The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 21 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کچھ غلط فہمیاں – تحریر: اقرارالدین خسرو

Chitral Times

کچھ غلط فہمیاں – تحریر: اقرارالدین خسرو

کچھ غلط فہمیاں – تحریر: اقرارالدین خسرو

کچھ غلط فہمیاں – تحریر: اقرارالدین خسرو

گزشتہ روز میرے مضمون کے شائع ہونے کے بعد کچھ دوستوں نے کمنٹ کیے تھے جن سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھی جن کا جواب ضروری سمجھتا ہوں ۔

پہلے نمبر پہ کچھ دوستوں نے کہا کہ گلگت کو گندم کی سبسڈی پرنس کریم آغاخان صاحب کی طرف سے دی جاتی ہے ۔ اور یہ پیشکش چترال کے لیے بھی کی گئی تھی جسکی جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے علماء نے مخالفت کی اور جماعت اسلامی کے سابق ناظم مغفرت شاہ کے دور میں اس آفر کو ٹھکرادی گئی ۔ یہ باتیں عام لوگ نہیں کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ دوستوں نے بھی اس قسم کے کمنٹ کیے ۔ جس کے بعد میں نے تحقیقات کی گلگت بلتستان کے کچھ زمہ دار افراد سے رابطہ کیا اسماعیلی برادری کے دوستوں گلگت کے کاروباری حضرات صحافی برادری اور اے کے ڈی این کے زمہ داروں سے بات کیں جس کے بعد چلا کہ اے کے ڈی این کا گلگت میں گندم سبسڈی سے کوئی تعلق نہیں یہ افواہ صرف چترال میں آپس میں غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جارہی ہے ۔ میں یہاں اے کے ڈی این کی کوئی مخالفت نہیں کر رہا چترال اور گلگت میں مختلف سیکٹرز میں انکی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں مگر اس سبسڈی کا اے کے ڈی این سے کوئی تعلق نہیں اگر پھر بھی کوئی دوست دلیل اور ثبوتوں کے ذریعے مجھے غلط ثابت کریں تو میں اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرونگا ۔

2۔ دوسری بات ہمیں گلگت طرز کی سبسڈی مانگنے سے پہلے گلگت اور چترال کی آئینی حیثیت کو سمجھنا ہوگا۔ ہم نے پاکستان سے الحاق کیا ہے اور گلگت کو بھارت سے چھینا گیا ۔ دو ملکوں کے درمیان باونڈریز کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ باونڈری ہوتی ہے جیسے واہگہ بارڈر اور دوسرے علاقوں میں ۔۔

ایک ورکنگ باونڈری ہوتی ہے جسکا مطلب ہے ایک طرف کا علاقہ غیر متنازعہ جبکہ دوسری طرف کا علاقہ متنازعہ ہو ۔
تیسری قسم ایل او سی کی ہے یعنی لائن آف کنٹرول جو کہ شملہ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان طےشدہ سرحد ہے جبکہ دونوں ممالک آگے تک علاقوں کے اوپر دعویٰ کر رہے۔ باونڈری کی ایک اور قسم لائن آف ایکچول کنٹرول ہے جسکی نوعیت لاین آف کنٹرول سے بھی مختلف ہے جو سیاچن میں چین اور بھارت کے درمیان ہے ۔

پہلے ہمیں باونڈریز کو سمجھنا ہوگا پھر دونوں علاقوں کی آئینی حیثیت کو سمجھنا ہوگا ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کا قرارداد 13 اگست 1948 کا مقبوضہ کشمیر آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات سے متعلق ہے جہاں روڈوں کی سہولت نہیں ہم اس قرارداد کی رو سے پیکج کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔ باقی گلگت والے اپنی آئینی حیثیت سے فائدہ اٹھارہے ہیں ہم نے اپنی حیثیت پاٹا ریگولیشن کا خاتمہ کرواکے چترال بازار میں میٹھائی تقسیم کی ۔ واحد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق اب بھی اس کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں اسے بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا ہوگا۔ اور ہمارا ختم شدہ کوٹہ صرف لوئیر چترال کے کوٹے میں ایک لاکھ 65 ہزار بوری گندم گذشتہ سال ہمیں نہیں دی گئی ان چیزوں کا مطالبہ ہم کرسکتے ہیں جو کہ ہمارے آئینی حقوق ہیں ۔
وما علینا الا البلاع ۔