضہ پروگرام پر بات بنتی دکھائی نہیں دے رہی۔ کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے روز نئی شرائط پیش کی جارہی ہیں۔ بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں پہلے سے پچاس سے سو فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ سو ڈیڑھ سو یونٹ بجلی خرچ کرنے والوں کا ماہانہ بل آٹھ دس ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کرایے بڑھ گئے ہیں۔ بارہ سو روپے میں ملنے والے بیس کلو آٹے کا تھیلاگیارہ سو روپے سے بڑھ کر تین ہزار روپے ہوگیا ہے۔
چکن کی قیمت ایک سو بیس روپے کلو سے بڑھ کر پانچ سو روپے کلو ہوگئی ہے۔ایک انڈے کی قیمت 25روپے ہوگئی۔ ایک ڈالر240روپے کا ہوگیا ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی تمام شرائط قبول کرکے قرضے لئے گئے تو مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا قوی امکان ہے۔اگرقرضہ نہیں ملتا۔ تب بھی ڈالر جمع کرنے کے لئے روپے کی قدر میں مزید کمی لانی ہوگی جس سے افراط زر اور مہنگائی کی نئی لہر آسکتی ہے۔فی الوقت پاکستان کے پاس غیر ملکی قرضوں کی قسطیں اور سود کی رقم ادا کرنے، درآمدی سامان کا کرایہ دینے، ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھنے کے لئے وسائل کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اس صورتحال میں اربوں روپے کی قرضہ سکیم شروع کرنے کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے اس حوالے سے حکومت کی طرف سے تاحال کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
خدشات اور تحفظات کے باوجود نوجوانوں کے لئے قرضہ سکیم شروع کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ سرکاری اداروں میں مزید نوکریاں پیدا کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اکثر ادارے پہلے ہی ملازمین کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں جن میں پی آئی اے، پاکستان ریلوے اور سٹیل مل وغیرہ شامل ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کاروبار کے لئے آسان اقساط پر قرضے فراہم کرنے سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔زرعی شعبے میں زیادہ سے زیادہ قرضوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنا کر ملک کی زرعی پیداوار میں اضافہ کرسکیں۔ زرعی ملک ہونے اور وافر آبی ذخائر کے باوجود ہم بیشتر زرعی اجناس دوسرے ملکوں سے درآمد کرتے ہیں جس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ اگر حکومت دس سال کے لئے زراعت کو خصوصی توجہ کا شعبہ قرار دے تو ہم گندم، دالوں، پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس میں نہ صرف خود کفیل ہوسکتے ہیں بلکہ زرعی اجناس برآمد کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔