The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈھڑکنوں کی زبان ۔ آزمائش کی کہانی شیر بہادر بھائی کی زبانی ۔ ۔محمد جاوید حیات 

Chitral Times

ڈھڑکنوں کی زبان ۔ آزمائش کی کہانی شیر بہادر بھائی کی زبانی ۔ ۔محمد جاوید حیات 

ڈھڑکنوں کی زبان ۔ آزمائش کی کہانی شیر بہادر بھائی کی زبانی ۔ ۔محمد جاوید حیات 

ڈھڑکنوں کی زبان ۔ آزمائش کی کہانی شیر بہادر بھائی کی زبانی ۔ ۔محمد جاوید حیات

یہ کہانی ایک بہت بڑی عبرت ناک آزماٸش کی کہانی ہے جو چترال کے آخری گاٶں سوریچ کے باشندوں پہ آٸی ہوٸی ہے ۔۔قرآن عظیم الشان میں اللہ نے اپنے بندوں کی آزماٸش کی خبر دی ہے کہ جان کی مال کی اولاد کی آزماٸش ہوگی اور کسی محبوب شئے کے چھن جانے کی آزماٸش ہوگی ۔۔آزماٸش کے زریعے رب اپنے بندوں کے صبر کا شکر کا اور بندگی کا امتحان لے گا اس سلسلے میں صبر کی تلقین کی گئی ہے ۔حالیہ آزماٸش سوریچ گاٶں کے باشندوں پہ آئی ہے ۔صرف چند منٹوں کے اندر تباہ کن سیلاب نے ان کے گاٶں کو ملیامیٹ کر دیا ہے ان کے سامنے ان کے گھر بار صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں ۔دو افراد جان کی بازی ہارے ایک زخمی ہے ۔مال میویشی ، فصلیں ،درخت ، اندوختے ختم ہوچکے ہیں زندگی کا نظام درہم برہم ہے نہریں ، سڑکیں ، بجلی ، پانی ناپید ہیں لوگ بے، گھر بےدر ہیں، کھلے آسمان تلے حیران و پریشان ہیں ۔

شیر بہادر بھاٸی علاقے کے سابق وی سی ناظم ہیں میں نےان کے برباد گھر کے سامنے کیچڑ الود چٹانوں پہ کھڑے ان سے ان کا دکھڑا سنانے کی درخواست کی ۔۔انہوں نے کہا کہ تیس جولائی کی رات صبح چاربجے میں بستر سے اٹھ باہر آیا میں نے أسمان کی طرف نگاہ کی موسم ابرا الود تھا کوٸی بوند نہیں پڑ رہی تھیں میں مطمین ہوا واپس جاکے سو گیا ۔خاتون خانہ اٹھیں اور باہر گٸیں ۔۔جب وہ باورچی خانے میں ناشتہ بنانے لگی تھیں تو بارش شروع ہوٸی ۔چند ثانیے بعد سیلاب آنے کی اطلاع دی گئی میں نے بچوں کو یکدم نیند سے اٹھاکے باہر نکلا تو سیلاب کا ریلاآ بھی چکا تھا آگے آگے ہم دوڑ رہے تھے پیچھے پیچھے سیلاب کا ریلا تھا ۔قیامت کا سماں تھا ہم سڑک پہ ساتھ ساتھ کم از کم نصف کلو میٹر دوڑتے رہے تب جاکے کہیں بچ گئے ہمارے پیچھے ایک بوڑھے کو اس کا بیٹا ریلے سے نہ بچا سکا خود گر کے زخمی ہوگیا باپ ریلے میں بہہ کر فوت ہوگیا ۔

ایک بیٹا ماں کو بچانے کی کوشش کررہا تھا ماں بار بار آواز دے رہی تھی کہ مجھے چھوڑو اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرو مامتا تڑپ رہی تھی ایک ماں اپنی بیمار بچی کو بچانے کی کوشش میں جان جان آفرین کو سپرد کی ۔شیر بہادر یہ سناتے جارہے تھے اور قیامت کے اس منظر پہ آنسو بہاتے جاریے تھے ۔انہوں نے کہا کہ صرف دس منٹ میں میرا خوبصرت گاٶں صفحہ ہستی سے مٹ گیا ۔نقصان کا تخمینہ لگاتے ہوۓ شیر بہادر بھاٸی نے کہا کہ اس گاٶں میں بہتر گھرانوں کو یا تو جزوی نقصان پہنچا ہے یا مکمل ختم ہو گئے ہیں ۔کئی دکانیں سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔ گرین گودام ،ہائی سکول ،جماعت خانہ کو نقصان پہنچا ہے ۔پانچ گاڑیاں ایک ٹریکٹر اور کٸ موٹر ساٸکلیں خراب ہو چکی ہیں ۔اس گاٶں میں اکثر لوگ اپنے مال میویشیوں کو گرمیوں میں اپنے گرماٸی گھروں مں لے جاتے ہیں اس لیے میویشیاں کم ضاٸع ہوٸی ہیں کھڑی فصلیں ،میوہ جات ختم ہیں ۔اس ندی کی صورت حال یہ ہے کہ کسی بھی وقت اس میں دوبارہ سیلاب آسکتا ہے اس کے اوپر گلیشر ہے وہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے ۔

لوگ خوفزادہ اور مایوس ہیں۔شیر بہادر بھاٸی سےامداد وغیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا کہ حکومت کے کارندے آۓ ۔۔نماٸندے آۓ مگر صرف وعدہ وعید تک بات ہوٸی ۔میں نے ڈپٹی اسپیکر اور ایم این اے کے سامنے بات کی میں نے ڈی سی صاحب سے کہا کہ آپ سے پہلے کم از کم پچیس ڈی سی صاحبان کو اسی ندی کے خطرات کے بارے میں قرار دادیں دیں جن کی کاپیاں موجود ہیں مگر انتظامیہ اور حکومت کے کان میں جون تک نہیں رینگتی اب صورت حال آپ کے سامنے ہے ۔ان کے پاس وعدوں کے سوا کچھ نہ تھا اور ابھی تک ان کی طرف سے رابطہ نہیں ہوا آج یہ واقعے کا پانچواں دن ہے البتہ اے سی کی تعریف کی کہ پہلے ہی دن پہنچے تھے ۔انہوں نے میر جمشید الدین اور منہاج کا شکریہ ادا کیا کہ بروقت پہنچے تھے ۔۔انہوں نے کہا کہ حوصلہ افزاٸی اپنی جگہ میں انتظامیہ اور سیاسی ورکروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن فوری مدد کو ممکن بنانا اصل خدمت ہے جو ابھی دیکھنے میں نہیں أٸی ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک غیر سرکاری تنظیمیں اور گاٶں کے رضاکار مدد کر رہے ہیں۔

الخدمت فاونڈیشن کے رضا کار پہنچے اسماعیلی فلاحی اداروں کے رضاکار دن رات کام کر رہے ہیں تحصیل تورکھو کے ہر گاٶں سے نقد امداد ،زندگی کی بنیادی ضروریات اور ساتھ رضاکار اپنے ساز و سامان کے ساتھ آکر متاثرین کی مدد کر رہے ہیں گاوں کی سطح مختلف تنظیمیں امدادی کیمپ بنائے ہیں ان میں نیک قدم تنظیم سرفہرست ہے یپ۔تنظیمیں باقاعدہ پیکیچز متاثریں تک پہنچارہی ہیں۔ ابھی تک پانی اور بجلی بحال کر دی گئی ہے اداروں کی طرف سے کھانا دیا جا رہا ہے ۔ متاثریں کو عارضی خیموں میں بسایا گیا ہے ۔آغاخان ہیلتھ اور سرکاری محکمہ صحت کی طرف سے صحت کی سہولیات کے لیے کوشش ہورہی ہے ۔شیر بہادر بھاٸی نے متاثرین کی اس خودی اور جرات کو بھی سلام پیش کیا کہ جس کو جس امدادی چیز کی مثلا ٹینٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں وہ لینے سے انکار کرتے ہیں ۔انہوں نےدوسرے گاٶں کے رضاکاروں کو سلام پیش کیا کہ وہ دن رات ایک کرکے امداد کے کاموں میں لگے ہوۓ ہیں ۔شیر بہادر بھاٸی کو خدشہ ہے کہ اب اس متاثرہ گاٶں میں رہنا شاید ممکن نہ ہو وہ حکومت سے عرض گزار ہیں کہ ان کی سکونت کے لیے مستقل کوٸی بندوبست کیا جاۓ ۔منظر بڑا عبرتناک تھا ۔۔اللہ متاثریں کو متبادل خوشیاں عطا کرے اور ان کو ہمت دے ۔

sorerech torkhow flood 13 sorerech torkhow flood 10 sorerech torkhow flood 8 sorerech torkhow flood 23 sorerech torkhow flood 1 chitraltimes koghuzi bridge restored 1