چترالی شدت پسند ہو ہی نہیں سکتا ۔ تحریر: انعام رضا
چترال کے تاریخی اوراق کو ٹٹولیں تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ جس طرح باقی دنیا میں معاشرے، سماجی ارتقاء کے مراحل سے گزرتی ہیں ٹھیک اسی طرح ہم نے بھی وہ ارتقائ منازل طے کئے ہیں۔۔۔
یعنی
استحصال سے استحکام کا سفر!
بھوک و ننگ سے شکم سیر ہونے کا سفر!
جہالت کے اندھیرے سے تعلیم کے روشنی کا سفر!
۔
اس دوراں جو بھی لوگ باہر سے آئے چاہے وہ کرنل ڈیورنڈ ہو، ربرٹسن ہو یا شومبرگ، سب نے ہی اس معاشرے کے ڈارک سائیڈز کا تزکرہ کیا اور دل کھول کے تنقید بھی کی۔۔۔ ہمیں سست، جھوٹا، تواہم پرست اور کئ اور القابات سے نوازا۔۔
لیکن
ان تمام تر خامیوں کے باوجود ایک وصف جس سے سبھی مورخ اتفاق کرتے ہیں کہ اس معاشرے میں “شدت پسندی” بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔ یہ خوبی ایک چترالی کردار کے سہرا اسلیئے جاتا ہے کہ کثیر المزہبی/مسلکی ہونے کے باوجود بھی کوئ ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس سے آپ ایک چترالی کردار کو شدت پسند گرداں سکیں۔۔۔۔ریاستی سرپرستی میں جو استحصال ہوا ہے اس میں عام چترالی کو زمہ دار نہیں ٹھرایا جا سکتا۔۔۔ یعنی یہ بات تاریخی طور پر ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم میں ہزار برائیاں سہی لیکن ہم شدت پسند نہیں ہو سکتے۔۔۔
تاریخی ائینے کو سائڈ پہ رکھ کے آج کے دن میں چھلانگ لگائیں تو علم کی روشنی اور باہر دنیا سے شناسائ کی بابت ہمارے اندر وہ تمام برائیاں کم ہوتی جارہی ہیں
لیکن!
مذہبی اعتدال کو لیکر ہم مخالف سمت نکل پڑے ہیں۔۔۔ آبادی کا اچھا خاصا حصہ شدت پسندی کی طرف مائل ہے جس کا عملی مظاہرہ سوشل میڈیا کمپینز اور چترال کے اندر منعقد ہونے والے پروگرامات سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔
اس کا زمہ دار کوں ہے؟ کوں لوگ ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ڈاون ٹاونز کی طرح یہاں پہ بھی شدت پسندی کو ہتھیار بنا کے کنٹرول اپنے پاس رکھا جائے۔۔۔
میں توپوں کا رخ کسی خاص فریق کی طرف فالحال نہیں کر رہا البتہ پڑھے لکھے چترالی کو اندعا ضرور دوں گا کہ ایک سوشل انجینیرنگ کی جا رہی ہے جس کی ذد میں ہم سبھی آئیں گے۔