پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات، انتخابی نشان کیس، فیصلہ محفوظ
پشاور( چترال ٹائمزرپورٹ)پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات، انتخابی نشان کے معاملے اور الیکشن کمیشن کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے درخواست کی سماعت کی۔دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہ الیکشن کمیشن کی ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی استدعا ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی ا?ئی کو نوٹس جاری کیا، انٹرا پارٹی الیکشن پی ٹی ا?ئی نے صحیح طریقے سے نہیں کرائے، الیکشن کمیشن کے اختیارات پر سوال اٹھائے گئے، کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر ا?ئینی ہے، سنگل بینچ نے انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا، الیکشن کمیشن کو سنے بغیر حکمِ امتناعی جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن اس میں فریق تھا اس کو نہیں سنا گیا، وفاقی حکومت کیس میں فریق ہی نہیں ہے، الیکشن کمیشن ایک با اختیار ادارہ ہے، اسے اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے،
انہوں نے جو ریلیف دیا وہ پورا فیصلہ ہے اس کے بعد کچھ نہیں بچا، الیکشن کمیشن کو سنے بغیر ایسا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سنا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل صوبائی اور وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں، پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی، ایک عدالت منتخب کی تو پھر دوسری میں نہیں جا سکتے، اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے بھی ہیں۔جسٹس اعجاز خان نے سوال کیا کہ اس کیس میں درخواست گزار پارٹی سے کوئی موجود ہے؟الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمیں کوئی نظر نہیں آ رہا، یہ خبر تو پورا دن نیوز چینلز پر چلی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ ان کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہے، ہماری استدعا ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے، ڈویڑن بینچ قائم کیا جائے تاکہ کیس کی سماعت صحیح طریقے سے ہو سکے، دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے، ہماری نگراں صوبائی حکومت ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں اس کیس سے نکالا جائے، اگر ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو پھر عدالت کی معاونت کریں گے۔جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا بھی یہی مو قف ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہمارا بھی یہی مو قف ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ صرف صوبے تک فیصلہ کر سکتی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہوئے ہیں۔دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔دوران سماعت عدالت نے پی ٹی آئی وکیل کی استدعا پر درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں کل تک دائر کی جاسکیں گی
اسلام آباد(سی ایم لنکس)آئندہ عام انتخابات 2024 کے لئے ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں بدھ تک دائر کی جاسکیں گی، جن پر فیصلوں کے لئے 24 اپیلٹ ٹربیونلز قائم کئے گئے ہیں جو 10 جنوری تک ان اپیلوں کو نمٹائیں گے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق 25 سے 30 دسمبر تک ریٹرنگ افسران کی جانب سے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر کل 25 ہزار 951 کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے جن میں سے 22 ہزار 711 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکیں گی۔ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 13 جنوری تک ہوگی، ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں 16 جنوری تک جبکہ اپیلیٹ ٹربیونل کی جانب سے ان اپیلوں پر فیصلہ19 جنوری کو ہوگا۔امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 20 جنوری کو جبکہ کاغذات نامزدگی 22 جنوری کو واپس لئے جاسکیں گے۔ امیدواروں کی فہرست 23 جنوری کو جاری کی جائے گی۔ جنرل نشستوں پر امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست 11 جنوری کو شائع کی جائے گی۔کاغذات نامزدگی 12 جنوری کو واپس لئے جاسکیں گے۔امیدواروں کو انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 13 جنوری کو ہوگی جبکہ پولنگ 8 فروری کو ہوگی۔
