گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹشن پروگرام کے تحت پانچ ہزار نوجوانوں کو سکالر شپس فراہم کی جائیں گی
نوجوان ڈیجیٹل اسکلز حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دیں، علی امین گنڈاپور
یہ آئی ٹی کا دور ہے، آئی ٹی میں مہارت حاصل کئے بغیر ہم ترقی ممکن نہیں، وزیر اعلی
سکول آف ارٹیفیشل اینٹیجلنس، سکول آف ڈیجیٹل گیمنگ اور سکول آف ڈیجیٹل گورننس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، علی امین گنڈاپور
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپورنے ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل طور پر ہنرمند و بااختیار بنانے کیلئے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پانچ مختلف پروگراموں کا اجراءکر دیا ہے جن میں ڈیجیٹل انٹرن شپ پروگرام ، جوائن آئی ٹی پروگرام، گوگل کیرئیر سرٹیفیکیٹس پروگرام ، انوویشن فیلو شپ پروگرام اور درشل انکیوبیشن شامل ہیں۔ ان پروگرامز کے اجراءکے سلسلے میں جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاو ¿س پشاور میںایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور تھے۔ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ ، سیکرٹری ایس ٹی اینڈ آئی ٹی تنزیلہ صباحت ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم نوید کامران آفریدی کے علاوہ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حکام اور طلبہ نے تقریب میں شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق ڈیجیٹل انٹرنشپ پروگرام کے تحت 200 نوجوانوں کو مارکیٹ بیسڈ ڈیجیٹل سکلز سیکھنے کے لئے انٹرنشپس فراہم کی جائیں گی جبکہ جوائن آئی ٹی پروگرام کے ذریعے شعبہ آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کو بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
اسی طرح گوگل کیریئر سرٹیفکیشن پروگرام کے تحت پانچ ہزار نوجوانوں کو سکالر شپس فراہم کی جائیں گی جبکہ انوویشن فیلوشپ پروگرام کے تحت آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کو سرکاری محکموں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا جوسرکاری محکموں میں سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کےلئے آئی ٹی کے مو ثر استعمال کیلئے کام کریں گے۔ اس کے علاوہ درشل درشل انکیوبیشن پروگرام کے تحت مزید 20 سٹارٹ اپس کا اجراءکیا جائے گا۔ ان پروگرامز کا اجراءصوبے میں ڈیجیٹل اکانومی کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہو گاجبکہ ان ڈیجیٹل اسکلز کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقع میسر ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا تیز رفتاری سے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب تیزی سے گامزن ہے،نوجوان ڈیجیٹل اسکلز پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ یہ آئی ٹی کا دور ہے اس کے بغیر ہم ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتے،ہم نے اپنی نوجوان نسل کو آئی ٹی کی طرف لانا ہے اور اس شعبے کو ترقی دے کر ملک و صوبے کی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، ہم اس ٹیلنٹ کو قومی ترقی میں بروئے کار لانا چاہتے ہیں،نوجوان آگے بڑھیں ، محنت کریں، حکومت ہر شعبہ میں وافر مواقع فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ محنت کا کوئی متبادل نہیں، جتنی زیادہ محنت کریں گے، اتنا ہی آگے بڑھیں گے۔
اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخواحکومت آئی ٹی کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، اس سلسلے میںہری پور میں آئی ٹی سٹی قائم کیا گیا ہے جبکہ پشاور میں آئی ٹی کمپلیکس کے قیام پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت سکول آف آرٹیفشیل انٹیلیجنس اور سکول آف گیمنگ اور سکول آف ڈیجیٹل گورننس کا قیام عمل میں لارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ مختلف محکموں میں گورننس کے نظام کی ڈیجیٹائزیشن پر کام جاری ہے کیونکہ ڈیجیٹائزیشن ہی واحد چیز ہے جو کرپشن کو ختم کر سکتی ہے۔ صوبے میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا جاری عمل جلدمکمل ہو جائے گاجس سے روایتی پٹوار کلچر سے عوام کی جان چھوٹ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ڈیجیٹل پورٹل کا بھی جلد اجراءکیا جائے گاجس کے ذریعے خدمات کی فراہمی عمل کی براہ راست نگرانی ہو گی، جزا و سزا یقینی بنائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے گوگل نمائندوں سے سرٹیفیکیشن سکالر شپس کی موجودہ تعداد 5000 سے بڑھا کر 10 ہزار کرنے کی درخواست کی ۔ تقریب میں ایم ڈی کے پی آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر عاکف نے شرکاءکو انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت صوبائی حکومت کے انیشیٹیوز، پالیسیز، اسٹریٹیجیزاور ڈیجیٹل پختونخوا وژن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
