گلگت،سرکاری سطح پر تقریبا چار سالوں میں مخلوط ناچ گانوں کا کوئی پروگرام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس قسم کی بے ہودہ اور ہمارے اسلامی اقدار کے منافی کسی سرگرمی کی اجازت دی جائے گی،وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن
گلگت(آئی آئی پی) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر تقریبا چار سالوں میں مخلوط ناچ گانوں کا کوئی پروگرام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس قسم کی بے ہودہ اور ہمارے اسلامی اقدار کے منافی کسی سرگرمی کی اجازت دی جائے گی۔ صوبائی سیکریٹری سیاحت کو سختی سے ہدایات دیئے جاچکے ہیں کہ اسلامی اقدار اور اصولوں کے منافی کسی سرگرمی کو برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام سے بھی اپیل ہے کہ غیر اسلامی اور غیر شرعی پروگرام کی حوصلہ شکنی کریں اور اس طرح کے ویڈیوز کو پھیلانے سے اجتناب کریں۔ بحیثیت مسلمان ہم سب کا فریضہ ہے کہ اسلامی اصولوں اور اقدار کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ نجی ٹی وی چینل کی جانب سے مخلوط ڈانس کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا حکومتی سطح پر سختی سے نوٹس لیا گیا اور اس وقت کے سیکریٹری سیاحت کو پروگرام میں شرکت کرنے پر کارروائی کی گئی۔
……………………………
.
گلگت، حکومت نے عوام کے معیار زندگی کوبہتر بنانے کیلئے 200 گھرانوں پر مشتمل تمام آبادیوں کو آر سی سی پل سے لنک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اب تک 24 نئے آر سی سی پل صوبے میں تعمیر کئے جاچکے ہیں،وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن
گلگت(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے عوام کی معیار زندگی کوبہتر بنانے کیلئے 200 گھرانوں پر مشتمل تمام آبادیوں کو آر سی سی پل سے لنک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اب تک 24 نئے آر سی سی پل صوبے میں تعمیر کئے جاچکے ہیں۔ سکردو چھومک پل کے بارے میں لوگ کہہ رہے تھے کہ اس منصوبے پر عمل نہیں ہوگا لیکن ہم نے چھومک پل کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ چند لوگ گلگت کی تعمیر و ترقی کو روک کر اپنا سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کیخلاف کہیں سے آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ ہم نے تقریبا ساڑھے چار سال بلا تفریق گلگت بلتستان کی خدمت کی ہے۔ کارڈک ہسپتال، کینسر ہسپتال، گلگت سکردو روڈ، شہید سیف الرحمن ہسپتال، گلگت نلتر ایکسپریس وے جیسے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ماضی میں اتنے بڑے میگا منصوبوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت کے سیوریج انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے بنایا لیکن موجودہ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کو ختم کیا۔ میڈیکل کالج، وومن یونیورسٹی جیسے اہم منصوبے ختم کئے۔ سابق وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے ہسپتالوں کیلئے 40 کروڑ کی جدید مشینری فراہم کی گئی۔ 60 کروڑ روپے شہید سیف الرحمن ہسپتال کی تعمیر کیلئے دیئے گئے۔ عوام کی خوشحالی کیلئے بہتری کیلئے سڑکیں اور پل بنارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے چند لوگ اس پر بھی سیاست کرتے ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے اپنے سہولت کیلئے نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنائے ہیں۔ ہم نے بلاتفریق علاقے کی خدمت کی ہے۔ پسند ناپسند پر نہیں بلکہ میرٹ پر کام کیا ہے۔ حکومتی اقدامات کی وجہ سے آج گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ گلگت بلتستان کا امن سب سے زیادہ ہمیں عزیز ہے۔ ہم نے امن کیلئے قربانیاں دیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے پہلے بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرتی تھیں لیکن کسی کو اس وقت خیال نہیں آیا۔ بگروٹ اورحراموش روڈ کا منصوبہ ہماری حکومت نے دیا ہے تاکہ ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ دیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے انجمن امامیہ کونسل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان میں لاشوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ ہم علمائے کرام کا احترام کرتے ہیں۔ کسی بھی حلقے سے جائز بات کی جائے گی تو ضرور سنی جائے گی لیکن کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرینگے۔ پسند ناپسند اور سفارش کلچر کے خاتمے کیلئے 11 سو آسامیوں کو بھرتیوں کیلئے ایف پی ایس سی بھجوادیا گیا۔ ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے صوبے میں ملازمت دی گئی تاکہ کسی حق تلافی نہ ہو۔ ہماری حکومت سے پہلے کرپشن، اقربا پروری عروج پر تھی۔ ہم نے اس کلچر کا خاتمہ کیا اور گڈ گورننس متعارف کروایا۔
گلگلت ؛ مخلوط گانوںکا کوئی پروگرام نہیںہوا ہےاورنہ اجازت دیجائیگی….وزیراعلیٰ
گلگلت ؛ مخلوط گانوںکا کوئی پروگرام نہیںہوا ہےاورنہ اجازت دیجائیگی….وزیراعلیٰ