صوبائی حکومت کا گورنمنٹ رولز آف بزنس 2022 میں مجوزہ ترامیم پر غوروخوض کے بعد منتخب بلدیاتی نمائندوں کی طرف سے مذکورہ رولز آف بزنس میں تجویز کردہ تمام ترامیم سے اصولی اتفاق
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) بلدیاتی حکومتوں کے مسائل کے حل کےلئے ایک اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خا ن گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب، محکمہ بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام کے علاوہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے وفد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے وفد میں حمایت اللہ مایار، انعام اللہ، سردار شجاع نبی، فرہاد خان، عزیز اللہ آفریدی اور دیگر شامل تھے۔
اجلاس میں تحصیل لوکل گورنمنٹ رولز آف بزنس 2022 میں مجوزہ ترامیم پر غوروخوض کے بعد منتخب بلدیاتی نمائندوں کی طرف سے مذکورہ رولز آف بزنس میں تجویز کردہ تقریباً تمام ترامیم سے اصولی اتفاق کیا گیا جوحتمی منظوری کےلئے صوبائی کابینہ میں پیش کئے جائیں گے جبکہ بلدیاتی نمائندوں کے دیگر جائز مطالبات کےلئے الگ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ان ترامیم کی منظوری سے بلدیاتی حکومتیں مزید موثر اور با اختیار ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلدیاتی حکومتوں کو مالی اور انتظامی طور پربااختیار بنانے کےلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی حکومتیں مضبوط اور بااختیار ہونگی تو عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونگے اور بااختیار بلدیاتی نظام صوبائی حکومت اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے انہیں اختیارات بھی ملنے چاہئیں، موجودہ حکومت بلدیاتی نمائندوں کے مسائل حل کرنے کےلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تحصیل چیئرمینوں کی مالی مراعات 30 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 80 ہزار ماہانہ کردی گئیں ہیں، حال ہی میں بندوبستی اضلاع کے ویلیج اور نیبرہڈ کونسلز کےلئے 466 ملین جبکہ ضم اضلاع کے ویلیج اور نیبرہڈ کونسلز کےلئے 94 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔
اسی طرح بندوبستی اضلاع کے ٹی ایم ایز کےلئے 548 ملین جبکہ ضم اضلاع کے ٹی ایم ایز کےلئے 33 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں بلدیاتی حکومتوں کے تحت کھیلوں کی سرگرمیوں کےلئے 35 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، ضم اضلاع کے تحصیل چیئرمینوں کو گاڑیوں کی فراہمی اگلے چند دنوں میں مکمل کی جائے گی جبکہ بلدیاتی اداروں کے بقایاجات کی ادائیگیوں کےلئے خاطر خواہ فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کے مسائل حل کرنے میں ذاتی دلچسپی لینے پر بلدیاتی نمائندوں کے وفد نے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے 30 اکتوبر کو اپنا مجوزہ احتجاج کینسل کرنے کا اعلان کیا۔